عنقریب ایسا ہتھیار منظرِ عام پر لایا جائے گا جس سے دشمن خوفزدہ ہو جائے گا، ایڈمرل ایرانی
دفاعی و سکیورٹی گروپ، دفاع پریس کے مطابق، ایڈمرل شہرام ایرانی، اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ کے کمانڈر نے ایک ٹیلی ویژن گفتگو میں ایران کے بحری مقام پر زور دیتے ہوئے کہا:اسلامی جمہوریہ ایران بحری بنیاد پر قائم ملک ہے؛ شمال اور بالخصوص جنوب میں دنیا کی 9 اہم ترین آبی گذرگاہوں میں سے 3 کلیدی گذرگاہیں ایران کے جغرافیائی دائرہ کار میں واقع ہیں، جن میں سب سے اہم آبنائے ہرمز ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ خطہ ہمیشہ دشمنوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے اور وہ مسلسل اس پر تسلط حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ آٹھ سالہ دفاعِ مقدس کے دوران بھی یہی صورتحال دیکھی گئی اور 7 آذر[ایرانی شمسی مہینہ] کے شہداء اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں۔
دشمن کے اندازے “فوجی مذاق” بن گئے
ایڈمرل ایرانی نے کہا کہ دشمن نے گن بوٹ حکمتِ عملی اور میزائل پلیٹ فارمز پر انحصار کرتے ہوئے یہ سمجھا کہ وہ چند دنوں یا ایک ہفتے میں اپنے اہداف حاصل کر لے گا، مگر آج یہی اندازے عالمی عسکری اداروں میں “فوجی مذاق” بن چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دشمن کو ایک مضبوط دفاع کا سامنا کرنا پڑا، جو دراصل ایک زوردار اور فیصلہ کن جوابی ضرب تھی۔
عوام اور افواج کی ہم آہنگی
انہوں نے کامیابیوں میں عوام کے کردار کو بنیادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام کے انقلابی اور اسلامی جذبے نے میدانِ عمل میں غیر معمولی کردار ادا کیا جبکہ مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی، خصوصاً بحری محاذ پر، فیصلہ کن ثابت ہوئی۔
خلیجِ فارس کا فیصلہ کن کردار
ایڈمرل ایرانی نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ خلیجِ فارس محض ایک جغرافیائی نام نہیں، بلکہ اس کے پانیوں کا ہر قطرہ دشمن پر برسنے والے ہتھیار کی مانند ثابت ہوا۔ دشمن کو اس حقیقت کا ادراک اس وقت ہوا جب وہ ناقابلِ تلافی نقصان اٹھا چکا تھا۔
دشمن کی بحری نقل و حرکت اور ایران کا جواب
انہوں نے کہا کہ دشمن نے ناکامی کے بعد بحری طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی افواج کو شمالی بحرِ ہند تک منتقل کیا، تاہم وہاں بھی اسے ایران کی جانب سے سخت اور فیصلہ کن مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے دشمن کے اقدامات کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے تعلیمی اداروں پر حملوں اور شپ ڈسٹرویردنا پر حملے کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا کیونکہ جنگی اصولوں کے مطابق غیر متحرک جہاز پر حملہ نہیں کیا جاتا بلکہ اس کی مدد کی جاتی ہے۔
شپ ڈسٹرویر“آبراهام لنکن” پر میزائل کارروائیاں
ایڈمرل ایرانی نے انکشاف کیا کہ دشمن کی وسیع بحری موجودگی، بشمول “آبراهام لنکن” شپ ڈسٹرویر گروپ کے باوجود ایران نے اس کے خلاف 7 میزائل کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں وہ عارضی طور پر فضائی آپریشن انجام دینے سے قاصر رہا۔
آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول
انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے اور دشمن کی کسی بھی نقل و حرکت کا فوری اور عملی جواب دیا جائے گا۔
مواصلاتی ڈھانچے اور شاہراہوں کی ایک ہفتے سے بھی کم مدت میں بحالی
ایڈمرل نے حکومتی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا یہ مناسب ہے کہ ہم حکومت کا شکریہ ادا کریں جس نے شعبۂ مواصلات میں ملک کی فنی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا؛ اس حد تک کہ وہ پل جو دشمن کے حملوں کا نشانہ بنے تھے، ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں دوبارہ چالو کر دیے گئے اور مواصلاتی رابطے بحال کر دیے گئے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ دشمن یہ بات ذہن نشین کر لے کہ یہ صلاحیت صرف ایک شعبے تک محدود نہیں، بلکہ تمام میدانوں میں موجود ہے اور بحری شعبے میں بھی ملکی بنیادی ڈھانچہ اسی اصول پر استوار کیا گیا ہے۔
