دشمن کے مقابلے کے لیے ساز و سامان اور مسلح کارروائیوں کے اہداف کے لسٹ کی تجدید/ طویل جنگ کے لیے ہر وقت تیار ہیں، برگیڈیر جنرل اکرمىنیا
دفاعی و سکیورٹی گروپ دفاع پریس، کے ساتھ گفتگو میں برگیڈیر جنرل محمد اکرمىنیا نے کمانڈر ان چیف (رہبر معظم انقلاب اسلامی) کے شکریے کا پیغام عوام تک پہنچاتے ہوئے واضح کیا کہ قوم کی ثابت قدمی نے دشمن کو نہایت کمزور اور بے بسی کی حد تک پسپائی پر مجبور کر دیا ہے۔ ایرانی عوام نے ایک قیادت، ایک پرچم اور وطن کے دفاع کے لئے یکجا ہو کر ایک تاریخ رقم کی ہے۔ جس نے مسلح افواج کے حوصلوں کو نئی توانائی بخشی ہے۔

انہوں نے چاروں عسکری شاخوں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ پیشگی انٹیلیجنس جائزوں کی بنیاد پر تمام افواج اعلیٰ سطح کی تیاری رکھتی تھیں۔ بری فوج نے بروقت کارروائیوں کے ذریعے دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنایا، اصفہان کے واقعے میں دشمن کے طیارے کو تباہ کر کے عملی طور پر اپنی برتری ثابت کی، جبکہ مختلف میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے دشمن کے اڈوں کو نشانہ بنایا۔ سرحدی تحفظ کو اس قدر مضبوط رکھا گیا کہ دشمن زمینی حملے کی جرأت نہ کر سکا۔
فضائی دفاعی نظام نے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ۱۷۰ سے زائد دشمن کے طیاروں اور ڈرونز کو نشانہ بنایا اور ۱۶ جنگی طیارے تباہ کیے۔ یہ کامیابی اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ دشمن جدید ترین اور مہنگے فضائی آلات سے لیس تھا۔
فضائیہ نے بھی دفاعی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے خطے میں دشمن کے اڈوں کو متعدد حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا، عراق کے علاقے اربیل کے مختلف مراکز اور کویت و قطر میں امریکی اڈوں پر حملے کیے گئے۔ یہ کارروائیاں کئی دفاعی حصار عبور کر کے انجام دی گئیں، جس کا اعتراف خود دشمن کے میڈیا نے بھی کیا۔ جنگ کے آخری دن تک ڈرون کارروائیاں جاری رہیں اور فوری جوابی پروازیں (اسکرمبل) بھی مؤثر انداز میں انجام دی گئیں۔
بحریہ نے سمندری محاذ پر دشمن کو دباؤ میں رکھتے ہوئے کروز میزائل اور ڈرون حملے کیے، ساحلی اور جزیروں کے دفاع کو یقینی بنایا گیا اور دشمن کے جنگی بیڑوں، حتیٰ کہ طیارہ بردار جہاز “ابراہام لنکن” کو ایرانی حدود کے قریب آنے سے روک دیا گیا۔
مشترکہ حملوں کے نتیجے میں دشمن کے اہم ریڈار نظام، بالخصوص قطر اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں موجود مرکزی ریڈار، تباہ کیے گئے۔ بن گوریون ایئرپورٹ کے ایندھن کے مراکز اور کمانڈ تنصیبات کو نشانہ بنا کر دشمن کی جنگی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔
ترجمان نے واضح کیا کہ دشمن کی جانب سے شدید سنسرشپ کے باوجود ایرانی حملوں کے اثرات بتدریج نمایاں ہو رہے ہیں اور مستقبل میں مزید حقائق منظرِ عام پر آئیں گے۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ افواجِ ایران مسلسل حالت جنگ میں ہیں، تجربات کی روشنی میں تربیت و حکمتِ عملی کو جدید بنایا جا رہا ہے، اور اگر دشمن نے دوبارہ جارحیت کی تو اسے نئے انداز اور نئے میدانوں میں سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
فوج اور سپاہ کے درمیان ہم آہنگی کو غیرمعمولی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ مشترکہ آپریشنز انتہائی مربوط انداز میں انجام دیے جا رہے ہیں، جہاں میزائل اور ڈرون حملوں کی ترتیب اس طرح رکھی جاتی ہے کہ دشمن کے دفاعی نظام کو مفلوج کر کے اہداف کو یقینی طور پر تباہ کیا جا سکے۔
آبنائے ہرمز کے مغربی حصے کی ذمہ داری سپاہ اور مشرقی حصے کی ذمہ داری بحریہ کے سپرد ہے، جو مکمل عسکری ہم آہنگی کی علامت ہے۔ فضائی دفاع میں بھی یہی اشتراک نمایاں ہے۔
دشمن کو واضح انتباہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ کسی بھی نئی جارحیت کی صورت میں پہلے سے کہیں زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔ ایران کے پاس ایسے متعدد عسکری آپشنز موجود ہیں جو ابھی استعمال نہیں کیے گئے اور ضرورت پڑنے پر جدید حربوں اور تجربات کے ساتھ بروئے کار لائے جائیں گے۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے آخر میں عوام کے کردار کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی گئی کہ مسلح افواج کے سپوت آخری سانس اور آخری قطرۂ خون تک وطن کے دفاع کے لیے ڈٹے رہیں گے۔ بلند حوصلہ، عوامی حمایت اور داخلی پیداواری صلاحیت کے باعث طویل جنگ لڑنے کی مکمل طاقت موجود ہے، حتیٰ کہ دورانِ جنگ بھی ضروری ساز و سامان، خصوصاً ڈرونز، تیار کیے جاتے رہے۔
