شہید جنرل موسوی ایران کے دفاعی نظریے میں تبدیلی کے معمار تھے / امریکہ کا خطے سے ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیں گے، جنرل اکرمی‌نیا

اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے ترجمان نے کہا کہ اب ہم کسی صورت امریکی اسلحے کو آبنائے ہرمز سے گزر کر خطے کے فوجی اڈوں تک پہنچنے کی اجازت نہیں دیں گے؛ جو بھی ملک اس آبی گذرگاہ سے گزرنا چاہے گا، اسے ایرانی مسلح افواج کی نگرانی میں گزرنا ہوگا اور اس کی آمد و رفت سے کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔
خبر کا کوڈ: 5882
تاریخ اشاعت: 16 May 2026 - 19:03 - 07August 2647

دفاع پریس کی صوبہ خراسان رضوی سے موصولہ رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے ترجمان، بریگیڈیئر جنرل «محمد اکرمی‌نیا» نے شہید لیفٹیننٹ جنرل «سید عبدالرحیم موسوی»، سابق چیف آف جنرل اسٹاف کی تدفین کے چالیسویں روز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب آج (بدھ) روضۂ امام رضاؑ کے مسجد گوہرشاد میں زائرین اور مجاورین کی موجودگی میں منعقد ہوئی۔

جنرل اکرمی‌نیا

انہوں نے کہا:آج آبنائے ہرمز ایرانی مسلح افواج کے اسٹریٹجک کنٹرول میں ہے؛ آبنائے کے مغربی حصے پر آئی آر جی سی کی بحریہ اور مشرقی حصے پر فوج کی بحریہ کا کنٹرول قائم ہے۔

ایران کی فوج کے ترجمان نے کہا:دشمن کا خیال تھا کہ رہبرِ معظمِ انقلاب اسلامی اور اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے عوام کو خوفزدہ کر کے صدمہ اور خوف طاری کرنے والی کارروائی کے نتیجے میں تین دن کے اندر نظام اسلامی کو گرا دے گا؛ لیکن ان کے اندازے کے برخلاف، عوام حکومت کے خاتمے کے لیے نہیں بلکہ اپنے نظام اور سرزمین کی حمایت کے لیے سڑکوں پر نکل آئی اور قومی اتحاد مزید مضبوط ہوگیا۔

جنرل اکرمی‌نیا نے مزید کہا:دشمن نے اگرچہ ایران پر حملے کے لیے بیس سال تک منصوبہ بندی کی مگر وہ ہرگز یہ تصور نہیں کر سکتا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نہ صرف اپنی جنگی صلاحیت برقرار رکھیں گی بلکہ میزائل حملوں اور زمینی کارروائیوں کے ذریعے دشمن کے مقاصد کو ناکام بنا دیں گی اور یہی مزاحمت آج ہماری عظیم فتح کا سبب بنی ہے۔

فوج کے نظریاتی سیاسی ادارے کے نائب نے واضح کیا:حالیہ جنگ میں دشمن کے مقاصد میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیت کو تباہ کرنا، ملک کو تقسیم کرنا اور نظام کا خاتمہ شامل تھا لیکن وہ اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

ایران کی فوج کے ترجمان نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں شہید لیفٹیننٹ جنرل سید عبدالرحیم موسوی کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ملک کے دفاعی نظریے کو دفاعی پوزیشن سے جارحانہ حکمتِ عملی میں تبدیل کرنے والا معمار قرار دیا اور کہا:آج ہماری مسلح افواج کا عسکری نظریہ جارحانہ نوعیت رکھتا ہے؛ یعنی اگر دشمن کسی بھی قسم کی غلطی کرے گا تو اس کا بھرپور اور شدید جواب دیا جائے گا اور حالیہ جنگ میں یہی حکمتِ عملی، عملی طور پر ثابت ہوئی جس نے دشمن کو اس کی جگہ پر بٹھا دیا۔

جنرل اکرمی‌نیا نے یاد دلایا:انقلابِ اسلامی کے بعد انقلاب کے شروعات میں شاہ کو نکالا گیا، دوسرے انقلاب یعنی امریکی جاسوسی کے اڈے پر قبضے کے ذریعے امریکہ کو ایران سے نکالا گیا اور آج ہم امریکہ کو پورے خطے سے باہر نکال کر اس کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیں گے۔

رپورٹ کے مطابق، لیفٹیننٹ جنرل «سید عبدالرحیم موسوی» چیف آف جنرل اسٹاف، سن 1960 میں قم میں پیدا ہوئے۔ یہ بہادر کمانڈر دفاعِ مقدس کے دوران توپخانے کے یونٹ میں خدمات انجام دیتے رہے اور دشمن کے خلاف برسرِ پیکار رہے۔ وہ 2017 سے 2026 تک ایران کی فوج کے سربراہ رہے اور بعد ازاں شہادت تک چیف آف جنرل اسٹاف کے منصب پر فائز رہے۔ بالآخر 28 فروری 2026کو امریکہ اور صیہونی حکومت کی جانب سے بیتِ رہبری پر دہشت گردانہ حملے میں رہبرِ انقلاب اور دیگر فوجی کمانڈرز اور رہبر انقلاب کے اہلِ خانہ کے ساتھ شہید ہوگئے۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً