KN-09 راکٹ لانچر، فائر پاور کی حد بڑھانے والا مؤثر نظام
تحریر: محمد زرچینی (دفاعی و سکیورٹی گروپ، دفاع پریس)
شمالی کوریا دنیا کے طاقتور ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے جو راکٹ آرٹلری سسٹمز کی تیاری میں مہارت رکھتے ہے۔ یہ ملک خاص طور پر «KN» سیریز سسٹمز بنانے میں خاص مہارت رکھتا ہے۔
راکٹ لانچر «KN-09» کا پہلا تجربہ غالباً 2013 میں ہوا، جب جنوبی کوریا کے میڈیا نے اطلاع دی کہ 300 ملی میٹر راکٹ بحیرۂ جاپان کی سمت داغا گیا ہے۔ اس کے بعد 2014 میں فروری، مارچ اور جون کے دوران اس سسٹم کے مزید کئی تجربات کیے گئے۔ اس سسٹم کا آخری معروف تجربہ مارچ 2016 میں کیا گیا، جو کامیاب رہا۔ اس موقع پر KN-09 راکٹ نے تقریباً 200 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔
یہ سسٹم باضابطہ طور پر اکتوبر 2015 میں ایک فوجی پریڈ کے دوران متعارف کرایا گیا اور بعد ازاں فروری 2017 میں “یومِ آفتاب” کی پریڈ میں دوبارہ دیکھا گیا۔

«(KN-09)» کی فنی خصوصیات
یہ راکٹ لانچر ایک ٹرک پر نصب پلیٹ فارم پر قائم کیا گیا ہے۔ اس میں آٹھ راکٹ ہوتے ہیں، جو چار چار راکٹوں والے دو پوڈز میں محفوظ کیے جاتے ہیں۔ راکٹوں کا ڈایامیٹر 300 ملی میٹر ہے۔ تمام آٹھ راکٹ تقریباً 50 سے 60 سیکنڈ کے اندر فائر کیے جا سکتے ہیں۔ اس سسٹم کو دوبارہ لوڈ کرنے میں تقریباً 45 سے 60 منٹ لگتے ہیں۔
اس ٹیکنالوجی کی اصل اور شمالی کوریا تک اس کی رسائی کا ذریعہ واضح نہیں ہے۔ بعض تجزیوں کے مطابق KN-09 روسی «BM-30 Smerch» یا چینی «A-100» سسٹمز کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔
یہ امکان بھی ہے کہ اسے شمالی کوریا نے اپنے پرانے 240 ملی میٹر راکٹ سسٹمز سے متاثر ہو کر مقامی طور پر تیار کیا ہو۔
راکٹ لانچر «KN-09» کی تیاری شمالی کوریا کے پرانے MLRS نظاموں (جیسے M1985/M1991) کے مقابلے میں نمایاں پیش رفت سمجھی جاتی ہے، جن کی رینج صرف 40 سے 60 کلومیٹر تھی۔
اس نئے سسٹم کی 190 کلومیٹر تک کی رینج نہ صرف اس کے پیشروؤں بلکہ روسی اور چینی ہم پلہ سسٹمز سے بھی زیادہ ہے۔ اس بڑھتی ہوئی رینج کی وجہ سے جنوبی کوریا اور وہاں موجود امریکی اڈوں کے مزید علاقے، حتیٰ کہ پورا سیئول خطہ، شمالی کوریا کے توپ خانے کی زد میں آ جاتے ہیں۔
امریکی فوجی اثاثے بھی «KN-09» کی زد میں
اگر اس سسٹم میں سیٹلائٹ گائیڈنس مؤثر طور پر نصب ہے تو یہ کسی بھی جنگ کے ابتدائی مرحلے میں امریکی فوجی اثاثوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
تاہم عمومی طور پر، KN-09 کی محدود تعداد میں تعیناتی جزیرہ نما کوریہ میں اسٹریٹیجک توازن کو اصولی طور پر تبدیل نہیں کرتی اور نہ ہی ایسا نیا خطرہ پیدا کرتی ہے جو پہلے سے شمالی کوریا کے دوسرے سسٹمز کی رینج میں موجود نہ ہو۔
جنوبی کوریا کے اندازوں کے مطابق اس نظام کے 300 ملی میٹر راکٹوں کی رینج 180 سے 200 کلومیٹر اور وارہیڈ کا وزن تقریباً 190 کلوگرام ہے۔ یہ رینج شمالی کوریا کے سابقہ 240 ملی میٹر M1985/M1991 سسٹم (60 تا 65 کلومیٹر) سے کہیں زیادہ ہے۔
اگرچہ پرانا سسٹم بھی سیئول کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا تھا، مگر KN-09 جنوبی کوریا کے نصف حصے کو نشانہ بنا سکتا ہے، جن میں جنوبی چونگ چیونگ صوبے کا فوجی مرکز «Gyeryongdae»، شہر «Daejeon» اور امریکہ کے اہم فوجی اڈے جیسے «Pyeongtaek» اور «Osan Air Base» شامل ہیں۔

300 ملی میٹر راکٹ غالباً 122 ملی میٹر BM-21 راکٹوں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔
یہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ ان راکٹوں کے لیے بارودی سرنگیں بکھیرنے والے اور زیرِ زمین پناہ گاہوں کو تباہ کرنے والے وارہیڈز تیار کیے گئے ہیں، جبکہ غالب امکان ہے کہ اس سسٹم میں کسی نہ کسی قسم کا گائیڈڈ راکٹ سسٹم بھی شامل ہو۔
جنوبی کوریا کا خیال تھا کہ KN-09 2016 کے اختتام تک عملی طور پر استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔
غیر ملکی ذرائع کے مطابق ایک فوجی دستاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی کوریا نے 300 ملی میٹر گائیڈڈ راکٹ سسٹمز کی تیاری اور تعیناتی مکمل کر لی ہے جو تصویری اور GPS کی رہنمائی سے لیس ہیں۔ یہ راکٹ جنوبی کوریا کے شہر «Daejeon» جیسے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جہاں مشترکہ فوجی ہیڈکوارٹر، بحریہ اور فضائیہ کے مراکز موجود ہیں۔ ان راکٹوں کی ممکنہ اعلیٰ درستگی اس سسٹم کو جنوبی کوریا کے فوجی ہوائی اڈوں اور فضائی اڈوں جیسے اہم اہداف کے خلاف مؤثر بنا سکتی ہے۔
