یمن کی مسلح افواج کو الٰہی ارادے کی پشت پناہی حاصل ہے/ دنیا کی کوئی طاقت یمنی جنگجوؤں کا مقابلہ نہیں کر سکتی، جنرل اشتری
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے شعبۂ معائنہ و تحفظ کے سربراہ جنرل حسین اشتری نے سعودی حکومت کے خلاف یمن کی انصاراللہ تحریک کی صلاحیتوں کے بارے میں کہا: یمن کے جنگجو پوری قوت اور بہادری کے ساتھ اپنے ملک اور اس کی علاقائی سالمیت کا دفاع کر رہے ہیں۔

جنرل اشتری نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ سعودی حکومت یمن کے دلدل میں پھنس چکی ہے، تاکید کرتے ہوئے کہا: یمن کی انصاراللہ تحریک کو الٰہی ارادے کی پشت پناہی حاصل ہے اور کوئی بھی ان کے سامنے نہیں کھڑا ہو سکتا۔ ان شاء اللہ حتمی فتح بھی انہی کے حصے میں آئے گی۔
مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے شعبۂ معائنہ و تحفظ کے سربراہ نے ایران کے خلاف امریکہ کی دھمکیوں اور دشمن کی جانب سے کسی نئی مہم جوئی کی صورت میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ردِعمل کے بارے میں بھی کہا: یہ دھمکیاں کھوکھلی اور بے بنیاد ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے اسلام کے جنگجوؤں کی فتح کے باعث دشمنوں کی تمام سازشیں ناکام ہوں گی۔
دفاع پریس کی رپورٹ کے مطابق، انصاراللہ اور یمن کی مسلح افواج نے گزشتہ برسوں کے دوران الٰہی ارادے اور مقامی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے سعودی حکومت کی مسلط کردہ جنگ کا توازن اپنے حق میں اور جارحین کے خلاف تبدیل کر دیا ہے۔ یمن کی فوج نے ہمہ جہت محاصرے اور غیر متوازن جنگ کے باوجود اپنی دفاعی صلاحیت اس حد تک بڑھا لی ہے کہ آج سعودی عرب کی سرزمین کے اندرونی علاقے بھی ان کے جائز جوابی حملوں کے سامنے غیر محفوظ ہو چکے ہیں جبکہ سعودی حکومت کی اہم تنصیبات، ریاض کے ہوائی اڈے سے لے کر آرامکو کی تنصیبات تک، ان کے شدید حملوں کا نشانہ بنی ہیں۔
اسی دوران، یمن کے جنگجوؤں نے اندرون ملک محاذوں پر بھی پہل اپنے ہاتھ میں لے لی ہے اور باب المندب اور تعز کے محاذوں پر ریاض کے کرائے کے عناصر کو پیچھے دھکیل کر اپنی پوزیشنیں مستحکم کر لی ہیں۔ بلاشبہ، میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی یہ فتوحات، حق کے محاذ کی مدد کے بارے میں الٰہی وعدے کی ایک نشانی ہیں۔ سعودی حکومت جس نے امریکہ اور صیہونی حکومت کی حمایت سے یمن کی مظلوم عوام کے خلاف غیر متوازن جنگ چھیڑی تھی، اب ایک مہلک دلدل میں پھنس چکی ہے۔
