اردن کے ریڈ کریسنٹ نے ہمیں بتایا کہ اردن پر ہمارے حملے میں 200 امریکی ہلاک ہوئے، جنرل نقدی

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر کے مشیر نے کہا: کویت اور بحرین میں امریکی فوجیوں کی رہائش گاہوں کے طور پر استعمال ہونے والے جن ہوٹلوں کو ہم نے نشانہ بنایا، وہاں رات کے آغاز سے صبح تک ایمبولینسوں کی آمد و رفت جاری رہی۔
خبر کا کوڈ: 6329
تاریخ اشاعت: 13 October 2026 - 21:41 - 03January 2648

دفاع پریس کے دفاعی و سیکیورٹی گروپ کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر کے مشیر جنرل نقدی نے قرآن میں اسلام کی سیاسی حکمت کے موضوع پر منعقد ہونے والے سلسلہ وار اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "جن دنوں جھڑپیں پوری شدت سے جاری تھیں اور ہم خطے میں امریکی ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہے تھے، خلیج فارس کے ساحلی ممالک کے سفیر اور نمائندے جنگ کے عروج پر ہمارے پاس آتے مگر مخالف فریق سے کہتے تھے: 'حملہ کرو!'"

جنرل نقدی

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف آپ ہی نہیں ہیں جو کہتے ہیں کہ حملہ کرو، تم بہت خوب حملہ کرتے ہو؛ وہ بھی اس اقدام کی حمایت کرتے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا: "یہاں تک کہ اس ملک کا وہ شہزادہ بھی، جس کا سفیر وہاں موجود ہے، کہتا ہے: ’حملہ کرو!‘ در حقیقت یہ صورتِ حال ایک صلاحیت اور ایک موقع ہے۔"

جنرل نقدی نے تاکید کرتے ہوئے کہا: "غزہ میں ان کے ارتکاب کردہ جرائم کے باعث وہ عالمی رائے عامہ کے سامنے پہلے سے کہیں زیادہ بے نقاب ہو گئے۔ اردن میں 200 امریکیوں کی ہلاکت کے اعداد و شمار ہمیں اردن کے ریڈ کریسنٹ سے ملے۔ آپ ایک میزائل داغتے ہیں اور اچانک دیکھتے ہیں کہ اردن میں امریکی افواج کے 200 اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ یقیناً وہ ان خبروں کا اعلان نہیں کرتے لیکن ان کی ریڈ کریسنٹ فورسز بر وقت معلومات فراہم کرتی ہیں۔"

انہوں نے یاد دلایا: "وہ کہتے ہیں کہ جنگ کے پہلے دن سے اب تک امریکی فوج کے صرف 18 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں؛ یہ اس صورتِ حال کے مضحکہ خیز پہلوؤں میں سے ایک ہے! بحرین میں ان کے ہوٹل پر ہونے والے حملے کے دوران رات کے آغاز سے صبح کے قریب تک ایمبولینسیں مسلسل آ جا رہی تھیں۔ تو پھر یہ تمام ایمبولینسیں کن لوگوں کو لانے اور لے جانے کے لیے آ رہی تھیں؟ کیا وہ جن تھے؟"

جنرل نقدی نے کہا: "اگر وہ بری کارروائی کے لیے اقدام کرنا چاہیں تو آخر کہاں آئیں گے؟ میرا خیال ہے کہ امریکیوں کے بالکل نجی اجلاسوں میں بری حملے کا موضوع سرے سے زیرِ بحث ہی نہیں آیا۔ ممکن ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے اپنی تشہیری مہم میں بری حملے کی بات کریں لیکن میرے خیال میں وہ اپنے خفیہ اجلاسوں میں بھی اس بارے میں سنجیدگی سے بات کرنے کی جرأت نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایسا قدم اٹھانے کی صورت میں ان کے ساتھ کیا ہوگا۔"

انہوں نے مزید کہا: "عراق کا رقبہ ہمارے ملک کے رقبے کا ایک چوتھائی ہے جبکہ افغانستان کا رقبہ ہمارے ملک کے رقبے کا تقریباً ایک تہائی ہے۔ ان دونوں ممالک کی آبادی بھی ایران کی آبادی کے تقریباً نصف کے برابر ہے۔ اس کے باوجود، ان دونوں ممالک میں امریکہ کی جنگ تقریباً 20 سال تک جاری رہی۔ اس تجربے کے بعد، اگر امریکی ایران کے ساتھ بری جنگ میں داخل ہونا چاہیں تو انہیں کن حالات کا سامنا کرنا پڑے گا اور انہیں کیا قیمت چکانا ہوگی؟"

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں