تہذیبی تصادم آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے/ ایران سے برتری جتانے والے لہجے میں بات کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے، جنرل ابن‌الرضا

ڈیفنس منسٹری کے نائب وزیر نے کہا کہ تہذیبی تصادم میں الجھنا، آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ ایسی آگ جسے بھڑکانے والے نہ اس کے پھیلاؤ اور نہ ہی اس کے خاتمے کی حدود متعین کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس کے نتائج کو صرف دوسروں تک محدود رکھ سکتے ہیں۔
خبر کا کوڈ: 6325
تاریخ اشاعت: 12 October 2026 - 20:34 - 02January 2648

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کی رپورٹ کے مطابق، ڈیفنس منسٹری اینڈ آرمڈ فورسز سپورٹ کے نائب سربراہ جنرل سید مجید ابن‌ الرضا ڈیفنس منسٹری کے بعض صنعتی اداروں کے سربراہان کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دشمن کی دھمکیوں کے مقابلے میں ہمہ جہت تیاری کی ضرورت پر تاکید کی۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں ہونے والی تبدیلیوں اور بعض امریکی عہدیداروں کے حالیہ بیانات کے تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی سلامتی، خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ دفاعی طاقت کو مسلسل مضبوط بنانے کا تقاضا کرتا ہے۔

جنرل ابن‌الرضا

جنرل ابن‌ الرضا نے ایران کے تاریخی اور تہذیبی مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "ایرانی قوم ایک گہری تاریخی جڑیں رکھنے والی تہذیب کی حامل ہے اور علم، ثقافت، فکر اور حکمرانی کے میدانوں میں اس سرزمین کی تاریخ بہت سے ہم عصر ممالک اور سیاسی ڈھانچوں کی عمر سے کہیں زیادہ قدیم ہے۔ تاہم، آج اہمیت صرف اپنے شاندار ماضی پر انحصار کرنے کی نہیں بلکہ ہمیں اپنی سائنسی، صنعتی اور دفاعی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے ملک کے تاریخی ورثے اور ایرانی قوم کے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے حق کا تحفظ کرنا چاہیے۔"

انہوں نے ایران اور ایرانی تہذیب کے بارے میں امریکی عہدیداروں کے غیر دانشمندانہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "جو لوگ آج ایران اور ہماری قوم کی تہذیبی شناخت کے بارے میں کینہ پرور اور بغض بھرے لہجے میں بات کرتے ہیں یا تو وہ تاریخ سے ناواقف ہیں یا پھر ٹیکٹیکل تصورات کی غلط اور نامکمل سمجھ کے باعث عملی طور پر آگ سے کھیل رہے ہیں۔ یہ معاملات کو سمجھنے میں ایک بڑی غلطی اور انتہائی خطرناک اندازہ ہے۔"

ڈیفنس منسٹری اینڈ آرمڈ فورسز سپورٹ کے نائب سربراہ نے مزید کہا: "ایرانی تہذیب آج یا کل کی پیداوار نہیں کہ چند کینہ پرور اور جاہلانہ بیانات کے ذریعے اسے داغدار یا نظر انداز کیا جا سکے۔ ایران گہری تاریخی جڑیں رکھنے والی سرزمین ہے جس کا انسانیت کے سائنسی، ثقافتی اور فکری ورثے میں ناقابلِ انکار حصہ ہے۔ جو لوگ برتری جتانے اور نفرت پھیلانے کے انداز میں اس شناخت کو نشانہ بناتے ہیں، وہ سب سے پہلے تاریخ، دنیا کی پیچیدگیوں سے اپنی ناواقفیت اور اپنی ناتجربہ کاری کو ظاہر کرتے ہیں۔"

انہوں نے واضح کیا: "دشمن کی جسارت سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ دنیا میں تاریخی اور ثقافتی اختلافات کو سیاسی اور فوجی تصادم کی بنیاد بنانے کی کوشش کی جائے۔ تہذیبی تصادم میں الجھنا آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ ایسی آگ جسے بھڑکانے والے نہ اس کے پھیلاؤ اور نہ ہی اس کے خاتمے کی حدود کو متعین کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس کے نتائج کو صرف دوسروں تک محدود رکھ سکتے ہیں۔ تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے کہ جو طاقتیں برتری کے تصور کے ساتھ ایسے میدانوں میں اتریں، انہیں بالآخر ایسی حقیقتوں کا سامنا کرنا پڑا جنہیں انہوں نے اپنے ابتدائی محاسبات میں جگہ ہی نہیں دی تھی۔"

جنرل ابن‌الرضا نے مزید کہا: "تہذیبی تصادم کی زبان استعمال کرنے والوں سے دوٹوک انداز میں کہنا چاہیے کہ ایران نے اپنی شناخت کسی سے مستعار نہیں لی، اس شناخت کے تحفظ کے لیے اسے کسی کی اجازت درکار نہیں اور نہ ہی وہ دھمکیوں اور تذلیل کو اپنی قوم کے حقِ خود ارادیت کا متبادل بننے دے گا۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ تہذیبی جارحیت کے ذریعے ایرانی قوم کو پسپائی پر مجبور کر سکتے ہیں تو انہوں نے ایران کی تاریخ اور اس قوم کی قوتِ ارادی کو درست طور پر نہیں پہچانا۔ یقیناً یہ سب ان کی بے بسی اور شکست کا نتیجہ ہے۔"

ڈیفنس منسٹری اینڈ آرمڈ فورسز سپورٹ کے نائب سربراہ نے تاکید کرتے ہوئے کہا: "تہذیبی تصادم کو ہوا دینے کے خطرناک نتائج کی ذمہ داری بھی انہی لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو جان بوجھ کر اس راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔ جو لوگ تہذیبی تصادم کی آگ روشن کرتے ہیں، انہیں یہ تصور نہیں کرنا چاہیے کہ اس کے شعلے کبھی ان تک نہیں پہنچیں گے۔ انہیں یہ توقع بھی نہیں رکھنی چاہیے کہ سلامتی کے محاذ بدل جائیں گے اور وہ حقیقی تہذیبوں کے اندر مٹ جانے جیسے نتائج سے محفوظ رہیں گے۔"

انہوں نے مزید کہا: "اس طرزِ عمل کے جواب میں ایران تاریخی شعور، قومی خود اعتمادی، سائنسی اور صنعتی ترقی اور ہمہ جہت دفاعی تیاری پر مشتمل حکمتِ عملی اختیار کرتا ہے۔ ہم نہ اپنی تہذیب ثابت کرنے کے لیے کسی کی تذلیل کرتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو مشتعل کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کو یہ اجازت دیتے ہیں کہ وہ ہم سے برتری جتانے والے لہجے میں بات کرے۔ ہمارا مؤقف واضح ہے: باہمی احترام، قوموں کی خود مختاری، دھمکی دینے اور اپنی مرضی مسلط کرنے سے گریز اور جارحیت کا فیصلہ کُن جواب۔"

ڈیفنس منسٹری کے نائب سربراہ نے آخر میں کہا: "ایران کا دفاع ایسی سرزمین کا دفاع ہے جس کی تاریخ اور شناخت گہری جڑیں رکھتی ہیں اور ایک قوم کے اُس حق کا دفاع ہے کہ جس میں وہ اپنا مستقبل خود تعمیر کرے۔ اسی لیے ملک کی سائنسی، صنعتی اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا کوئی عارضی انتخاب نہیں بلکہ ایک ٹیکٹیکل ضرورت ہے۔ ہم اپنی تاریخ کو جانتے ہیں، اپنے قومی مفادات اور سلامتی کا دفاع کرتے ہیں اور ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہیں گے۔ ہمارا پیغام واضح ہے: ایرانی تہذیب کو نہ ذلیل کیا جا سکتا ہے اور نہ دھمکایا جا سکتا ہے۔ ایرانی قوم کی قوتِ ارادی کو دھمکیوں سے شکست نہیں دی جا سکتی اور تہذیبی تصادم کی آگ بھڑکا کر یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ اس کے شعلے کبھی آگ بھڑکانے والوں تک نہیں پہنچیں گے۔"

جنرل ابن‌الرضا نے مزید کہا: جو لوگ تہذیبی تصادم کی آگ روشن کرتے ہیں، انہیں یہ تصور نہیں کرنا چاہیے کہ اس کے شعلے کبھی ان تک نہیں پہنچیں گے۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں