اپ ڈیٹ: 11 November 2019 - 13:28
غرب اردن کے شہر الخلیل میں ایک اسکول پر جہاں پی ایل او کے لیڈر یاسرعرفات کی برسی منائی جارہی تھی، صیہونی فوجیوں کا حملہ اگرچہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کے روزانہ کے حملوں کی طرح تھا لیکن اس موقع پر یہ حملہ غزہ میں صیہونی فوج کے کمانڈوز کی کارروائی سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش تھی جس کے دوران صیہونی فوجی حماس کے ایک کمانڈر کو اغوا کرنا چاہتے تھے۔
خبر کا کوڈ: ۳۰۲۲
تاریخ اشاعت: 15:15 - November 13, 2018

غزہ پر صیہونی فوج کے حملے کی ناکامیمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، غزہ سے موصولہ خبروں میں کہا گیا ہے کہ حماس کے فوجی بازو عزالدین قسام بریگیڈ نے پوری ہوشیاری کے ساتھ صیہونی فوج کے کمانڈوز کی کارروائی کو ناکام بنا دیا اور پھر فلسطینیوں اور صیہونی فوجیوں کے درمیان گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی-

اتوار اور پیر کی درمیانی رات ہونے والی اس جنگ کے ابتدائی نتیجے میں عزالدین قسام بریگیڈ کے متعدد مجاہدین شہید اور اسرائیلی فوج کا ایک اہم  کمانڈر ہلاک ہو گیا لیکن اس جنگ کا انجام اسرائیل کے لئے کیا ہو گا اس کی خبر کسی کو نہیں ہے- 

خاص طور پر ایسے وقت جب فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے جنگی طیارے اسرائیلی فوج کے خصوصی کمانڈوز کے دستے کی پشتپناہی اور انہیں جنگ والے علاقے سے دور کرنے کے لئے وہاں پر بمباری کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ اسرائیلی کمانڈوز فلسطینیوں کے محاصرے میں ہیں-

اس کے علاوہ صیہونی فوج نے غزہ کے علاقے خان یونس کی اپنی کارروائیوں کی  ناکامی کی شدت کو کم کرنے کے لئے غزہ کی سرحد کی جانب مزید فوجی روانہ کر دیئے ہیں اور آئرن ڈوم ڈیفنس سسٹم کی غزہ کی سرحد پر تقویت کر دی ہے-

صیہونی حکومت کے ٹیلی ویژن چینل دس نے اس خبر کی تصدیق کر دی ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے حماس کے فوجی بازو عزالدین قسام بریگیڈ کے ایک کمانڈر نوربرکہ کو اغوا کرنے کے لئے غزہ کے علاقے خان یونس پر حملہ کیا تھا-

لیکن صیہونی فوج کے ترجمان رونن مانلیس نے دعوی کیا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد حماس کے کمانڈر کو قتل کرنا نہیں بلکہ اسرائیلی فوج کے خصوصی کمانڈوز کا مشن اسرائیل کی فوجی برتری کا تحفظ تھا-

دوسری جانب صیہونی ویب سائٹ دیبکا فائل نے بھی اس کارروائی کی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ صیہونی فوجی کمانڈوز پر جیسے ہی فلسطینیوں کی جانب سے شدید جوابی فائرنگ کی گئی انہوں نے آپریشنل روم سے مدد کی درخواست کر دی اور نتیجے میں صیہونی فوج نے اپنے کمانڈوز کو بچانے کے لئے فضائیہ کا سہارا لیا-

فوجی امور کے صیہونی تجزیہ نگار عاموس ہارئیل نے بھی اسرائیلی اخبار ہاآرتز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو غزہ میں جتنی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی ہے اس کو کسی بھی قیمت پر فراموش نہیں کیا جا سکتا اور آئندہ جنگوں میں اسرائیل کو جو قیمت اداکرنا پڑے گی وہ بہت ہی سنگین اور خطرناک ہو گی-

صیہونی تجزیہ نگار عاموس ہارئیل کا یہ بیان شاید اس بنیاد پر ہو کہ فلسطین کے استقامتی گروہوں نے صرف چالیس منٹ میں صیہونی فوج کی جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں ایک سو راکٹ اور مارٹر سے اسرائیلی ٹھکانوں پر حملہ کیا-

اسرائیلی ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فلسطین کے استقامتی گروہوں کے دسیوں راکٹ مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی ٹھکانوں پر گرے اور غزہ کے مضافات میں انتہا پسند صیہونیوں کو لے کر جانے والی ایک بس بھی فلسطینیوں کے راکٹ کی زد میں آئی-

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں