امریکہ کو ایرانی سمندری حدود کے قریب آنے کی جرات نہیں، کَموڈور مقدم

اسلامی جمہوریہ ایران کے بحری فوج کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر نے کہا ہے کہ ٹرمپ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ایران کی بحریہ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے؛ اگر یہ درست ہے تو پھر انہیں ایران کی علاقائی سمندری حدود سے 400 تا 500 کلومیٹر کے فاصلے تک آنے کی جرات کیوں نہیں ہوتی؟
خبر کا کوڈ: 5840
تاریخ اشاعت: 02 May 2026 - 16:45 - 24July 2647

دفاعی و سکیورٹی گروپ، دفاع پریس کے مطابق، کَموڈور جلیل مقدم، جو اسلامی جمہوریہ ایران کے بحری فوج کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے تمام شہداء، خصوصاً شہید رہبرِ انقلاب اور جنگِ رمضان کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا ہے کہ

کَموڈور مقدم

ایران کی مقدس سرزمین ہمیشہ سے دشمنوں کی لالچ کا نشانہ رہی ہے، تاہم قوم کے غیور جوانوں کی جرات و بہادری کے باعث یہ سرزمین ہمیشہ ثابت قدم رہی ہے۔ انہی قربانیوں کے نتیجے میں آج کے دن کو “قومی یوم خلیجِ فارس” کے طور پر منایا جاتا ہے۔ خلیجِ فارس اور جزیرہ ہرمز پر پرتگالی استعمار کے 117 سالہ قبضے کے بعد ایرانی جوانوں نے اس تسلط کا خاتمہ کیا۔

انہوں نے بحری بیڑے تباہ کرنے والے بحری جہاز **دنا** کی صلاحیتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ جنگی بحری جہاز بحری افواج کے ماہرین کی کاوشوں سے تین سال سے کم عرصے میں ڈیزائن کیا گیا اور آپریشنل بنایا گیا اور چار سال قبل بحریہ میں شامل ہوا۔ اس نے اپنی سروس کے دوران پانچ طویل المدت بحری مشنز مکمل کیے، جن میں سب سے اہم دنیا کا چکر لگانے والا مشن تھا جو 86ویں جنگی بحری گروپ کے تحت انجام دیا گیا، جس میں 8 ماہ سے زائد بحری گشت اور تقریباً 65 ہزار کلومیٹر کا سفر شامل ہے۔

ایڈمرل مقدم نے کہا کہ ایران مختلف طرح کے جنگی جہازوں سے لیس ہے اور امریکی صدر کے دعوؤں کے جواب میں کہا کہ

ٹرمپ مسلسل بیانات دیتا رہتا ہے، اسے یہی سمجھنے دیں کہ ایران کی بحریہ ختم ہو چکی ہے! اگر واقعی ایسا ہے تو وہ ایران کے قریب آنے کی جرات کیوں نہیں کرتا؟ انہیں اس کا جواب دینا ہوگا۔

انہوں نے امریکی افواج کی جانب سے شپ ڈسٹرویر دنا پر حملے کو مجرمانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایران سے تقریباً 2000 بحری میل دور تھے، لیکن ایک ایسے دشمن کا سامنا تھا جس کے لیے تربیتی اور جنگی مشن میں کوئی فرق نہیں۔ امریکیوں کو علم تھا کہ یہ ایک تربیتی اور تعلیمی مشن ہے اور جہاز بین الاقوامی مشق میں شریک ہے، اس کے باوجود انہوں نے حملہ کیا۔ یہ دشمن سفاک، دہشت گرد اور کھلی جارحیت کا مرتکب ہے، جس سے کسی بہتر طرزِ عمل کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

اختتام پر انہوں نے ایرانی عوام کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے سڑکوں پر آ کر مسلح افواج کے جوانوں کے حوصلے بلند کیے اور کہا کہ

اگرچہ ہم بحریہ سے تعلق رکھتے ہیں، مگر ملک کے مختلف محاذوں، حتیٰ کہ مرکزی علاقوں میں بھی قربانیاں دی ہیں۔ ہر شہید کے ساتھ ہمارا عزم دشمن کی شکست کے لیے مزید مضبوط ہوتا جاتا ہے۔

اسی پروگرام میں جہاز کپتان مجید عمرانی، جو  ڈسٹرویر شپ دنا پر ہونے والے حملے کے عینی شاہد اور زندہ بچ جانے والوں میں شامل ہیں، نے تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ

ہم ۲۴جنوری کو بھارت کی سرکاری دعوت پر ایک تربیتی مشن کے تحت “میلان 2026” بحری مشق میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے، جس کا مقصد امن، دوستی اور سمندری سلامتی کو فروغ دینا تھا۔ ان مشقوں میں بھاری اور دور مار ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی ہوتی ہے۔

واپسی کے دوران ہمیں جنگ کا علم ہوا اور ۰۴ مارچ کو بین الاقوامی پانیوں میں صبح 3 بج کر 25 منٹ پر پہلا ٹارپیڈو جہاز سے ٹکرایا، جس سے جہاز کی نقل و حرکت متاثر ہوئی اور پانی اندر داخل ہونے لگا۔ اس وقت ہمیں حملے کے ماخذ کا علم نہیں تھا، جس پر کمانڈر نے جہاز چھوڑنے کا حکم دیا۔چند منٹ بعد دوسرا ٹارپیڈو جہاز سے ٹکرایا، جو اس مقام پر لگا جہاں عملے کی بڑی تعداد موجود تھی، جس کے نتیجے میں 136 میں سے 104 اہلکار شہید ہو گئے۔

انہوں نے بتایا کہ ہم پانی میں جا گرے اور شدید زخمی ہونے کے باوجود ایک دوسرے کی مدد کرتے رہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ٹارپیڈوز آبدوز سے فائر کیے گئے تھے۔ ہم 32 افراد پانی میں موجود تھے اور شدید زخمی حالت میں پروٹوکول کے مطابق ایک جگہ جمع ہوئے۔ بچ جانے والی امدادی کشتیوں کو استعمال میں لایا گیا، پہلے شدید زخمی افراد کو منتقل کیا گیا اور پھر دیگر افراد کو۔

چند گھنٹوں بعد ایک جنگی کشتی ہماری مدد کے لیے پہنچی۔ ہم نے حتی الامکان شہداء کے جسدِ خاکی جمع کیے، تاہم 20 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ ایک شہید کی اہلیہ کے مطابق وہ 20 افراد اب بھی اپنے فرائض پر مامور ہیں۔

آخر میں جہاز کپتان عمرانی نے کہا کہ یہ ہمارے لیے باعثِ فخر ہے کہ ہم ڈسٹرویر دنا پر شہداء کے ہمراہ خدمات انجام دے سکے۔ ہم وطن کی خاطر جان قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہیں، اور دعا ہے کہ شہداء ہمیں اللہ کے حضور شفاعت کریں۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً