ایران کے عظیم "جان فدا" فوجی مشق کا انعقاد

ایران کے عظیم "جان فدا" فوجی مشق کا انعقاد صدرِ ایران، بسیج مستضعفین آرگنائزیشن کے سربراہ اور تہران کی محمد رسول اللہؐ آئی آر جی سی کے کمانڈر کی شرکت کے ساتھ کیا گیا۔
خبر کا کوڈ: 6257
تاریخ اشاعت: 18 September 2026 - 17:12 - 09December 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی رپورٹر کے مطابق، ایران کے عظیم "جان فدا" فوجی مشق کا انعقاد آج صبح (جمعہ) تہران میں اور بیک وقت ملک بھر میں صدرِ ایران مسعود پزشکیان، بسیج مستضعفین آرگنائزیشن کے سربراہ حجۃ الاسلام حسین طائب، تہران کی محمد رسول اللہؐ آئی آر جی سی کے کمانڈر جنرل حسن حسن زادہ اور رہبر معظم کے مشیر و معاون محمد مخبر اور تہران کے میئر علی رضا زاکانی کی شرکت کے ساتھ کیا گیا۔

جان فدا

مسعود پزشکیان نے اس فوجی مشق کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جان، عوام اور ایران پر قربان ہے۔ انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا: ہم اپنی جان عوام، ملک اور ایران پر قربان کرنے کے لیے تیار ہیں اور پورے وجود کے ساتھ ملک کے لیے کام کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب ہم ملک کے اندر اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت پر بھی مسلسل زور دے رہے ہیں کیونکہ تمام معاملات میں اتحاد اور یکجہتی دشمن کو مایوس کر دیتی ہے۔

یہ فوجی مشق تہران کے امام حسین علیہ السلام سکوائر سے لے کر انقلاب سکوائر تک ۳۱۳ ہزار جان فدا سپاہیوں کی شرکت کے ساتھ منعقد ہوئی۔

واضح رہے کہ جان فدا فوجی مشق آج غروبِ آفتاب تک جاری رہے گی اور جان فدا یونٹس کے ۳۱۳ ہزار اہلکار ۷۲، ۷۲ افراد پر مشتمل دستوں کی شکل میں اس فوجی مشق میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

اس فوجی مشق میں "فاتح" اَن مَنڈ کشتی اور شہید ہمدانی گائیڈنگ سسٹم کی بھی رونمائی کی گئی۔

اس کے علاوہ سیکیورٹی بریگیڈ اور محمد رسول اللہؐ آئی آر جی سی کے ڈرون یونٹ کے پیراگلائیڈر اور پیرا موٹر پائلٹس کی فلائٹ ٹیم نے بھی اس فوجی مشق میں شرکت کی۔

’’جان فدا‘‘ مہم دنیا کی جنگوں کی تاریخ کی سب سے بڑی عوامی مہم ہے

بسیج مستضعفین آرگنائزیشن کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین حسین طائب نے جان فدا فوجی مشق میں کہا: یہ مہم حقیقی جمہوریت، قومی ثابت قدمی اور بیرونی خطروں کے مقابلے میں دفاع اور سلامتی کے معاملے کو عوامی بنانے کا حقیقی مظہر ہے اور دنیا کی جنگوں کی تاریخ کی سب سے بڑی عوامی مہم شمار ہوتی ہے کیونکہ دنیا میں کہیں بھی ایسی مثال نہیں ملتی کہ کسی قوم نے اس طرح اپنی موجودگی کا اعلان کیا ہو اور ملک بھر کے میدانوں میں دشمن کے خلاف ہر محاذ پر جنگ کے لیے اپنی آمادگی کا پُرجوش اعلان کیا ہو۔

انہوں نے مزید کہا: دشمن کے خوف اور قوم کی فتح کا عامل، عزیز ایرانی عوام کی سکوائرز پر موجودگی ہے اور اس موجودگی نے دشمن کے وجود میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔ یہ عظیم تحریک معاشرے کے تمام طبقات کی آگاہی، غیرت اور دور اندیشی سے ابھرنے والا ایک خودکار ڈھانچہ رکھتی ہے اور اپنی سرزمین، دینی نظریات کے تحفظ اور ترقی کی بلند چوٹیوں کو فتح کرنے کے لیے جان اور مال کی قربانی دینے کی قوم کی ہمہ گیر تیاری کی عکاسی کرتی ہے۔

حجۃ الاسلام طائب نے رضاکاروں کی تنظیم منظم کرنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس عظیم تحریک کے تحت تہران میں سینکڑوں ہزار رضاکاروں کو منظم کیا گیا ہے اور انہیں بٹالینز اور دفاعی یونٹس میں شامل کرنے کے مراحل شروع ہو چکے ہیں جبکہ ہمہ گیر دفاع کے لیے اعلیٰ ترین سطح کی آمادگی حاصل کرنے کی غرض سے بری، فضائی اور بحری خصوصی شعبوں میں ابتدائی اور تکمیلی ٹریننگ کورسز کے انعقاد کا عمل بھی سنجیدگی سے جاری ہے۔

