بری فوج ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے / طاغوتی نظام بھروسے کے قابل نہیں، جنرل جہانشاہی
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی بری فوج کے کمانڈر جنرل علی جہانشاہی نے ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں تعینات یونٹس کے معائنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں انہوں نے جنوب مشرقی ایران، مکران کے ساحلی علاقوں اور بحیرۂ عمان میں تعینات بری فوج کے مختلف یونٹس کا دورہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا:
“خوش قسمتی سے ان یونٹس کے اہلکار نہایت بلند حوصلے اور مضبوط جذبے کے حامل ہیں اور ایثار، قربانی اور جانفشانی کے جذبے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان تمام علاقوں میں ہمارے جوان مکمل ہوشیاری اور اعلیٰ سطح کی تیاری کے ساتھ موجود ہیں”۔
بری فوج کے کمانڈر نے کہا کہ مشرقی سرحدوں اور مکران کے ساحلی علاقوں میں تعینات تمام یونٹس ہر قسم کے ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا:
“ان یونٹس کو جدید ڈیفنس سسٹمز، فوجی ساز و سامان، اسلحے، گولہ بارود اور دیگر جنگی وسائل سے لیس کرنے اور ان کی جنگی صلاحیت کو مزید بڑھانے کا عمل مسلسل جاری ہے”۔
جنرل جہانشاہی نے زور دیتے ہوئے کہا:
“مسلح افواج ایرانی عوام کے ساتھ اپنے خون کے ساتھ عہد نبھانے کا وعدہ کرتی ہیں اور یہ کہ اپنے وطن کے دفاع کے لیے آخری سانس تک ڈٹی رہیں گی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی سلامتی، آزادی اور عزت کا دفاع ہماری ذمہ داری ہے اور ہم پوری جانفشانی کے ساتھ اس پر قائم ہیں”۔
انہوں نے بری فوج کی ترجیحات کے حوالے سے کہا:
“ہماری سب سے اہم ترجیح جنگی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ اور یونٹس کی تیاری کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ اسی مقصد کے لیے ہم دفاعی صنعت، نالج بیسڈ کمپنیز، قومی ماہرین اور فوج کے خودکفیل اداروں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں تا کہ دفاعی طاقت کو مزید فروغ دیا جا سکے”۔
گفتگو کے اختتام پر جنرل جہانشاہی نے دفاعی طاقت برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا:
“تجربے نے ثابت کیا ہے کہ صیہونی حکومت اور طاغوتی نظام پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا؛ لہٰذا ہمیں ہمیشہ طاقتور، تیار اور چوکس رہنا چاہیے۔ جیسا کہ انقلاب کے شہید رہبر ہمیشہ تاکید کرتے تھے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دشمن ہمارے ملک پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کرے تو ہمیں مسلسل اپنی طاقت کو مضبوط بناتے رہنا ہوگا”۔
