انقلاب کے شہید رہبر کے تاریخی نہیں! کی داستان؛ میزائل درآمد کرنے سے انکار کی روایت

شہید رہبر اور انقلاب اسلامی کے حکیم نے انحصار کرنے کے اسٹریٹجک جال کو گہرائی سے سمجھتے ہوئے ایک دوٹوک نہیں کے ذریعے ملک کی دفاعی صنعت کا رخ خود مختاری اور ترقی کی جانب موڑ دیا۔
خبر کا کوڈ: 6039
تاریخ اشاعت: 08 July 2026 - 07:43 - 30September 2647

تحریر: محمد زرچینی (دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ)

اسلامی جمہوریۂ ایران کی میزائل اور دفاعی صنعت آج قومی ڈیٹرنس کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر خود اعتمادی کی درخشاں ترین قومی کامیابیوں میں شمار ہوتی ہے لیکن اس مقام تک پہنچنا نہ تو یکایک جدید ٹیکنالوجی کے حصول کا نتیجہ تھا اور نہ ہی عالمی اسلحہ منڈیوں سے وسیع پیمانے پر درآمدات کا بلکہ اس کی بنیاد ریاست کی اعلیٰ ترین سطح پر کیے گئے ایک اسٹریٹجک، تاریخی اور جرات مندانہ فیصلے میں پوشیدہ ہے۔

ایک ایسا مرحلہ بھی آیا جب بعض افراد نے ظاہری معاشی حساب کتاب اور فوری ضرورت کو بنیاد بناتے ہوئے بیرون ملک سے "کم اور پُرکشش قیمت" پر تیار میزائل خریدنے کی تجویز پیش کی لیکن رہبرِ شہیدِ انقلابِ اسلامی، حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے انحصار کرنے کے اسٹریٹجک جال کو گہرائی سے سمجھتے ہوئے ایک دوٹوک "نہیں" کہہ کر ملک کی دفاعی صنعت کا رخ بدل دیا۔

میزائل پروگرام

آپ نے واضح حکم دیا: "خود بناؤ”۔

اس فیصلے نے نہ صرف ایک دفاعی صنعت کی بنیاد رکھی بلکہ مسلح افواج میں عدمِ وابستگی اور خود کفالت کی ثقافت بھی راسخ کر دی۔

یہ رپورٹ مرحوم سپریم کمانڈر، حضرت آیت اللہ العظمیٰ شہید سید علی خامنہ ای کے مختلف ادوار کے بیانات اور دستاویزات کا جائزہ لیتے ہوئے اس اہم دفاعی نظریے کی تشکیل کے مراحل کی وضاحت کرتی ہے۔

رہبرِ انقلاب کی جانب سے اہم دفاعی ہتھیاروں کی درآمد پر پابندی کی حکمتِ عملی کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ماضی کی طرف نظر دوڑائی جائے؛ ان دنوں کی طرف جب بیرونی انحصار کی تلخی نے ایرانی قوم کو سخت نقصان پہنچایا تھا۔

دفاع مقدس کے آخری برسوں میں، "شہری جنگ" کے دوران بعثی عراقی حکومت نے "اسکاڈ" میزائلوں کے ذریعے ایران کے غیر فوجی شہروں کو وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنایا۔ اس وقت اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس کسی قسم کی میزائل صلاحیت موجود نہیں تھی لہٰذا ان جارحیتوں کا جواب دینے کے لیے اسے بلیک مارکیٹ، مخصوص شرائط اور بھاری قیمت ادا کرتے ہوئے لیبیا جیسے ممالک سے "اسکاڈ-بی" میزائل خریدنے پڑے۔

یہ تلخ تجربہ جنگی کمانڈرز کے لیے ایک عظیم اسٹریٹجک سبق ثابت ہوا؛ میدانِ جنگ میں کوئی بھی آپ کی مدد کے لیے نہیں آئے گا اور اسلحہ خریدنے والا ہمیشہ فروخت کرنے والے کا محتاج رہے گا۔

اسی تلخ تجربے نے اس فکر کی بنیاد رکھی جس نے کئی برس بعد ملک کے دفاعی تھنک ٹینکس میں اس اسٹریٹجک غلطی کے دوبارہ ارتکاب کو روکا اور آج ایران کی وسیع میزائل طاقت کی بنیاد اسی سوچ پر استوار ہے۔

تاریخی دو راہہ؛ "سستی خریداری" یا "مشکل مگر آزادانہ پیداوار؟"

مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے کئی برس بعد، ایک حساس مرحلے پر جب ملک تعمیرِ نو کے عمل سے گزر رہا تھا اور ساتھ ہی علاقائی خطرات بھی مسلسل بڑھ رہے تھے، ماہرین کے حلقوں اور بعض سرکاری اور دفاعی حکام کے درمیان یہ بحث شروع ہوئی۔

تجویز یہ تھی کہ آخر تحقیق و ترقی پر بھاری اخراجات اور طویل وقت صرف کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ مشرقی ممالک اور سابق سوویت بلاک کے بعض ممالک داخلی پیداوار کی لاگت سے کہیں کم قیمت پر ایران کو تیار اور آپریشنل میزائلوں کا مکمل ذخیرہ فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں؛ لہٰذا بہتر ہے کہ ملک کی فوری ضرورت خریداری کے ذریعے پوری کر لی جائے۔

بظاہر یہ تجویز نہایت عقلانی اور پُرکشش دکھائی دیتی تھی؛ فوری ضرورت پوری ہو جاتی، قلیل مدت میں مالی اخراجات بھی کم رہتے اور جدید ٹیکنالوجی تک فوری رسائی بھی حاصل ہو جاتی۔

لیکن جب یہ معاملہ ایک اہم اسٹریٹجک اجلاس میں، یا دفاعی فیصلہ سازی کے متعلقہ ذرائع کے ذریعے، رہبرِ شہیدِ انقلاب کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے اس بصیرت کے ساتھ جو انقلاب کے اعلیٰ درجے کے رہنماؤں کا خاصہ ہوتی ہے، اس اسٹریٹجک جال کو فوراً پہچان لیا۔

حضرت آیت اللہ العظمیٰ شہید سید علی خامنہ ای نے اس تجویز کے جواب میں مکمل اور قطعی طور پر بیرونِ ملک سے میزائل درآمد کرنے کی اجازت مسترد کر دی اور ایک ایسا جملہ ارشاد فرمایا جو آج ایران کی میزائل صنعت کی ایک تاریخی دستاویز سمجھا جاتا ہے:

"اگر تم آج ان سے خرید لو گے تو ہمیشہ ان کے پرزوں، دیکھ بھال، مرمت اور جدید کاری کے لیے انہی کے محتاج رہو گے۔ وہ آج تمہیں فروخت کریں گے لیکن کل جب تمہیں سب سے زیادہ ضرورت ہوگی تو سپلائی بند کر دیں گے۔ ہم اپنے میزائل خود بنائیں گے، چاہے اس میں زیادہ وقت لگے اور ابتدا میں اس پر زیادہ لاگت ہی کیوں نہ آئے”۔

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایک فوجی کمانڈر نے بتایا تھا کہ سابق سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد اس کی بعض ریاستیں ایران کو صرف فی میزائل 10 ہزار ڈالر کے حساب سے فروخت کرنے کے لیے تیار تھیں لیکن رہبرِ شہیدِ انقلابِ اسلامی نے میزائل صنعت میں خود کفالت کے حصول کے مقصد سے اس تجویز کی مخالفت کی۔

رہبرِ شہید اور حکیمِ انقلاب کی جانب سے اسلحہ خریدنے پر یہ ویٹو در حقیقت "وابستگی کے رجحان" کے خلاف اعلانِ جنگ تھا۔ آپ بخوبی جانتے تھے کہ دفاعی صنعت میں "سستا سامان" نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی بلکہ جو چیز بظاہر سستی دکھائی دیتی ہے در حقیقت مستقبل میں قومی خودمختاری کھونے کی بھاری قیمت کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔

مختلف ادوار میں قیادت کی ریڈ لائن کی وضاحت

مختلف دہائیوں کے عرصے پر محیط انقلاب اسلامی کے شہید رہبر کے بیانات پر نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ کسی وقتی ردِعمل یا عارضی اقدام کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک مستقل، غیر متبدل اور اسٹریٹجک دفاعی نظریہ تھا۔ آپ نے متعدد مواقع پر اسلحے کی درآمد کے حوالے سے اپنے اس عظیم "نہیں" کی فلسفیانہ اور ٹیکٹیکل بنیادوں کو واضح کیا۔