انہوں نے ملک بھر میں اس تحریک کے پھیلاؤ کی بھی خبر دیتے ہوئے کہا: عوام کی لاکھوں نفری پر مشتمل اور پُر جوش تحریک جس کا آغاز تہران سے ہوا ہے، بتدریج ملک کے تمام صوبوں اور شہروں کے سکوائرز اور سڑکوں تک پھیل رہی ہے۔

بسیج مستضعفین آرگنائزیشن کے سربراہ نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں مختلف محاذوں پر دشمنوں کی ناکامی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا: ایرانی قوم کو چند روز میں شکست دینے سے متعلق دشمنوں کے ابتدائی وہم کے برخلاف، معاشرے کی استقامت اور ثابت قدمی نے ایک ٹریلین ڈالر کی امریکی فوج اور صیہونی حکومت کو ناکامی سے دو چار کر دیا ہے لہٰذا اس مزاحمت کا تسلسل نہ صرف امریکی معاشرے کی رائے عامہ کو ہزاروں کلومیٹر دور لاحاصل اخراجات اور فوجی ہلاکتوں کے خلاف احتجاج پر مجبور کر رہا ہے بلکہ مخالفین کی استقامت کو بھی شدید طور پر کم کر چکا ہے۔

انہوں نے آخر میں کہا: اسلامی جمہوریہ ایران عوامی صلاحیت پر انحصار کرتے ہوئے اپنی تمام اسٹریٹجک صلاحیتوں اور دفاعی گزرگاہوں، جن میں آبنائے ہرمز بھی شامل ہے، کی بھرپور طریقے سے حفاظت کر رہا ہے اور دشمن کو تسلیم کرنے پر مجبور کرے گا۔

دشمن کے خلاف مزاحمت، تہذیبی پس منظر رکھنے والی عوامی فضیلت ہے

سپریم کمانڈر انچیف کے عقیدتی اور سیاسی دفتر کے سیاسی نائب جنرل رسول سنائی راد نے بھی ۳۱۳ ہزار نفری پر مشتمل ’’جان فدا‘‘ فوجی مشق کے موقع

پر دفاعی اور سیکیورٹی رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے دنیا میں طاقت کے عناصر کی جانب اشارہ کیا اور کہا: عام طور پر طاقت کے عناصر کا رجحان ہارڈ ویئر کی جانب ہوتا ہے جیسے جغرافیہ اور آبادی اور بعض اوقات ثقافت، لیکن ہمارے ملک میں طاقت کے بنیادی ترین عناصر سافٹ ویئر کی نوعیت رکھتے ہیں اور عوام کی معرکہ آراء ثقافت اور ہمارے تہذیبی پس منظر سے جڑے ہوئے ہیں، جو ایک پہچان رکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: ۳۱۳ ہزار نفری پر مشتمل ’’جان فدا‘‘ فوجی مشق ہماری طاقت کے ایک عنصر کی نمائش ہے۔ ایسی عوام جو عقیدتی نگاہ رکھتی ہے اور ایسی شناخت اور تہذیب سے جڑی ہوئی ہے جو دشمن کے خلاف مزاحمت کو ایک فضیلت سمجھتی ہے، آج سڑکوں پر نکل آئی ہے۔ اس موجودگی کا مطلب جارح دشمن کے مقابلے میں عوام پر مبنی مزاحمت ہے جس کا ایک حصہ ہم نے عوامی رات کے اجتماعات میں دیکھا جبکہ اس کی دوسری سطح آج ۳۱۳ ہزار نفری پر مشتمل ’’جان فدا‘‘ عوامی فوجی مشق میں اسی موجودگی کی صورت میں سامنے آئی ہے۔

جنرل سنائی راد نے اس فوجی مشق میں شریک افراد کی بناوٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس فوجی مشق میں نوعمر سے لے کر درمیانی عمر تک کے افراد، خواتین اور مردوں سمیت مختلف طبقات کی شرکت شامل ہے اور اس میں طبقاتی یا پیشہ ورانہ اعتبار سے کسی قسم کی پابندی موجود نہیں۔ یہ امر ظاہر کرتا ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات اور سطوح میں ایران کے لیے جان فدا ہونا صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک تفہیمی امر ہے جس کا مظہر آج ہم اس عظیم عوامی فوجی مشق میں دیکھ رہے ہیں۔

جان فدا

جان فدا

جان فدا

جان فدا

جان فدا

جان فدا

جان فدا

جان فدا

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں