دشمن کے اثاثے ہماری زد میں ہیں/ ہر خطرے کا فوری اور جغرافیائی حدود سے ماوراء جواب دیں گے، میجر جنرل عبداللہی
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کی رپورٹ کے مطابق، مسلح افواج کے سربراہ اور حضرت حضرت خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیڈکوارٹر کے کمانڈر، میجر جنرل علی عبداللہی نے یوم اللہ 04 نومبر یعنی "عالمی سامراج کے خلاف جدوجہد کے قومی دن" کی یاد میں جاری کردہ ایک پیغام میں تاکید کرتے ہوئے کہا: طاقتور ایران، آبنائے ہرمز پر کنٹرول، جو توانائی کی ترسیل کی ایک اہم ترین گزرگاہ ہے، اور اس تک رسائی کے قواعد متعین کرنے کے ذریعے طاقت کے چوتھے قطب کے طور پر ابھرا ہے۔
عبداللہی
اس پیغام کا متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ایرانی قوم کے لیے 04 نومبر "عالمی سامراج کے خلاف جدوجہد کا قومی دن"، محض کیلنڈر پر ثبت ایک مناسبت نہیں بلکہ سامراج کے خلاف جدوجہد کی ایک زندہ دستاویز ہے۔ ایرانیوں کے تاریخی حافظے میں یہ دن تین سبق آموز واقعات کی یاد دلاتا ہے: 1964ء میں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی جلا وطنی، 1978ء میں انقلابی طالب علموں کا قتلِ عام اور 1979ء میں امریکی جاسوس سفارت خانے پر قبضہ۔ یہ تین واقعات 19 اگست 1953ء کی بغاوت اور "ایجیکس آپریشن" کے تناظر میں ایسے واقعات ہیں جن کے بعد سے امریکہ اسی لمحے ایرانی قوم کا مقروض ہو گیا۔
19 اگست کے بعد ایران کے خلاف امریکہ کی دشمنی ایک مسلسل سلسلے کے طور پر رہی ہے، نہ کہ الگ تھلگ واقعات اور حادثات۔ مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ میں صدام کی حمایت اور اس کا ساتھ دینا، منافقین اور انقلاب حکومت مخالف گروہوں کی پشت پناہی، جوہری سائنس دانوں کو نشانہ بنا کر قتل کرنا، اقتصادی جنگ اور پابندیاں، ایرانی قوم کے اثاثوں کو سیل کرنا، لیفٹیننٹ جنرل شہید حاج قاسم سلیمانی کا بزدلانہ قتل اور 2025ء اور 2026ء میں مسلط کردہ 12 روزہ اور 40 روزہ جنگوں میں صیہونی حکومت کے ساتھ عملی طور پر شریک ہونا—جس کے نتیجے میں امت کے قائد اور اسلامی انقلاب کے عظیم الشان رہبر، حضرت امام سید علی خامنہ ای قدس سرہ الشریف، مسلح افواج کے اعلیٰ کمانڈرز، مجاہدین، وطن کے بہادر محافظوں اور بڑی تعداد میں مظلوم ایرانیوں، بالخصوص معصوم بچوں کی شہادت ہوئی—اس ملک کے خلاف امریکیوں کی دائمی اور مسلسل دشمنی کے محض چند پہلو ہیں۔ امریکہ کا یہ سیاہ ریکارڈ اب بھی کھلا ہوا ہے اور دنیا بھر کے لوگ اسلامی انقلاب اور اسلامی وطن کے خلاف وائٹ ہاؤس کی جارحیت اور جرائم کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔
آج ایران اور امریکہ کے درمیان ہائبرڈ جنگ، ایک فوجی تنازعے سے آگے بڑھ کر عالمی طاقت کے توازن کی صورت اختیار کر رہی ہے اور طاقتور ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول، جو توانائی کی ایک اہم ترین گزرگاہ ہے، اور اس تک رسائی کے قواعد متعین کرنے کے ذریعے طاقت کے چوتھے قطب کے طور پر ابھرا ہے۔ یونی پولر سسٹم اس نئی حقیقت کے سامنے گھٹنے ٹیک چکا ہے کہ "قومیں اور علاقائی طاقتیں امریکی سیکیورٹی کی چھتری پر انحصار کیے بغیر اپنی سلامتی کو یقینی بنا سکتی ہیں"۔
فوجی طاقت ہمارے لیے مقصد نہیں بلکہ ایک ذریعہ ہے۔ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن حقائق اور عصر حاضر کے تقاضوں کی بنیاد پر ہماری حکمتِ عملی "دفاع" سے "جارحانہ اقدام میں پہل" اور "بحران کے انتظام" سے "نظام کی تشکیل" کی جانب منتقل ہو چکی ہے۔
اس قابلِ فخر منظرنامے میں "پائیدار سلامتی" کے لیے ایران کا منصوبہ پانچ اصولوں پر مبنی ہے:
۱۔ تمام محاذوں، بالخصوص لبنان اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ، دھمکیوں کے ساتھ بیک وقت مذاکرات مسلط کرنا ہے۔
۲۔ پابندیوں کا مکمل خاتمہ اور ایرانی قوم کے سیل اثاثوں کی بحالی۔
۳۔ مسلط کردہ جنگوں کے نقصانات کا معاوضہ ادا کرنا۔ ایرانی قوم مقروض نہیں بلکہ اس کا حق بنتا ہے کہ اسے معاوضہ دیا جائے۔
۴۔ آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کرنا اور امریکہ کی فرسودہ سیکیورٹی چھتری کی جگہ "آبنائے ہرمز کا نظام" قائم کرنا۔
۵۔ دوبارہ جارحیت نہ ہونے کی ضمانت اور مغربی ایشیاء میں اندرونی صلاحیتوں پر مبنی سیکیورٹی انتظامات کی تشکیل۔
یہ پانچ اصول کمزور پوزیشن ہونے کے ناطے پیش کردہ امن منصوبہ نہیں بلکہ طاقت کی پوزیشن اور ایکٹیو مزاحمت کے تناظر میں نظام کی تشکیل کا نظریہ ہے۔ ایران بالادستی (ہیجمنی) قائم کرنے کا خواہاں نہیں بلکہ اس بالادستی کے خاتمے کے درپے ہے جو 73 سال قبل 19 اگست کی بغاوت کے ذریعے مسلط کی گئی تھی اور آج 04 نومبر کے اسباق کی روشنی میں اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے۔
ہمارا راستہ اسلامی انقلاب کے دونوں عظیم اماموں رحمۃ اللہ علیہ اور شہید قدس سرہ الشریف کا راستہ ہے جنہوں نے امریکہ کو "بڑا شیطان" قرار دیا اور اسلامی جمہوریہ ایران کی "نہ مشرق، نہ مغرب" اور "ایکٹیو مزاحمت" کی حکمتِ عملی اور پالیسی کو ملک کی ایک ناقابلِ انکار حقیقت میں تبدیل کر دیا۔ آج اس کا پرچم ولایت و رہبری کے عظیم مقام اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر، حضرت امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای مدظلہ العالی کے باصلاحیت ہاتھوں میں ہے اور مسلح افواج ان کی مکمل اطاعت کرتے ہوئے فوجی میدان اور ہائبرڈ اور ادراکی جنگ کے محاذوں پر اس راستے کے تسلسل کی ضمانت دیتی ہیں۔
میں ملک کی طاقتور مسلح افواج کی نمائندگی کرتے ہوئے، یوم اللہ 04 نومبر "عالمی سامراج کے خلاف جدوجہد کے قومی دن" کی یاد میں اور اسلامی انقلاب اور عزیز ایران کے شہیدوں، بالخصوص شہید امام اعلیٰ اللہ مقامہ الشریف سے تجدیدِ عہد کرتے ہوئے، سپریم کمانڈر مدظلہ العالی کی حالیہ ہدایات اور احکامات پر لبیک کہتے ہوئے اور دشمن کے شیطانی کیمپ کو خبردار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیتا ہوں کہ مسلح افواج اور وطن کے تاریخ ساز محافظ، ایران کی مبعوث قوم کی قومی حمایت سے بہرہ مند ہونے کے باعث، جو اندرون اور بیرون ملک ایران دشمن عناصر کے مقابلے میں دفاعی ڈیٹرنس کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے، دانش مندانہ جنگی تیاری کو "زیادہ سے زیادہ دفاعی ڈیٹرنس" کی لازمی شرط سمجھتے ہیں۔ ٹارگٹس کی فہرست کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے اور امریکی-صیہونی دشمن کے مادی اور غیر مادی اثاثوں کو اپنی زد میں رکھتے ہوئے، وہ ہر نوعیت اور ہر سطح کے خطرے کا فوری، مؤثر اور جغرافیائی حدود سے ماوراء جواب دیں گے۔
هَيْهَاتَ مِنَّا الذِّلَّةُ
مسلح افواج کے سربراہ اور حضرت خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کمانڈر
میجر جنرل پائلٹ علی عبداللہی
