دشمنوں کی دوبارہ شرارت کی صورت میں جدید آلات اور ہتھیار استعمال کیے جائیں گے/ امریکہ میں پیٹرول کی مہنگی قیمت آبنائے ہرمز کی بندش کا ثبوت ہے، ایڈمرل سیاری
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی امور کے رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے فوج کے نائب کوآرڈینیٹر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے تیسری مسلط کردہ جنگ کے بعد فوج کی صلاحیتوں کے بارے میں کہا: فوج نے بالخصوص دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگوں کے بعد کئی اسباق حاصل کیے ہیں جنہوں نے اس کی جنگی صلاحیت میں اضافے پر نمایاں اثر ڈالا ہے۔ فوج نے ان اسباق کے ایک ایک نکتے سے فائدہ اٹھایا ہے اور بری، فضائی اور بحری سرحدوں پر ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے سو فیصد تیاری حاصل کر لی ہے۔ آج آپ جو کچھ دیکھ رہے ہیں، وہ سب پہلے بھی ہو چکا ہے۔ امریکی خود بھی جانتے ہیں کہ صورتِ حال کیا ہے اور آبنائے ہرمز کی حالت کیا ہے۔ وہ جو اقدامات کر رہے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ وہ وہاں سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔

ایڈمرل سیاری نے دشمنوں کی جانب سے دوبارہ شرارت کی صورت میں نئے آلات اور ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں مزید کہا: یقیناً ایسا ہی ہوگا۔ جب ہم حاصل کیے گئے اسباق سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے ایک ایک نکتے کو اپنے لائحۂ عمل میں شامل کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم بہتر ہتھیار اور آلات کو ضرور استعمال میں لائیں گے۔ اس مقصد کے لیے ان تمام نوجوانوں کے جذبے، تخلیقی صلاحیتوں اور جدت طرازی سے فائدہ اٹھایا جائے گا جو آج مسلح افواج، وزارتِ دفاع اور یونیورسٹیز میں سرگرمِ عمل ہیں۔ ورنہ آپ خود جانتے ہیں کہ کوئی ہمیں کہیں سے بھی آلات فروخت نہیں کرتا کہ ہم انہیں خرید سکیں۔ آج ہمارے پاس جو کچھ ہے، وہ اس ملک کے نوجوانوں کی بلند ہمتی کا نتیجہ ہے۔ یقین رکھیں کہ ہم جدید آلات پر انحصار کریں گے تا کہ مستقبل میں بھی دشمن کے خطرات کے سامنے ڈٹ سکیں۔ اس میں کوئی شک نہ کریں۔
فوج کے نائب کوآرڈینیٹر نے آبنائے ہرمز کے کھلے ہونے سے متعلق ٹرمپ کے دعوؤں کے بارے میں مزید کہا: آبنائے ہرمز بند ہے۔ اگر یہ بند نہ ہوتی تو تیل آسانی سے گزر رہا ہوتا اور امریکہ میں پیٹرول کی قیمتیں نہ بڑھتیں۔ آبنائے ہرمز کے مغربی حصے میں سپاہ کی بحریہ جبکہ اس کے مشرقی حصے میں بحیرۂ عمان کے شمالی حصے تک، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج مضبوطی سے موجود ہے اور سو فیصد نگرانی اور کنٹرول رکھتی ہے۔
اگر کوئی جہاز اس راستے سے گزرتا بھی ہے تو وہ باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے ساتھ ہوتا ہے۔ جو بھی بغیر ہم آہنگی کے آبنائے میں داخل ہوتا ہے، اس کے ساتھ جو ہوتا ہے وہ آپ خبروں میں دیکھ لیتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ بھی یہی ہے۔ اگر یہ کھلی ہوتی تو ان ممالک میں پیٹرول کی قیمتیں نہ بڑھتیں۔ لہٰذا جب تک وہ پیٹرول اور ڈیزل کے لیے پریشان ہیں، اس کا مطلب ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہے۔