ایڈمرل ایرانی نے واضح کیا ہم قومی سطح پر سوچتے اور قومی سطح پر عمل کرتے ہیں اور ہماری استعداد صرف بحریہ تک محدود نہیں۔ اگر شپ ڈسٹرویردنا تیار ہوا، سمندر میں اترا اور ملک کے لیے باعثِ فخر بنا تو یہ پورے ملک کے صوبوں کی مشترکہ کاوش کا نتیجہ تھا؛ اس طرح کہ ایران کے ہر حصے نے اس جنگی جہاز کی تیاری میں اپنا کردار ادا کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے رفقائے کار نے اس پیچیدہ اور بھاری ذمہ داری کو کامیابی سے انجام دیا اور اپنی عملی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
جہاز سازی کی صنعت کا آغاز “سبلان” کی بحالی سے
ایڈمرل نے مزید کہا جمہوریہ اسلامی ایران نے ہمیشہ بحری میدان کو خصوصی اہمیت دی ہے اور انقلابِ اسلامی کے بعد اس پر مزید سنجیدگی سے کام کیا گیا۔ ملک میں جہاز سازی کی صنعت دفاعِ مقدس کے بعد بتدریج پروان چڑھی، جس کا نقطۂ آغاز شپ ڈسٹرویر سبلان کی بحالی تھا— وہی جنگی جہاز جس پر 29 فروردین 1367 شمسی کو امریکی افواج نے لیزر گائیڈڈ بم سے حملہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اسی مرحلے سے فنی مہارت کی بنیاد رکھی گئی اور آج ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ نہ صرف دنا جیسے جدید شپڈسٹرویر تیار کر چکے ہیں بلکہ بھاری جنگی جہازوں کی تیاری بھی جاری ہے۔
دفاعی صلاحیت اور خود انحصاری
انہوں نے کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں مکمل طور پر اندرونی وسائل اور مقامی ماہرین کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔ شپ ڈسٹرویردنا کی تیاری پورے ملک کی مشترکہ کوششوں کا مظہر ہے جبکہ مستقبل میں بھاری جنگی جہاز بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔
نئے ہتھیار کی جلد رونمائی
ایڈمرل ایرانی نے زور دیتے ہوئے کہا عنقریب بحری میدان میں ایسی دفاعی صلاحیتیں منظرِ عام پر لائی جائیں گی کہ دشمن اس ہتھیار کو دیکھ کر خوفزدہ ہو جائے گا۔
دشمن کا “بحری دہشت گردی” کی طرف رجحان
انہوں نے کہا کہ دشمن کی موجودہ سرگرمیاں روایتی سمندری قزاقی سے بھی آگے بڑھ چکی ہیں اور اب یہ “بحری دہشت گردی” کی شکل اختیار کر چکی ہیں، جس میں حتیٰ کہ ملاحوں کے اہلِ خانہ کو بھی یرغمال بنایا جا رہا ہے۔
دشمن پر عدم اعتماد
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو دشمن پر کبھی اعتماد نہیں رہا اور حتیٰ کہ کسی ممکنہ امن معاہدے کی صورت میں بھی یہ عدم اعتماد برقرار رہے گا کیونکہ دشمن کی فطرت عہد شکنی پر مبنی ہے۔
دفاعی تیاری اور مستقبل کی حکمتِ عملی
انہوں نے کہا کہ ایران اپنی دفاعی تیاری کو مسلسل بڑھا رہا ہے اور جنگی تجربات کو جدید ہتھیاروں اور سسٹمز کی ترقی میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام ساز و سامان مقامی طور پر تیار کیے جا رہے ہیں اور نئی نسل کے ماہرین پہلے سے زیادہ تجربہ کار اور مؤثر ہیں۔
چار جہتی آپریشنز کی تیاری
انہوں نے وضاحت کی کہ بحریہ اپنی تیاری چار جہات—سمندر کی تہہ، زیرِ سطح، سطح اور فضا—میں مکمل کر رہی ہے، جہاں انسان بردار اور بغیر پائلٹ سسٹمز کو یکجا کر کے استعمال کیا جائے گا۔
ایڈمرل ایرانی نے کہا کہ مسلح افواج کا ہر فرد وطن پر قربان ہونے کے لیے تیار ہے اور دشمن کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر آج ایران کی طاقت ایک اعلی مقام پر ہے تو مستقبل میں اس سے کئی گنا زیادہ طاقت میدان میں آئے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ دشمن کے جرائم تاریخ میں ایک مستقل داغ کے طور پر ثبت ہوں گے جسے وہ کبھی مٹا نہیں سکے گا۔
