امریکی ٹاد اور پیٹریوٹ جیسے میزائل ڈیفنس سسٹم ہونے کے باوجود وہ ایرانی پائلٹ کا مقابلہ نہ کر سکے
تحریر: محمد زرچینی (دفاعی و سکیورٹی گروپ، دفاع پریس)
امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف مسلط کردہ ۴۰ روزہ جنگ کے مختلف پہلو ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ اس جنگ کے مزید حقائق سامنے آ رہے ہیں۔ امریکی فوج نے جنگ کے ابتدائی ۱۲ دنوں سے ہی بڑی تعداد میں جنگی طیارے اور جدید ریڈار سسٹمز تعینات کیے تا کہ ایرانی مسلح افواج کے شدید میزائل، ڈرون اور فضائی حملوں کو روکا جا سکے؛ مگر زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی افواج ایرانی یلغار کے سامنے عاجز آ چکی ہیں۔
حالیہ دنوں میں یہ خبریں سامنے آئی ہیں کہ ایران کی فضائیہ نے مغربی ایشیا میں ایک **ایف-۵** جنگی طیارے کے پائلٹ نے امریکی فضائی دفاعی حصار اور Patriot Missile System اور THAAD جیسے نظاموں کو عبور کرتے ہوئے اڈے کی گہرائی تک رسائی حاصل کر لی۔

فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ امریکی فوج کے لیے ایک اسٹریٹجک ناکامی ہے جو تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کے ڈیفنس بجٹ اور آئندہ ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کے مجوزہ بجٹ کے باوجود، اس کی عالمی برتری کے تاثر کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق اس پرانے جنگی طیارے کی کامیابی کا بنیادی راز انتہائی نچلی پرواز (۵۰ فٹ سے کم بلندی) اور سطحِ سمندر کے قریب پرواز تھا۔ ماہرین کے مطابق پیٹریوٹ ریڈار درمیانی اور بلند اہداف کی نشاندہی کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں جبکہ کم بلندی پر پرواز زمین کے خم اور قدرتی رکاوٹوں (جیسے پانی یا پہاڑ) کی وجہ سے طیارے کو ریڈار کی نظر سے اوجھل کر دیتی ہے۔ درحقیقت ایرانی پائلیٹوں نے مہارت کے ساتھ دشمن کے ریڈار کے اندھے زاویے سے فائدہ اٹھایا۔
امریکہ، جس کے پاس جدید ترین فضائی بیڑا موجود ہے “ایف-۳۵” اسٹیلتھ اور “ایف-۱۸ سپر ہورنیٹ”—کبھی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ایک بظاہر پرانا طیارہ جیسے “ایف-۵” اس نوعیت کی کارروائی انجام دینے کی جرات اور صلاحیت رکھتا ہوگا؛ حتیٰ کہ ممکن ہے امریکی ڈیفنس سسٹم نے اس حملے کو غیر فوجی ہدف سمجھ کر درست طور پر شناخت ہی نہ کیا ہو۔
یہ کامیابی کا صرف ایک پہلو ہے اس غیر متوازن جنگ میں، جس میں ایرانی فضائیہ نے امریکی فوج کے خلاف اپنی برتری کا مظاہرہ کیا۔ اس کامیابی کے دیگر عوامل میں جنگی طیاروں کی مرمت، دیکھ بھال اور اوورہالنگ شامل ہیں جو ایرانی مسلح افواج خصوصاً فضائیہ کی مسلسل محنت اور دفاعی خود کفالت کو ظاہر کرتے ہیں۔
گزشتہ برسوں میں ایران کے اندر امریکی اور روسی ساختہ جنگی طیاروں کی کامیاب اوورہالنگ کئی بار کی جا چکی ہے۔ سخت امریکی پابندیوں کے باوجود، ایرانی فضائیہ نے خود انحصاری حاصل کرتے ہوئے “ایف-۵”، “ایف-۱۴”، “سوخو ۲۲”، “سوخو ۲۴”، “مگ” سیریز اور “سی ۱۳۰” طیاروں کے ہزاروں پرزہ جات کی مرمت اور اپ گریڈیشن انجام دی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں گھنٹوں کی محنت کے بعد یہ طیارے آج دشمن کے گہرے فوجی اڈوں تک مؤثر حملے کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔

ان اوورہال مراکز میں “شہید دوران” مرکز کا کردار نمایاں ہے، جس نے “سی ۱۳۰” ٹرانسپورٹ طیاروں کی مرمت، بحالی اور اپ گریڈیشن میں اہم خدمات انجام دی ہیں۔ یہ مرکز طیارے کے مختلف حصوں کی جانچ، اندرونی و بیرونی معائنہ اور مکمل بحالی کا ذمہ دار ہے۔
“سی ۱۳۰” طیارے کی اوورہالنگ میں انجن کو عمومی طور پر شامل نہیں کیا جاتا بلکہ انجن کا معائنہ پرواز کے اوقات کے مطابق کیا جاتا ہے۔ اس طیارے کے انجن تقریباً ۳۵۰۰ گھنٹے پرواز کے بعد اوورہال کیے جاتے ہیں جو متعلقہ کمپنی اور فضائیہ کے لاجسٹک کمانڈ کے ذریعے انجام پاتا ہے۔
جنگی طیاروں کے حوالے سے بھی ایرانی فضائیہ ہزاروں اجزاء—جیسے پہیے، پروں کے حصے، ریڈار اور فیول سسٹمز—کو جدید بناتی ہے تاکہ طیارے کامیاب آپریشنز انجام دے سکیں جیسا کہ “سوخو” طیاروں کا “العدید” پر حملہ اور “ایف-۵” کی کویت میں کارروائی۔
فوجی ماہرین کے مطابق کسی طیارے کے بنیادی اجزاء کی اوورہالنگ چھ ماہ سے ایک سال تک کا وقت لے سکتی ہے۔ مثال کے طور پر “ایف-۴” جنگی طیارے کی مرمت میں پہلے اس کے مختلف حصوں کا تفصیلی معائنہ کیا جاتا ہے، پھر تکنیکی مراحل کے ذریعے اس کے ڈھانچے، انجن اور دیگر حصوں کی اصلاح اور بحالی کی جاتی ہے تا کہ وہ دوبارہ آپریشنل حالت میں آ سکے۔
یہ تمام اقدامات ایرانی فضائیہ کے اہلکاروں کی مسلسل محنت اور پیشہ وران کوششوں کا نتیجہ ہیں تا کہ ضرورت پڑنے پر وہ کسی بھی دشمن کے اندرونی علاقوں تک بھرپور اور فیصلہ کن ضرب لگا سکیں اور اسے نیست و نابود کر دیں۔
