مغربی ایشیاء اور افریقہ میں کیف حکومت کی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں توسیع

یوکرین کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا دائرہ یورپ کی سرحدوں سے باہر تک پھیلنے کے باعث یہ ملک دہشت گرد گروہوں کی حمایت اور افریقہ اور مغربی ایشیاء میں عدم استحکام پیدا کرنے والی پیش رفت میں شرکت کا مرکزی محور بن چکا ہے۔
خبر کا کوڈ: 6401
تاریخ اشاعت: 07 November 2026 - 15:15 - 27January 2648

دفاع پریس کے بین الاقوامی گروپ کی رپورٹ کے مطابق، دنیا کی سیاسی، فوجی اور سیکیورٹی صورتِ حال ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور دنیا کے بعض ممالک بھی ان تبدیلیوں میں شامل ہو کر عالمی سیکیورٹی کے معاملات میں اپنا کردار ادا کرنے کے ساتھ اپنے سیاسی اور معاشی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یوکرین بھی ان ممالک میں شامل ہے جس نے گزشتہ چند ماہ کے دوران عالمی حالات سے اپنے مفاد کے حصول کی کوشش کی ہے۔

یوکرین

روس کے ساتھ طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں الجھا ہوا کیف، بعض ممالک کے ساتھ فوجی اور ڈرون تعاون کو وسعت دے کر جنگ جاری رکھنے کے لیے مالی وسائل حاصل کرنے اور مزید حمایت سمیٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم مختلف حکومتوں کے ساتھ تعلقات کے علاوہ اس ملک نے دہشت گرد گروہوں کے لیے بھی اپنے دروازے بند نہیں کیے اور اخلاقی حدود کو پامال کرتے ہوئے ناجائز منافع اور مفادات حاصل کرنے کے لیے ہر موقع سے فائدہ اٹھایا ہے۔

یوکرین کی مفاد پرستانہ سرگرمیوں کا ایک قابلِ توجہ پہلو افریقی براعظم میں سرگرم دہشت گرد گروہوں، بالخصوص مالی اور لیبیا جیسے ممالک میں موجود گروہوں کے ساتھ اس کے روابط کا پھیلاؤ ہے۔ دستیاب رپورٹس میں پیش کی گئی معلومات کے مطابق، یوکرینی ماہرین اور فوجی ٹرینرز بعض افریقی ممالک میں نیم فوجی دستوں اور دہشت گرد گروہوں کو ٹریننگ فراہم کر رہے ہیں اور ان گروہوں کو بھاری اور حملہ آور ڈرونز سے لیس کرنے میں بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، افریقی دہشت گردوں کی مسلح ڈرونز چلانے میں عدم صلاحیت کے باعث یوکرینی آپریٹرز افریقہ میں ڈرونز کو براہِ راست کنٹرول کرنے اور دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے میں حصہ لیتے ہیں۔

دوسری جانب، یوکرین کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا دائرہ مغربی ایشثیا تک بھی پھیل گیا ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق، یوکرین کے متعدد ڈرون ماہرین کو اردن کے "الازرق" اڈے سے عراق کے "عین الاسد" اڈے پر منتقل کیا گیا ہے تا کہ وہ داعش کے دہشت گردوں کی ٹریننگ میں حصہ لیں۔ اس کے علاوہ، کُردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے اڈوں پر بھی مذکورہ اہلکاروں کی موجودگی کی اطلاعات شائع ہوئی ہیں۔

مزید برآں، ڈرونز کے شعبے سے تعلق رکھنے والے یوکرینی ماہرین کا ایک گروپ متحدہ عرب امارات میں بھی تعینات ہے۔ یہ افراد اماراتی اور امریکی فوجیوں کو ایرانی ڈرونز کا مقابلہ کرنے کی ٹریننگ دینے کے علاوہ مانیٹرنگ کرنے والے اور خودکش ڈرونز کی تیاری اور اس کے پرزوں کو جوڑنے کے کام میں بھی سرگرم ہیں۔ خلیج فارس کے ممالک کے ساتھ یوکرین کے فوجی معاہدوں کے ساتھ اس قسم کا تعاون، خطے میں اپنے فوجی اور تکنیکی اثر و رسوخ کو وسعت دینے کی کیف کی کوششوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

یوکرین ڈرون مخالف سسٹمز کے شعبے میں سعودی عرب کے ساتھ بھی تعاون کر رہا ہے۔ سعودی عرب کے "کنگ سلطان" اڈے پر "سکائی میپ" ٹیکنالوجی کی تنصیب اس تعاون کی ایک مثال ہے۔ یہ سسٹم ڈرون سے لاحق خطرات کی شناخت، نگرانی اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے کام آتا ہے۔ کویت کے ساتھ دفاعی تعاون بھی 2018ء کے فوجی معاہدے کے تحت وسعت پا رہا ہے۔

ان تعاونوں کے علاوہ، ایران کے خلاف علاقائی جنگ شروع ہونے کے بعد یوکرین نے امریکہ اور اسرائیل کو خوش کرنے اور کشیدگی میں اضافہ کرنے کے لیے ایران کے خلاف معاندانہ اقدامات کرنے کی کوشش کی۔ ان اقدامات میں سے ایک اہم اقدام ایرانی تجارتی جہاز "آنا" پر حملہ تھا۔ یہ جہاز لوہے کی چادروں پر مشتمل غیر فوجی سامان لے جا رہا تھا اور ایک نجی کمپنی کی ملکیت تھا۔ 25 جولائی 2026ء بروز ہفتہ، صبح 6:30 بجے روس کی "آستراخان" بندرگاہ سے 180 کلومیٹر کے فاصلے پر "وولگا-کیسپین" آبی گزرگاہ کے ساتھ، یوکرین کے چار حملہ آور ڈرونز نے اس پر حملہ کیا۔ اس بزدلانہ کارروائی میں ایک ایرانی ملاح شہید اور تین دیگر زخمی ہو گئے۔

اس جنگی جرم کے ارتکاب کے بعد ایرانی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان جاری کر کے حکمرانِ حکومت ہونے کے ناطے کیف کے اس مذموم اقدام کی مذمت کی۔ اس کے علاوہ، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے آذربائیجان، قازقستان، روس اور ترکمانستان کے وزرائے خارجہ کو خطوط لکھ کر اس معاملے پر توجہ مرکوز کی۔

ان تمام پیش رفتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سیکیورٹی کے معاملات میں یوکرین کا کردار اب صرف روس کے ساتھ جنگ تک محدود نہیں رہا۔ عرب ممالک کے ساتھ ڈرون تعاون میں توسیع، افریقہ اور عراق میں دہشت گرد گروہوں کے ساتھ روابط سے متعلق رپورٹس اور ایرانی اہداف کے خلاف فوجی کارروائیاں، یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کیف جنگ اور عدم استحکام کی آگ کو دنیا بھر میں پھیلانے اور اس عدم استحکام کو مالی منافع، سیاسی حمایت اور علاقائی اثر و رسوخ میں اضافے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس دوران، یوکرین کی فوجی سرگرمیوں کا دہشت گرد گروہوں کے معاملات اور علاقائی تنازعات سے جڑ جانا، اس کردار کے مختلف پہلوؤں کا مزید باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت کو بڑھا دیتا ہے۔ دہشت گرد گروہوں کے ساتھ اس ملک کے تعاون سے متعلق رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ یوکرین عالمی عدم استحکام کا مرکز بن چکا ہے اور اپنے اقدامات کے ذریعے دنیا کو مزید تشدد کی دلدل میں دھکیل رہا ہے۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں