انقلاب کے شہید رہبر کے خون کی برکت سے آج قومی یکجہتی قائم ہے، جنرل الہامی

خاتم الانبیاء مشترکہ فضائی دفاعی ہیڈکوارٹر کے کمانڈر نے قومی اتحاد کو اسلامی نظام کی طاقت کے بنیادی عناصر میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ یکجہتی تمام شہداء بالخصوص رہبرِ شہیدِ انقلاب کے پاک خون کی برکت سے حاصل ہوئی ہے۔
خبر کا کوڈ: 6036
تاریخ اشاعت: 07 July 2026 - 07:20 - 29September 2647

خاتم الانبیاء مشترکہ فضائی دفاعی ہیڈکوارٹر کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل «علی رضا الہامی» اور فوج کی فضائی دفاعی فورس کے کمانڈر نے رہبرِ شہیدِ انقلاب اسلامی کے جسدِ مطہر کی تشییع کی تقریب کے موقع پر دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے امامِ شہید کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا اور ملک بھر میں قائم ہونے والی قومی یکجہتی کو بے مثال قرار دیتے ہوئے کہا: "یہ یکجہتی، جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی، تمام شہداء خصوصاً ہمارے رہبرِ شہید کے پاک خون کی برکت سے حاصل ہوئی ہے۔ وہ اپنی حیات میں بھی ملک کے لیے باعثِ برکت تھے اور شہادت کے بعد بھی انہوں نے رہنمائی کی اور ہمارا راستہ روشن کیا”۔

جنرل الہامی

بریگیڈیئر جنرل الہامی نے گزشتہ چند ماہ کے دوران قوم کے اتحاد اور رہبرِ شہید کے جسدِ مطہر کی الوداعی اور تشییع کی تقریب میں عوام کی تاریخی شرکت کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا: "ان دنوں عوام کی جانب سے جو منظر ہم دیکھ رہے ہیں، وہ ان کی بلند ولائی بصیرت، نظام کے لیے ان کی خیرخواہی اور مضبوط پشت پناہی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہی وہ طاقت ہے جسے اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور آج بہت کم ممالک ایسی طاقت پیدا کرنے والے عناصر سے بہرہ مند ہیں۔ حقیقت میں یہی یکجہتی ہماری قومی طاقت کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے”۔

انہوں نے رہبرِ شہید کی ذاتی خصوصیات کے بارے میں کہا: "اتنی عظیم شخصیت کے بارے میں گفتگو کرنا انتہائی دشوار ہے لیکن ایک سپاہی کی حیثیت سے ہمیں اپنے عزیز کمانڈر اور ہمارے شہید ولیِ فقیہ کی جو خصوصیات یاد ہیں، وہ ان کی شجاعت، دانائی، غیر معمولی ذہانت، نظام اور عوام کے تمام طبقات کے لیے خیرخواہی، اور مسائل اور ضروریات کے حل میں ان کا دو ٹوک انداز ہے”۔

خاتم الانبیاء مشترکہ فضائی دفاعی ہیڈکوارٹر کے کمانڈر نے مزید کہا: "میں قائدِ شہیدِ امت کی اخلاقی صفات کے بارے میں جتنا بھی بیان کروں، کم ہے اور حقیقت یہ ہے کہ الفاظ ان کی عظمت کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ رہبرِ شہیدِ انقلاب اس قدر عظیم اور توصیف سے بالاتر شخصیت تھے کہ کوئی لفظ ان کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ مجھے امید ہے کہ وہ ہم سے راضی ہوں گے اور ہم ان کے راستے کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دے سکیں گے”۔

بریگیڈیئر جنرل الہامی نے رہبرِ شہید کے حوالے سے آج ایرانی عوام کی ذمہ داری بیان کرتے ہوئے کہا: "اگرچہ اپنے رہبرِ شہید سے محرومی کو قبول کرنا انتہائی دشوار ہے اور شاید ہم ابھی تک اس حقیقت کو پوری طرح تسلیم نہیں کر سکے لیکن آج ان کے لائق فرزند، ہمارے عزیز رہبر حضرت امام سید مجتبیٰ حسینی خامنه‌ای کی بابرکت موجودگی ہمارے لیے اطمینان اور مضبوط سہارا ہے”۔

انہوں نے مزید کہا: "اگرچہ ہم نے اپنے امامِ شہید کو کھو دیا ہے لیکن ہمارے دل اپنے عزیز رہبر کی موجودگی سے مطمئن ہیں۔ آج ایران کی معزز ملت کی اہم ترین ذمہ داریوں میں سے ایک یہ ہے کہ قائدِ شہید کی یاد کو ہمیشہ زندہ رکھنے کے ساتھ ساتھ متحد ہو کر اپنے عزیز کمانڈر، امام سید مجتبیٰ خامنہ ای کی پیروی کرے اور ان شاء اللہ وہ ملک کو اس منزل تک پہنچائیں گے جو رہبرِ شہید کی خواہش تھی”۔

فوج کی فضائی دفاعی فورس کے کمانڈر نے اپنی فورس کی صلاحیتوں کے بارے میں بھی کہا: "فضائی دفاعی فورس اپنی بنیادی ذمہ داری یعنی ملک کی فضائی حدود اور فضائی سرحدوں کے تحفظ کو پوری توانائی کے ساتھ انجام دے رہی ہے”۔

بریگیڈیئر جنرل الہامی نے کہا: "اس وقت ہمارے رفقائے کار ملک کے دور دراز علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں جبکہ میرے دیگر ساتھیوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی مکمل رضاکارانہ طور پر اور دلی جذبے کے تحت، بغیر کسی حکم کے، ہمارے رہبرِ شہید کے زائرین کی خدمت کے لیے موکب قائم کیے ہیں اور تہران، قم اور مشہد میں برقرار مواکب میں زائرین کی خدمت میں مصروف ہیں۔ یہ بھی فضائی دفاعی فورس کے لیے ایک اور اعزاز ہے کہ وہ اپنی تنظیمی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اس موقع پر بھی ایران کی باشعور قوم کے شانہ بشانہ موجود ہے اور ان کی خدمت انجام دے رہی ہے”۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً