پاکستان میں ایرانی طیاروں کی تعیناتی کا متنازع شائبہ

حال ہی میں چند غیرملکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی طیارے پاکستان کے نورخان ایئربیس میں تعینات کیے گئے ہیں، تاہم پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اس دعوے کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔
خبر کا کوڈ: 5885
تاریخ اشاعت: 17 May 2026 - 22:25 - 08August 2647

تحریر: محمد زرچینی (دفاعی و سکیورٹی گروپ، دفاع پریس)

امریکی-صیہونی دشمن کی جانب سے بار بار جنگ بندی کی خلاف ورزی اور پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے نتیجہ خیز ثابت نہ ہونے کے بعد، فریقین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے اور ہر لمحہ یہ امکان موجود ہے کہ دشمن کے دوبارہ غلط عسکری اندازے جنگ کے شعلوں کو ایک بار پھر بھڑکا دیں۔

امریکہ اور صیہونی حکومت اپنی جنگی کارروائیوں میں بارہا فضائی طاقت کو اپنے مطلوبہ ٹارگٹس کے خلاف استعمال کر چکے ہیں؛ لہٰذا اس میدان میں غیرعامل دفاع (Passive Defense) پر توجہ دینا نہایت ضروری محسوس ہوتا ہے۔ دنیا کے بعض ممالک فضائی خطرات سے نمٹنے کے لیے ہمیشہ غیرعامل دفاعی طریقے اختیار کرتے ہیں، جن میں ایک اہم اقدام اسٹریٹجک فوجی اور انڈسٹریل اثاثوں کو دشمن کے حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔

ایران کو امریکی-صیہونی دشمن کے خلاف ۱۲ روزہ جنگ اور اس کے بعد ۴۰ روزہ جنگ کے دوران فضائی انڈسٹری میں نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اس نے اپنے بعض طیاروں، خصوصاً فوجی طیاروں کو دشمن کی دسترس سے بھی باہر منتقل کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی حکومت اور امریکہ نے ایران کی فضائی انڈسٹری کے بنیادی ڈھانچے پر شدید بمباری کی لیکن بظاہر نقصان اس سے کہیں کم ہوا جس کی دشمن توقع کر رہا تھا۔

تیسری مسلط کردہ جنگ کے دوران ایران کی فضائی انڈسٹری کو گزشتہ چند برسوں کے سنگین ترین چیلنجز میں سے ایک کا سامنا رہا؛ ایسا چیلنج جس کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق تقریباً ۲۰ پیسنجر جہاز متاثر ہوئے جبکہ ہوائی اڈوں اور نیویگیشن کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔

ان تباہ کاریوں اور حکام کی جانب سے ملکی طیاروں کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کے باوجود بعض غیرملکی میڈیا اداروں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ایران اپنے فضائی اثاثوں کی حفاظت کی صلاحیت نہیں رکھتا اور اس مقصد کے لیے خطے کے بعض ممالک سے مدد لے رہا ہے۔

مثال کے طور پر ایک بھارتی میڈیا ادارے نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ پاکستان، ایران کو ہر ممکن تعاون فراہم کر رہا ہے اور یہ تعاون صرف ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی تک محدود نہیں۔ ویب سائٹ «ٹائمز آف انڈیا» نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے اپنے ہوائی اڈے ایرانی طیاروں کے لیے کھول دیے ہیں تا کہ وہ دشمن کے فضائی حملوں سے محفوظ رہ سکیں۔

طیاروں 

نیوز نیٹ ورک «سی بی ایس نیوز» نے بھی پاکستان کے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے بظاہر اسلامی جمہوریہ ایران کے فوجی طیاروں کو نورخان ایئربیس میں تعینات ہونے کی اجازت دی ہے۔

اس رپورٹ، جس میں اسلام آباد پر امریکہ کے خلاف جنگ میں تہران کی حمایت کا الزام لگایا گیا ہے، نے واشنگٹن میں شدید ردعمل پیدا کیا؛ یہاں تک کہ سینئر امریکی قانون سازوں نے ۲۸ فروری کو شروع ہونے والی جنگ اور ۸ اپریل کو جنگ بندی کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان امن مذاکرات میں اسلام آباد کی غیرجانبداری پر سوالات اٹھا دیے۔

 

سی بی ایس نیوز کے مطابق، امریکی صدر «ڈونلڈ ٹرمپ» کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد، ایران نے ’’متعدد طیارے‘‘ پاکستان کے نورخان ایئربیس منتقل کیے۔ رپورٹس کے مطابق ان میں ایرانی فضائیہ کا RC-130 جاسوسی اور انٹیلیجنس طیارہ اور چند پیسنجر طیارے شامل تھے۔ ریپبلکن سینیٹر «لنڈسی گراہم» نے اس رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے، جنگ میں پاکستان کے سفارتی کردار پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا:"اگر یہ رپورٹ درست ہے تو ایران، امریکہ اور دیگر فریقوں کے درمیان ثالث کے طور پر پاکستان کے کردار کا مکمل ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا"۔

 

یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب «ڈونلڈ ٹرمپ»، جو ایران کے حوالے سے سخت ترین مؤقف رکھتا ہے، بارہا پاکستانی حکام کی تعریف کر چکا ہے اور کہتا ہے: "جنرل عاصم منیر ایک غیرمعمولی شخصیت ہیں"۔

 اس صورتحال میں «سی بی ایس نیوز» کے رپورٹ کی درستگی مشکوک دکھائی دیتی ہے۔

مغربی ذرائع ابلاغ، خصوصاً «این بی سی» نے ایک اور دعویٰ بھی کیا کہ ایرانی طیارے افغانستان میں تعینات کیے گئے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایران نے افغانستان یا پاکستان میں اپنے طیاروں کی تعیناتی کے لیے کوئی باضابطہ درخواست دی تھی؟ اور کیا ایرانی ہیوی ٹرانسپورٹ یا جاسوسی طیاروں کی موجودگی کی کوئی سیٹلائٹ تصاویر موجود ہیں؟ اگر ایسی تصاویر موجود ہیں تو انہیں منظرِ عام پر کیوں نہیں لایا گیا؟

این بی سی کا ایک اور دعویٰ یہ ہے کہ ایرانی طیارے صرف نورخان ایئربیس میں تعینات تھے اور یہ پاکستانی قیادت کی براہِ راست اجازت سے کیا گیا لیکن پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے نورخان ایئربیس پر ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق رپورٹس کو ’’گمراہ کُن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ طیارے صرف سفارت کاروں کی آمد و رفت میں سہولت کے لیے عارضی طور پر وہاں موجود تھے۔

طیاروں

جیسا کہ جنگ کے دوران اور مذاکرات کے وقت بھی دیکھا گیا، اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے جنگی طیارے خصوصاً ایران کی فضائیہ، ایرانی مذاکراتی ٹیم کو ایرانی سرزمین کے اندر تحفظ فراہم کر رہے تھے اور یہی بات غیر ملکی میڈیا کے دعوؤں کے جھوٹا ہونے کی مضبوط دلیل ہے۔

اسی طرح اگر یاد ہو تو تقریباً چار سال قبل ایران کے انڈر گراؤنڈ، جنگی طیارہ شہر «عقاب ۴۴» کی رونمائی کی گئی تھی اور اگر ایران دشمن کے حملوں سے بچاؤ کے لیے طیاروں کو محفوظ رکھنا چاہے، تو سب سے مؤثر طریقہ انڈر گراؤنڈ فضائی اڈوں پر انحصار ہوگا؛ لہٰذا یہ حقیقت بھی پاکستان کے فضائی اڈوں پر ایرانی فوجی طیاروں کی موجودگی کے دعوے کو چیلنج کرتی ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دشمن ایران کو میڈیا وار میں الجھا کر عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے حالانکہ ایران نے میدانِ جنگ میں دشمن کو شکست دی ہے اور ایران اور اس کی مسلح افواج کے بارے میں اس قسم کے دعووں کی کوئی حیثیت نہیں؛ کیونکہ ایران تنہا ہوتے ہوئے دو ایٹمی طاقتوں کے مقابل کھڑا رہا اور اس کی کارکردگی نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً