اصفہان میں امریکی دہشت گرد فوج کی شکست کی تفصیلات/ دشمن کے لیے حیران کُن سرپرائزز موجود ہیں، جنرل اکرمی‌نیا

اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے ترجمان نے اصفہان کے دشتِ مہیار آپریشن میں دشمن کی ناکامی کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا: اگر دشمن دوبارہ غلط اندازہ لگائے اور ہمارے ملک کے خلاف جارحیت کرے تو یقیناً اسے مزید حیران کُن سرپرائزز کا سامنا کرنا پڑے گا۔
خبر کا کوڈ: 5867
تاریخ اشاعت: 11 May 2026 - 19:26 - 02August 2647

دفاعی و سکیورٹی گروپ، دفاع پریس کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے ترجمان جنرل «محمد اکرمی‌نیا» نے ایک گفتگو میں ۱۲ روزہ مسلط کردہ جنگ اور تیسری مسلط کردہ جنگ کے اسباق کے حوالے سے کہا ہے کہ چاہے گزشتہ سال جون میں ہونے والی ۱۲ روزہ جنگ ہو یا رواں سال کے مارج میں ایران پر مسلط کی جانے والی تیسری جنگ، دشمن کچھ اہداف کا تعاقب کر رہا تھا، جو دراصل ایک جنگی اور عسکری آپریشن، دہشت گردی اور اعلیٰ عہدیداروں، جن میں رہبرِ معظمِ انقلاب اسلامی اور اعلیٰ فوجی کمانڈرز شامل تھے، کی شہادت کے ذریعے حاصل کیے جانے تھے؛ مقصد یہ تھا کہ شدید نقصان پہنچا کر اور اسلامی جمہوریہ ایران کے سیاسی توازن کو بگاڑ کر ملک میں بدامنی اور افراتفری کی فضا پیدا کی جائے تا کہ نظامِ اسلامی کو گرا دیا

 اکرمی‌نیا نے مزید کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کا سقوط، دشمن کا واحد مقصد ہرگز نہیں تھا؛ دشمن کا حتمی مقصد ایران کی تقسیم تھا، جو بین الاقوامی صہیونزم کی اسٹریٹجک پالیسیوں کے تحت “گریٹر اسرائیل” کے عنوان سے طے شدہ منصوبے کا حصہ تھا۔ “گریٹر اسرائیل” کا مفہوم یہ ہے کہ خطے کے ممالک کو تقسیم کیا جائے، صیہونی حکومت ان ممالک پر قبضہ کرے، ایران کے ساتھ اس کی ہمسائیگی قائم ہو اور آخرکار ایران کو کئی ممالک میں تقسیم کر کے صیہونی حکومت کو عالمِ اسلام اور جنوب مغربی ایشیا کے اس خطے پر برتری اور غلبہ حاصل ہو۔

 برگیڈیر جنرل اکرمى‌نیا

دشمن کا کوئی مقصد پورا نہ ہو سکا

فوج کے ترجمان نے میدانِ جنگ کی صورتحال کے حوالے سے کہا: اگر ہم جنگی حالات کا مختصر اور فوری تجزیہ کریں تو واضح ہوتا ہے کہ دشمن کا کوئی بھی مقصد پورا نہیں ہوا؛ نظام کا سیاسی توازن نہیں بگڑا بلکہ اندرونی اتحاد اور ہم آہنگی مزید مضبوط ہوئی، جس کا مظہر آج بھی سڑکوں پر عوام کی موجودگی سے نمایاں ہو رہا ہے۔ عوام اور حکومتی ذمہ داران دونوں میں قومی جذبہ اور قومی مطالبات کی جانب توجہ پہلے سے زیادہ ہوئی ہے اور اندرون ملک ہر  سطح پر اسلامی جمہوریہ ایران، ماضی کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوا ہے۔

انہوں نے تاکید کی کہ اگر ہم مجموعی  طور پر جائزہ لیں تو یہ  کہنا ہوگا کہ دشمن اپنے پہلے سے طے شدہ کسی بھی مقصد تک نہیں پہنچ سکا اور اس جنگ میں شکست اور واضح ناکامی سے دوچار ہوا۔ کیونکہ جدید جنگوں کا تجزیہ دراصل مقاصد کے حصول کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، لہٰذا چونکہ دشمن اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکا، اس لیے اسے شکست ہوئی۔

فوج کے ترجمان نے دشمن کے غلط اندازوں اور تیسری مسلط کردہ جنگ میں اس کی حیرانی کے حوالے سے کہا کہ ہم پہلے ہی خبردار کر چکے تھے کہ اگر دشمن میلی آنکھ اٹھائے گا تو ہم فوری جواب دیں گے۔ ہم نے واضح کیا تھا کہ جنگ علاقائی ہو جائے گی۔ جیسا کہ ہمارے شہید رہبر نے فرمایا تھا کہ اگر جنگ ہوئی تو وہ علاقائی جنگ ہوگی۔ لیکن دشمن اسی غلط اندازے کا شکار ہوا۔ ہم نے فوراً جواب دیا اور آج اگر۴۰ روز بعد صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہے کہ دشمن انہی غلط اندازوں کے نتیجے میں حیرت انگیز حالات سے دوچار ہوا۔

جنرل اکرمی‌نیا نے کہا ہے کہ دشمن کے لیے پہلی حیرت عوام کی موجودگی تھی۔ عوام عاشقانہ اور روح پرور انداز میں سڑکوں پر آئی، اپنے نظام، ملک اور سرزمین کا دفاع کیا اور دشمن کو حیران کر دیا۔ یہ چیز دشمن کے محاسبات میں کبھی شامل نہیں تھی۔ دشمن سمجھ رہا تھا کہ  ہٹ اینڈ رن  قسم کے آپریشن کے بعد عوام سڑکوں پر نکل کر نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور اس کو گرا دیں گے جبکہ عوام نظام کی حمایت، پشت پناہی اور قومی اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیے میدان میں آئی۔

انہوں نے مزید کہا: دشمن کے لیے دوسری حیرت مسلح افواج تھیں۔ دشمن کا خیال تھا کہ مسلح افواج جنگ میں مزاحمت اور جنگی آپریشن انجام دینے کی صلاحیت نہیں رکھتیں لیکن ہم نے ۴۰ویں روز تک اپنی فوجی طاقت برقرار رکھی، جنگ کو ماہرانہ  انداز میں منظم کیا اور دفاعی اور جارحانہ دونوں قسم کے آپریشن انجام دیے یہاں تک کہ دشمن سمجھ گیا کہ وہ اس مزاحمت کو توڑ نہیں سکتا اور بالآخر جنگ بندی پر مجبور ہو گیا۔

جنگ نے ہمیں آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا

جنرل اکرمی‌نیا نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی سطح پر ہم اب تک آبنائے ہرمز کی صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھا رہے تھے اور دوست و دشمن دونوں کو وہاں سے گزرنے دیتے تھے؛ یہ آمد و رفت بعض اوقات ہمارے لیے بے ضرر اور بعض اوقات نقصان دہ تھی جبکہ دشمن نے اسی راستے میں فوجی اڈے قائم کر رکھے تھے جو ہماری قومی سلامتی کے لیے خطرہ تھے۔

انہوں نے مزید کہا: اسلامی جمہوریہ ایران، جس نے اپنی گرینڈ حکمت عملی میں علاقائی ممالک کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی کو شامل کیا تھا اور بنیادی طور پر خطے میں امن چاہتا تھا، اس جغرافیائی صلاحیت کو اس انداز میں استعمال کر رہا تھا کہ تمام ممالک اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ لیکن اس جنگ نے ہمیں مجبور کیا کہ ہم آبنائے ہرمز کی جغرافیائی سیاسی صلاحیت سے فائدہ اٹھائیں اور آج اس پر حاکمیت نافذ کر دی گئی ہے۔ بین الاقوامی قوانین اور سمندری قوانین کے مطابق یہ ہمارا حق ہے اور اب اس حق کا عملی نفاذ ہو چکا ہے۔

فوج کے ترجمان نے کہا: ہم نے آبنائے ہرمز میں ایک نیا قانونی اور سیکیورٹی نظام نافذ کیا ہے جو ان شاء اللہ مستحکم ہو چکا ہے اور اب جو بھی بحری جہاز اس آبنائے سے گزرنا چاہے گا، چونکہ آبنائے ہرمز ایران کی سرزمینی حدود میں شامل ہے، اسے ہمارے ساتھ ہم آہنگی کرنا ہوگی۔ یہ ایک عظیم جغرافیائی سیاسی صلاحیت ہے جو ہمارے لیے معاشی، سیکیورٹی اور سیاسی فوائد لا سکتی ہے۔

حالیہ جنگ کی سب سے اہم کامیابی

امیر اکرمی‌نیا نے کہا: میں نے امریکی صدر کا ایک بیان دیکھا جس میں اس نے کہا تھا: “مجھے معلوم نہیں تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے اور وہاں انتظامی کنٹرول نافذ کر سکتا ہے”؛ ظاہر ہے کہ یہ اس کی بین الاقوامی امور سے ناواقفیت کی وجہ سے تھا۔ لیکن اب یہ نظام نافذ ہو چکا ہے اور اس علاقے میں ہمارا بنیادی اور اسٹریٹجک کنٹرول قائم ہے جو ایرانی عوام کے لیے اس جنگ کی اہم کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ یہ معاشی، سیاسی اور سیکیورٹی فوائد کا باعث بن سکتا ہے اور شاید اس کی سب سے اہم کامیابی یہ ہو کہ امریکہ کی ثانوی اور حتیٰ کہ ابتدائی پابندیوں کو غیر مؤثر بنانے میں مدد ملے؛ یعنی آئندہ جو ممالک امریکہ کے ساتھ مل کر ایران پر پابندیاں لگائیں گے، انہیں آبنائے ہرمز سے گزرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا موجودہ جنگ بندی دشمن کی جنگ جاری رکھنے کی ناکامی کا نتیجہ ہے یا اپنی دفاعی طاقت بحال کرنے کا موقع ہے کہا کہ اس سوال کا جواب ان تمام احتمالات کو شامل کرتا ہے۔ دشمن نے ابتدا میں اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے تین سے پانچ دن کا وقت مقرر کیا تھا؛ کیونکہ اس  قسم کے آپریشن عموماً مختصر ہوتے ہیں اور امریکیوں نے یہ طریقہ دیگر ممالک میں بھی آزمایا تھا اور بعض جگہ کامیابیاں حاصل کی تھیں۔ مثال کے طور پر عراق میں ۲۰۰۳ میں وہ ۲۱ دن کے اندر بغداد پہنچ گئے تھے یا وینزوئیلا اور افغانستان میں بھی اسی طرز پر کارروائیاں کی گئی تھیں۔

فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ اس لیے دشمن کا ابتدائی تصور یہ تھا کہ وہ اچانک اور شدید حملوں سے اپنے مقاصد حاصل کر لے گا لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی ۴۰ روزہ فعال مزاحمت، جو صرف دفاع تک محدود نہیں تھی بلکہ جارحانہ کارروائیاں بھی شامل تھیں، نے امریکہ کے علاقائی فوجی انفراسٹرکچر اور صیہونی حکومت کے مقبوضہ علاقوں میں شدید نقصان پہنچایا۔ دشمن نے جب یہ فعال مزاحمت دیکھی تو جنگ بندی کی طرف گیا۔

ہر آپشن اور ہر منظرنامے کے لیے تیار ہیں / جنگ بندی کو بھی جنگی حالت سمجھتے ہیں

امیر اکرمی‌نیا نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان بھی ایک ریاکارانہ اقدام تھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ایران کے تجویز کردہ فریم ورک کو مذاکرات کی بنیاد ماننے کو تیار ہیں اور پاکستان میں مذاکرات کے لیے آمادہ ہیں لیکن وہاں بھی انہوں نے اپنی ابتدائی باتوں کے برعکس مؤقف اختیار کیا جس سے مذاکرات رک گئے۔ بہرحال دشمن کا جنگ بندی کی طرف آنا اس کی ناکامی کا ثبوت تھا۔

انہوں نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج جنگ بندی کی صورتحال کو اب بھی جنگی حالت سمجھتی ہیں۔ ہمیں دشمن پر ہرگز اعتماد نہیں ہے اور اسی لیے ہم نے اپنی قوت اور صلاحیت کو مزید مضبوط کیا ہے، اپنے ٹارگٹ بینک کو اپڈیٹ کیا ہے، ضرورت پڑنے پر تربیتی نظام کو بہتر بنایا ہے، دفاعی اور جارحانہ پوزیشنز میں تبدیلی کی ہے اور تمام ضروری اقدامات کر لیے ہیں۔

فوج کے ترجمان نے تاکید کی: عسکری اور علاقائی تبدیلیوں پر نظر رکھنے سے واضح ہے کہ دشمن اب بھی اپنے فوجی ساز و سامان کی نقل و حرکت جاری رکھے ہوئے ہے۔ اگرچہ وہ ظاہری طور پر صلح اور مذاکرات کی بات کرتے ہیں لیکن عملی طور پر خطے میں اپنی فوجی طاقت بڑھا رہے ہیں۔ ہم ہر آپشن اور ہر منظرنامے کے لیے تیار ہیں۔ ہمارے لیے جنگ بندی بھی جنگی حالت ہے؛ صرف فائرنگ رکی ہوئی ہے ورنہ ہماری نگرانی اور دشمن پر نظر بدستور جاری ہے۔

صیہونی حکومت ایران کا فوجی مقابلہ نہیں کر سکتی

امیر اکرمی‌نیا نے کہا: امریکیوں اور صیہونیوں کے درمیان حملے کے لیے تقسیمِ کار کا وجود قطعی تھا۔ ہمارے ریڈار سسٹمز دشمن کے طیاروں اور میزائلوں کی سمت کو پہچان لیتے تھے اور ہمیں آسانی سے معلوم ہو جاتا تھا کہ حملہ امریکی ہے یا صیہونی۔ وہ مکمل تعاون اور ہم آہنگی کے ساتھ کارروائی کر رہے تھے۔

فوج کے ترجمان نے کہا: صیہونی حکومت نے گزشتہ جنگ اور اس جنگ دونوں میں ثابت کر دیا کہ وہ ایران کا فوجی مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی؛ یہ حقیقت ہے، نعرہ نہیں۔ ۱۲ روزہ جنگ میں بھی اگر امریکہ اور علاقائی ممالک کی براہِ راست اور بالواسطہ حمایت نہ ہوتی تو صیہونی حکومت ۲۴ گھنٹے بھی ہمارے مقابلے میں نہ ٹھہر سکتی۔ ہماری جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کی نگرانی خلیج فارس میں امریکی اڈوں سے شروع ہوتی اور اردن تک جاری رہتی تھی۔ یہ تمام امداد اور امریکی جدید ساز و سامان صیہونی حکومت کے اختیار میں تھا، پھر بھی وہ کامیاب نہ ہو سکے۔

انہوں نے کہا: امریکہ نے اپنی پوری طاقت استعمال کی؛ بحری بیڑے، طیارہ بردار جہاز، الیکٹرانک جنگی نظام، طیارے اور ہر ممکن سہولت بروئے کار لائی گئی لیکن پھر بھی کوئی نتیجہ حاصل نہ ہوا۔

دشتِ مہیار آپریشن میں امریکی ناکامی کی تفصیلات

فوج کے ترجمان نے دشتِ مہیار کے واقعے کے حوالے سے کہا کہ  پہلے سے کچھ پیش گوئیاں موجود تھیں۔ ٹرمپ کے نعروں میں سے ایک یہ تھا کہ ایران کے پاس ۶۰ فیصد افزودہ یورینیم موجود ہے جسے ختم کیا جانا چاہیے۔ ہمیں اندازہ تھا کہ وہ یورینیم کو ملک سے نکالنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ اسی لیے مسلح افواج، چاہے فوج ہو یا آئی آر جی سی، اُن مراکز کی حفاظت کے لیے مکمل طور پر تیار تھیں جہاں افزودہ یورینیم رکھا گیا تھا اور ہمیں احتمال تھا کہ دشمن نفوذ یا ہیلی بورن آپریشن کے ذریعے اسے چرانے کی کوشش کرے گا۔

امیر اکرمی‌نیا نے مزید کہا: جن علاقوں کی ذمہ داری فوج کے پاس تھی وہاں ہم نے پہلے ہی اقدامات کر رکھے تھے۔ حتیٰ کہ پہلی بار شاید میڈیا میں بتایا جا رہا ہے کہ متروک ہوائی اڈوں کے لیے بھی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ مثال کے طور پر ان ہوائی اڈوں کی زمینیں اس طرح تیار کی گئی تھیں کہ دشمن ان سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ بعض ہوائی اڈوں پر ہم نے خصوصی یونٹس کو تربیت اور اسلحہ فراہم کیا تھا، جو گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور کندھے سے فائر ہونے والے ہتھیاروں سے لیس تھے اور ہم مکمل اور سو فیصد تیاری میں تھے۔

انہوں نے کہا کہ 5 اپریل کے  آپریشن میں امریکیوں نے الیکٹرانک جنگی کارروائیوں کے ذریعے ہمارے بعض ریڈارز کو ناکارہ بنانے کی کوشش کی تا کہ نفوذ ممکن ہو سکے۔ امریکیوں کے جدید الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز کے باوجود ہم اس کارروائی کو بھانپ گئے۔ اصفہان میں ہماری فورس، جو پہلے سے تیار تھی، شہید بریگیڈیئر جنرل مسعود زارع کی قیادت میں فوراً علاقے میں پہنچی۔

فوج کے ترجمان نے کہا: جب امریکی طیارہ اس متروک ہوائی اڈے پر اتر رہا تھا تو شہید زارع نے کندھے سے فائر ہونے والے ہتھیار کے پہلے ہی فائر سے امریکی C-130 طیارے کے ایک انجن کو نشانہ بنایا۔ طیارہ ہنگامی لینڈنگ پر مجبور ہوا۔ بعد میں ایک اور طیارہ امریکی فورسز کو نکالنے کے لیے آیا کیونکہ آپریشن ناکام ہو چکا تھا۔ امریکیوں نے کوشش کی کہ باقی ساز و سامان، ہیلی کاپٹروں اور نشانہ بنائے گئے طیارے کو زمین پر ہی بمباری کر کے تباہ کر دیں تا کہ کوئی دستاویز ہمارے ہاتھ نہ لگے۔

انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ امریکیوں کے لیے ایک بہت بڑی شکست تھی۔ اس آپریشن کا انکشاف ہمارے لیے ایک عظیم کامیابی تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم اس سازش کو نہیں پکڑ سکیں گے لیکن ہم کامیاب ہوئے۔ ہم نے بروقت کارروائی کی، ان کا آپریشن ناکام بنایا اور یہ اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے ایک عظیم فتح اور امریکہ کے لیے ایک بڑی شکست تھی۔ اسی شکست کے بعد چند دنوں میں امریکیوں نے ایران کے مجوزہ فریم ورک کو قبول کرتے ہوئے جنگ بندی کا اعلان کیا۔

امریکی پائلٹ کی رہائی، ایک فریب تھا

انہوں نے کہا: امریکیوں کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے اپنے پائلٹ کو آزاد کرایا، زیادہ تر ایک فریب تھا؛ کیونکہ ان کے بیانات آپس میں متضاد تھے۔ غالباً ان کی اصل کوشش افزودہ یورینیم چرانا تھی۔ ممکن ہے آنے والے برسوں میں اس آپریشن کے مزید راز سامنے آئیں لیکن بہرحال یہ اسلامی جمہوریہ ایران اور خاص طور پر فوج کی تیاریوں کی ایک عظیم کامیابی تھی۔

فوج کے ترجمان نے کہا: امریکیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اس آپریشن میں ۵۰ سے زیادہ طیارے شامل تھے۔ ان میں بعض فضائی کوَر اور حملوں کے لیے تھے جبکہ کچھ ٹرانسپورٹ اور الیکٹرانک جنگی کارروائیوں کے لیے استعمال ہوئے۔ یہ ایک ایسا آپریشن تھا جس کی بارہا مشق کی گئی تھی لیکن ہماری مسلح افواج کی کوششوں سے اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

خطے میں امریکی اڈوں پر حملوں کی تفصیلات

امیر اکرمی‌نیا نے ۴۰ روزہ جنگ کے دوران فضائیہ کی کارروائیوں کے حوالے سے کہا: جنگ کے ابتدائی دنوں میں فضائیہ نے متعدد پروازیں کر کے کویت، قطر اور اربیل میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ یہ آپریشن کامیاب رہے اور ہمارے جنگی طیارے بحفاظت واپس آئے، اگرچہ بعض سوخو-۲۴ طیارے واپسی پر دشمن کے ائیر ڈیفنس کا نشانہ بنے۔