میزائل فائر

دفاعی امور میں غیر ملکی طاقتوں پر مکمل عدم اعتماد

شہید رہبرِ انقلاب نے سن 2015 میں فضائیہ اور فضائی دفاعی فورس کے کمانڈرز اور اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے نہایت وضاحت کے ساتھ فرمایا:

"ہم دفاعی معاملات میں کسی بھی صورت غیر ملکی طاقتوں پر اعتماد نہیں کرتے... تجربے نے ہم پر ثابت کر دیا ہے کہ وہ حساس مواقع پر یا تو وہ ساز و سامان کو ناکارہ بنا دیتے ہیں جو انہوں نے ہمیں فروخت کیا ہوتا ہے یا پھر اس کے پرزہ جات فراہم نہیں کرتے۔ لہٰذا ہمارا راستہ اپنے نوجوانوں اور اندرونی صلاحیتوں پر انحصار کا راستہ ہے”۔

یہی وہ منطق تھی جس نے اس تاریخی مرحلے پر ایران کو بیرونِ ملک سے سستے داموں تیار میزائل خریدنے سے روک دیا۔

میزائل؛ قومی فخر اور نظام کی ریڈ لائن

اگلے برسوں کے دوران جب ایران کی میزائل صنعت پختگی کے مرحلے میں داخل ہوئی اور عالمی طاغوتی طاقتوں نے اسے روکنے کے لیے سفارتی دباؤ اور مختلف دھمکیوں کا سلسلہ شروع کیا تو شہید رہبرِ انقلاب نے بارہا اس راستے کی مشروعیت اور ناگزیر ضرورت پر زور دیا۔

آپ نے سن 2017 میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈرز سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

"میزائل کا مسئلہ نہایت اہم مسئلہ ہے؛ میزائل ہمارے لیے باعثِ فخر ہیں... ہم ان سے کہتے ہیں کہ ہم میزائل بنائیں گے اور وہ کہتے ہیں کہ نہ بناؤ! تو ہم ضرور بنائیں گے۔ یہی ہماری ڈیٹرنس طاقت ہے”۔

انقلاب اسلامی کے شہید رہبر کی جانب سے "پیداوار کی بجائے خرید" کے وابستگی پر مبنی نظریے کی نفی

قائدِ شہیدِ امت نے سن 2019 میں دفاعی صنعت کے ذمہ داران اور ماہرین سے ملاقات کے دوران انتظامی نظام کی ایک بڑی کمزوری کی نشاندہی کرتے ہوئے واضح فرمایا:

"بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم خود کو زحمت کیوں دیں؟ باہر سے خرید لیتے ہیں! یہ سوچ غلط ہے۔ خریدنے کا مطلب دوسروں کی ٹیکنالوجی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہے۔ اگر آج آپ خریدیں گے تو کل جب آپ پر پابندیاں عائد ہوں گی تو وہ یہی سامان بھی آپ کو فروخت نہیں کریں گے بلکہ آپ سے بھاری قیمت اور سیاسی معاوضہ وصول کریں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سائنسی بنیادوں اور داخلی پیداوار کے ڈھانچے کو مضبوط بنایا جائے”۔

آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ شہید رہبرِ انقلابِ اسلامی کی یہ ہدایات کس قدر درست، حقیقت پسندانہ اور دور اندیش ثابت ہوئی ہیں۔ فرض کیجیے کہ آج ہم ایک بیلسٹک میزائل تقریباً 70 ہزار سے 150 ہزار امریکی ڈالر کی لاگت سے تیار کرتے ہیں جبکہ اگر یہی میزائل کسی مغربی یا حتیٰ کہ مشرقی اسلحہ ساز ملک سے خریدا جاتا تو اس کی قیمت تقریباً ڈیڑھ سے دو ملین امریکی ڈالر ہوتی۔ (یہ اس حقیقت سے الگ ہے کہ دشمن کی عائد کردہ پابندیوں نے ایران کو دفاعی ساز و سامان کی خریداری سے بھی محروم کر رکھا تھا۔) یہی وہ دور اندیشی تھی جس کی بنیاد شہید رہبرِ انقلابِ اسلامی نے کئی دہائیاں قبل رکھ دی تھی۔

اسٹریٹجک علوم اور دفاعی معیشت کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو شہید رہبرِ انقلابِ اسلامی کا یہ فیصلہ ایک غیر معمولی انتظامی شاہکار تھا۔ اگرچہ کلاسیکی معاشی نظریات کے مطابق کم قیمت پر تیار شدہ سامان خرید لینا بظاہر قابلِ قبول دکھائی دیتا ہے لیکن "مزاحمتی معیشت" اور "ڈیفنس ڈیٹرنس تھیوری" میں معاملہ بالکل مختلف ہے۔

اگر ایران اُس دور میں چین، روس یا شمالی کوریا جیسے ممالک سے تیار میزائل خرید لیتا تو شاید آج اس کے پاس ایک بڑا میزائل ذخیرہ موجود ہوتا لیکن ٹیکنالوجی کی منتقلی نہ ہونے، معاون ساز و سامان کی فراہمی میں مسلسل انحصار اور مقامی سطح پر تیاری کی صلاحیت سے محرومی جیسے مسائل، اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے لیے انتہائی سنگین چیلنج بن جاتے جبکہ آج ایرانی انجینئرز کی صلاحیتوں کی بدولت میزائل عین ایران کی علاقائی ضروریات اور اس کے علاقائی اور ماورائے علاقہ دشمنوں کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے جا رہے ہیں۔

آج جب ہم سن 2026 میں کھڑے ہو کر ماضی پر نگاہ ڈالتے ہیں تو اس تاریخی "نہیں" کے نتائج پوری دنیا کے لیے ایک سبق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سپاہ کی ایرو اسپیس فورس اور وزارتِ دفاع نے اسی رہبرانہ فرمان پر عمل کرتے ہوئے خود انحصاری کے ایک طویل، دشوار مگر باوقار سفر کو کامیابی سے طے کیا ہے۔

مائع ایندھن سے چلنے والے ابتدائی "شہاب" میزائلوں سے لے کر جدید ٹھوس ایندھن والے میزائلوں تک، "فتح المبین" اور "خیبر شکن" جیسے پِن پوائنٹ میزائلوں سے لے کر، جو فضاء میں چال بدلنے اور ائیر ڈیفنس سسٹم کو دھوکہ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور پھر "فتاح" جیسے نئی نسل کے ہائپرسونک میزائلوں کی رونمائی تک، جنہوں نے عالمی دفاعی محاسبات کو بدل کر رکھ دیا، یہ تمام کامیابیاں اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ ایران آج عزت، اقتدار اور دفاعی خودکفالت کی بلند ترین چوٹی پر کھڑا ہے اور عالمی طاقتوں کا میدانِ مقابلہ میں سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کا دفاعی نظریہ "ایکٹیو ڈیٹرنس" اور "پیشگی دفاع" کے اصولوں پر قائم ہے۔ شہید رہبرِ انقلاب ہمیشہ اس بات پر تاکید کرتے رہے کہ ایران کی دفاعی طاقت ہی پورے خطے کے امن و استحکام کی ضمانت ہے۔ ایران کی میزائل قوت درحقیقت وہ عنصر ہے جو ہر اس جارح طاقت کو، جو ایران کے خلاف فوجی جارحیت یا دھمکی کا ارادہ رکھتی ہو، اپنی تمام عسکری اور سیاسی حساب کتاب تبدیل کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

آج اسلامی جمہوریہ ایران نہ صرف کسی بھی ملک سے میزائل خریدنے کا محتاج نہیں رہا بلکہ ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی کے شعبے میں مزاحمتی محور کے لیے ایک اہم برآمدی اور تکنیکی مرکز (Hub) کے طور پر بھی پہچانا جاتا ہے۔ یہ دراصل اسی درخت کا ثمر ہے جس کا بیج شہید و حکیم رہبرِ انقلابِ اسلامی نے اس تاریخی نعرے "ہم خود بنائیں گے" کے ساتھ بویا تھا۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں