فوج ہر سطح کے خطرے کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے/ فضائیہ نے دشمن کے اندازوں کو غلط ثابت کر دیا، بریگیڈیئر جنرل شیخ
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے نائب سربراہ برائے ایڈمنسٹریٹِو اور ایگزیکٹو امور، بریگیڈیئر جنرل علی رضا شیخ نے شہید صیاد شیرازی ملٹری ایئر یونیورسٹی میں جنگِ شہید صیاد شیرازی کے پچیسویں دورے کے موقع پر، مسلط کردہ جنگ میں فوج کی فضائیہ کے کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا:

"فوجی دستے جنگ میں اصولوں، منطق، تکنیک اور حربی حکمتِ عملی کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی الٰہی فضائیہ نے اس جنگ میں خطرے کے مطابق اصولی حربی حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے اپنی تنظیمی صلاحیتوں کو برقرار رکھا اور اپنے پائلٹس کی بہادری کے ذریعے ایسے مناظر تخلیق کیے جنہوں نے دشمن کے اندازوں کو غلط ثابت کر دیا۔"
بریگیڈیئر جنرل شیخ نے شہید کاظمی اور فضائیہ کے دیگر عظیم شہداء کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا:
"ان عزیزوں نے فضائی حربی حکمتِ عملی میں جو تبدیلی پیدا کی، وہ یقیناً تاریخ میں درج ہوگی اور دنیا کی ملٹری اکیڈمیوں میں ایک غیر متوازن حربی حکمتِ عملی کے طور پر پڑھائی جائے گی۔"
فوج کے نائب سربراہ برائے ایڈمنسٹریٹِو اور ایگزیکٹو امور نے مزید کہا:
"اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کی فضائیہ نے تدبر اور دانش مندی کے ساتھ، اپنی صلاحیتوں اور اثاثوں کی حفاظت کرتے ہوئے دشمن کا مقابلہ اس انداز میں کیا کہ آج اس فورس کی صلاحیتیں مستقبل کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے بدستور محفوظ اور عملی طور پر تیار ہیں۔"
انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ٹیکنالوجی کے سطح میں فرق ایسی تخلیقی حکمتِ عملیوں کو اپنانے کا سبب بنتا ہے جن سے صلاحیتیں غیر مؤثر نہیں رہتیں، کہا:
"ٹیکنالوجی پر مبنی عدمِ توازن میں ’چشمِ اسفندیار‘ کا اصول میدانِ جنگ کی حربی حکمتِ عملیوں کا بنیادی محور ہے۔ بحمداللہ، فضائیہ نے اس میدان میں قابلِ قبول کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جس پر مستقبل میں یقیناً دنیا کی ملٹری اکیڈمیوں میں بحث کی جائے گی۔"
بریگیڈیئر جنرل شیخ نے فوجیوں کی بنیادی ذمہ داری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا:
"ہم فوجی کبھی بھی خطروں کا سیاسی تجزیہ نہیں کرتے۔ یہ ہمارے شہید امام کا فرمان ہے کہ ہم فوجیوں کی ذمہ داری دفاع کے لیے تیار رہنا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج اور مسلح افواج خطرے کی ہر سطح پر دشمن کو جواب دینے کے لیے سو فیصد تیار ہیں اور اس وقت انگلیاں ٹریگر پر رکھے ہوئے، اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے موجود ہیں۔"
فوج کے نائب سربراہ برائے ایڈمنسٹریٹِو اور ایگزیکٹو امور نے ملکی سفارت کاری کی جانب سے مسلح افواج کی معاونت کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
"ہم فوجی، سفارت کاری کے پیچھے پیچھے چلتے ہیں اور سفارت کاروں کا ہاتھ مذاکرات کے لیے مضبوط کرتے ہیں تا کہ وہ مذاکرات کی میز پر طاقت کے ساتھ سامنے آئیں۔ یہ مسلح افواج کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ ان شاء اللہ الٰہی وعدے کے مطابق ہمیں فتح و نصرت حاصل ہوگی۔"
