ایران کی دفاعی خود مختاری شہید رہبر کا اسٹریٹجک ورثہ ہے، جنرل طلائی نیک

ڈیفنس منسٹری اینڈ آرمڈ فورسز سپورٹ کے ترجمان نے کہا کہ دشمنوں کی ہمہ جہت پابندیوں اور دباؤ نے نہ صرف ایران کی ترقی کو نہیں روکا بلکہ انقلاب کے شہید رہبر کی تدبیر کے باعث ملک کو دفاعی خودکفالت، پائیدار ڈیٹرنس اور اسٹریٹجک طاقت سے ہمکنار کر دیا۔
خبر کا کوڈ: 6037
تاریخ اشاعت: 07 July 2026 - 19:08 - 29September 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی امور کے گروپ کے مطابق، ڈیفنس منسٹری اینڈ آرمڈ فورسز سپورٹ کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے انقلاب اسلامی کے شہید رہبر کی تشییع کی تقریب میں عوام کی لاکھوں میں شرکت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس تقریب میں عوام کی وسیع اور بھرپور شرکت، ایرانی قوم کی جانب سے انقلابِ اسلامی، حریت، آزادی، جمہوری اسلامی اور قائدِ شہید کی متعین کردہ راہ کے ساتھ تجدیدِ عہد و بیعت کی علامت ہے اور یہ اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ ملت اور قیادت کے درمیان تعلق ایک گہرا، عقیدتی اور ناقابلِ انفصال رشتہ ہے۔

جنرل طلایی‌نیک

جنرل طلائی نیک نے کہا کہ امت کے قائدِ شہید کا مکتب، واقعۂ عاشورا کی طرح آئندہ نسلوں کے لیے بھی سرچشمۂ الہام ثابت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح عاشورا کا پیغام صدیوں بعد بھی دنیا بھر کے حریت پسندوں کے لیے مشعلِ راہ ہے، اسی طرح رہبرِ شہیدِ انقلابِ اسلامی کی فکر، سیرت اور مکتب بھی طاغوت، ظلم اور بالادستی کی خواہش کے خلاف قوموں کی جدوجہد کی راہ کو واضح کرتا رہے گا اور عصرِ حاضر کی تاریخ میں ایک دائمی سرمایہ کے طور پر باقی رہے گا۔

ڈیفنس منسٹری کے ترجمان نے انقلابِ اسلامی کی کامیابی کے بعد ایران کے خلاف امریکہ اور مغربی ممالک کی معاندانہ پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انقلاب سے قبل ملک کا دفاعی ڈھانچہ مغربی طاقتوں پر وسیع پیمانے پر انحصار کرتا تھا، تاہم ہمہ گیر پابندیوں اور عسکری تعاون کے خاتمے نے اسلامی جمہوریہ ایران کو اندرونی صلاحیتوں پر انحصار کی جانب گامزن کیا اور یہی دباؤ دفاعی خودکفالت اور مقامی دفاعی صنعتوں کی ترقی کا سبب بنا۔

جنرل طلائی نیک نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آج اسلامی جمہوریہ ایران مقامی علم، سائنسی اور ٹیکنالوجی صلاحیتوں اور ملکی ماہرین کی حمایت پر انحصار کرتے ہوئے دفاعی ساز و سامان اور مختلف ڈیفنس سسٹمز کی ایک وسیع رینج کو مکمل طور پر مقامی سطح پر ڈیزائن اور تیار کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف پابندیوں کو غیر مؤثر بنانے کا باعث بنی بلکہ ایران کو دفاعی ساز و سامان برآمد کرنے والے ممالک کی صف میں بھی شامل کر دیا ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ رہبرِ شہیدِ انقلابِ اسلامی ہمیشہ علم، ٹیکنالوجی اور خود انحصاری کو قومی طاقت کا بنیادی ستون قرار دیتے تھے۔ ان کے اسٹریٹجک وژن نے اسلامی جمہوریہ ایران کو آج مؤثر ڈیٹرنس اور لوکل ڈیفنس صلاحیت سے آراستہ کر دیا ہے جبکہ حالیہ جنگ کے تجربات ان دفاعی صلاحیتوں کو پہلے سے بھی زیادہ مضبوط اور مؤثر بنائیں گے۔

ڈیفنس منسٹری کے ترجمان نے حالیہ جنگ میں دشمن کے مقاصد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کا خیال تھا کہ رہبرِ انقلاب، عسکری کمانڈرز، سائنس دانوں کی ٹارگٹ کلنگ اور رہائشی علاقوں پر حملوں کے ذریعے وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کو منتشر اور کمزور کر دے گا لیکن نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلا اور قومی یکجہتی، عوامی حمایت اور نظام کی طاقت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ میدان میں عوام کی بھرپور موجودگی، ملک کے دفاع کے لیے ایثار کے جذبے اور آمادگی میں اضافے نیز میدانِ عمل میں دشمن کے اہداف کی ناکامی نے ثابت کر دیا کہ امریکہ اور صیہونی حکومت کے تمام اندازے غلط ثابت ہوئے اور اسلامی جمہوریہ ایران اس تاریخی آزمائش سے پوری طاقت اور اقتدار کے ساتھ سرخرو ہو کر نکلا۔

جنرل طلائی نیک نے خطے اور عالمی معاملات کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کی بنیادی پالیسی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران عزت و اقتدار کے ساتھ سفارت کاری کے راستے پر گامزن ہے، تاہم کسی بھی جارحیت یا تیس لائنز کی خلاف ورزی کی صورت میں مؤثر، فیصلہ کُن اور متناسب جواب دے گا اور ماضی کے تجربات بھی دشمنوں پر اس حقیقت کو واضح کر چکے ہیں۔

انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ آج اسلامی جمہوریہ ایران عوامی حمایت، اندرون ملک صلاحیتوں، دفاعی شعبے کے گراں قدر تجربات اور رہبرِ معظمِ انقلابِ اسلامی، حضرت آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں قومی طاقت کے استحکام، ڈیٹرنس کے فروغ اور پائیدار قومی سلامتی کے سفر کو پوری طاقت کے ساتھ جاری رکھے گا۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں