لبنان کے معاملے میں بغداد کی جانب سے جولانی کو مداخلت کرنے سے کے نتائج سے متعلق وارننگ
دفاع پریس کے بین الاقوامی امور کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، روزنامہ «الأخبار» کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ عراقی حکومت نے گزشتہ چند روز کے دوران شام کے خودساختہ صدر احمد الشرع کو مشورہ دیا ہے کہ وہ لبنان کے معاملے میں مداخلت سے اجتناب کرے۔ یہ مشورہ ایسے وقت میں دیا گیا ہے کہ جب امریکہ اور سعودی عرب کی جانب سے دمشق کو حزب اللہ کے خلاف محاذ آرائی کی طرف دھکیلنے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بغداد نے خبردار کیا ہے کہ لبنان کے منظرنامے میں دمشق کا کوئی بھی کردار شام کے لیے براہِ راست برے نتائج کا باعث بن سکتا ہے اور اگر شام کی سرزمین سے لبنان کے شیعوں یا حزب اللہ کے خلاف کوئی خطرہ پیدا ہوا تو عراقی مزاحمتی گروہ اس کا جواب دیں گے۔
عراق نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ لبنان کی جانب شام کا ہر بڑھتا قدم، بغداد کی جانب سے متناسب اقدام کا سبب بن سکتا ہے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ احمد الشرع نے جواب میں تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے ان سے لبنان کے معاملے میں حزب اللہ کے خلاف مؤقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم انہوں نے اس درخواست کو مسترد کر دیا اور کہا کہ دمشق کی ترجیح اندرون ملک استحکام کو برقرار رکھنا اور نئے محاذ کھولنے سے گریز کرنا ہے۔
یہ پیغام ایسے وقت میں بھیجا گیا ہے جب لبنان کے معاملے میں شام کی مداخلت کے لیے امریکہ کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات، جن میں دمشق سے حزب اللہ کے خلاف مدد طلب کیے جانے کے امکان کا ذکر کیا گیا، زیادہ تر سیاسی دباؤ کا حصہ ہیں اور ان کی عملی حیثیت نہیں ہے۔
ان ذرائع نے تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دمشق اس سے قبل ترکی اور بعض علاقائی فریقوں کے ذریعے حزب اللہ کو آگاہ کر چکا ہے کہ اس کا لبنان کے معاملے میں داخل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں۔
ان ذرائع کے مطابق عراق کا یہ پیغام عراق میں ایران کے شہید رہنما کی بڑے پیمانے پر ہونے والی تشییع کے بعد پیدا ہونے والی علاقائی فضا کے تناظر میں قابلِ تجزیہ ہے؛ ایسی فضا جو خطے کی شیعہ برادریوں کے درمیان اعلیٰ سطح کے اتحاد کی عکاس ہے اور خبردار کرتی ہے کہ حزب اللہ کے خلاف شام کی کسی بھی محاذ آرائی سے کشیدگی کا دائرہ نئے محاذوں تک پھیل سکتا ہے۔