انہوں نے کہا: فضائیہ کے جنگی طیاروں کے ساتھ ساتھ فوج کے ڈرونز بھی جنگ کے آخری دن تک فعال رہے۔ “آرش ۱” اور “آرش ۲” ڈرونز استعمال کیے گئے، جن میں “آرش ۲” دو ہزار کلومیٹر رینج اور کم ریڈار سگنیچر کی وجہ سے دشمن کے لیے انتہائی مشکل ہدف تھا۔

انہوں نے مزید کہا: فضائیہ کی “اسکرمبل” کارروائیوں نے بھی بہت اہم کردار ادا کیا۔ دشمن مسلسل فضائی حملے کرنے کی کوشش کرتا تھا لیکن ہماری فضائیہ کی بروقت کارروائیوں نے دشمن کے طیاروں کو کئی مواقع پر پسپا ہونے پر مجبور کیا۔

آئی آر جی سی اور فوج کا آبنائے ہرمز میں تعاون

فوج کے ترجمان نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج اور آئی آر جی سی نے جنگ کے دوران خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے تحت قریبی تعاون کیا۔ یہی ہم آہنگی آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی میں بھی نمایاں ہے۔ آئی آر جی سی مغربی حصے کی ذمہ دار ہے جبکہ بحریہ مشرقی حصے، بحیرہ عمان اور بحرِ ہند کی نگرانی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا: حالیہ واقعات میں جب امریکی بحری جہاز خفیہ طور پر گزرنے کی کوشش کر رہے تھے، اسی تعاون کی مثال تھا؛ بحریہ نے وارننگ فائر کیا پھر میزائل، ڈرون اور راکٹوں سے جواب دیا، جس کے بعد امریکی بحری جہاز پسپا ہو گئے۔

ایران کا محاصرہ ممکن نہیں

امیر اکرمی‌نیا نے کہا: امریکی کبھی بھی شمالی بحرِ ہند کے اس وسیع علاقے کو حقیقی محاصرے میں تبدیل نہیں کر سکتے؛ یہ بات تمام عسکری ماہرین جانتے ہیں۔ شمالی بحرِ ہند اور بحیرہ عمان کا نقشہ واضح کرتا ہے کہ اتنے بڑے علاقے کا مکمل محاصرہ ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران ۱۵ ہمسایہ ممالک اور وسیع زمینی سرحدوں کا حامل ہے، اس لیے ایران کو محاصرے میں لینا ممکن نہیں۔ شمال اور جنوب میں ہمارے پاس ایسے راہداری راستے موجود ہیں جن کے ذریعے تجارت جاری رہ سکتی ہے۔

شہید موسوی فاؤنڈیشن جلد قائم ہوگی

فوج کے ترجمان نے کہا: شہید لیفٹیننٹ جنرل «سیدعبدالرحیم موسوی» کے نام سے ایک ثقافتی فاؤنڈیشن کے قیام کے ابتدائی مراحل مکمل ہو چکے ہیں اور یہ ادارہ جلد کام شروع کرے گا۔ اس میں شہید موسوی کے عسکری اور سیاسی افکار کو مرتب کر کے آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ کیا جائے گا۔

دشمن کو دوبارہ انتباہ؛ ہمارے پاس حیران کن سرپرائزز ہیں

امیر اکرمی‌نیا نے آخر میں کہا: آج بھی ہم دشمن کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر وہ دوبارہ جارحیت کرے اور میلی آنکھ سے دیکھے تو جیسا کہ ماضی میں اس نے اپنے فیصلوں کی قیمت چکائی، آئندہ بھی اسے مزید حیران کُن سرپرائزز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ سرپرائزز صرف ہماری مسلح افواج کے عزم و ارادے تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ جدید ہتھیاروں، جنگ کے نئے طریقوں اور سب سے بڑھ کر جنگ کے ایسے نئے میدانوں پر مشتمل ہوں گے جن کا دشمن نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا اور ہم انہی میدانوں میں دشمن کو حیران کر سکتے ہیں۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً