تیسری مسلط کردہ جنگ میں ایرانی پائلٹس کی شاندار کارکردگی
تحریر: شایان میرزایی: دفاعی و سکیورٹی گروپ، دفاع پریس
گزشتہ برسوں کے دوران زیادہ تر تجزیے خطے میں امریکہ کی جدید ٹیکنالوجی، ریڈار اور ائیر ڈیفنس سسٹمز کی برتری پر مرکوز رہے، تیسری مسلط کردہ جنگ کے پہلے دن کی فضائی کارروائی سے متعلق نئی رپورٹ نے میدانِ جنگ کی ایک مختلف تصویر پیش کی ہے؛ ایک ایسی تصویر جس میں ایرانی پائلٹس کا تجربہ، جرات اور آپریشنل حکمتِ عملی پیچیدہ ائیر ڈیفنس کے توازن کو چیلنج کرتی دکھائی دیتی ہے۔

امریکی میڈیا NBC کی رپورٹ کے مطابق، ایک ایرانی F-5 جنگی طیارہ جنگ کے پہلے دن امریکی میرینز کے کیمپ بوہرینگ کو نشانہ بنانے اور دشمن کے ائیر ڈیفنس سسٹمز کی زد میں آئے بغیر اپنے اڈے پر واپس پہنچنے میں کامیاب رہا۔ اگرچہ اس خبر کی مزید سرکاری جزئیات ابھی سامنے نہیں آئیں، تاہم اس نے علاقائی میڈیا اور فوجی حلقوں میں وسیع ردعمل پیدا کیا ہے۔
کیمپ بوہرینگ خطے میں امریکی افواج کے اہم مراکز میں شمار ہوتا ہے اور اس کے آپریشنل دائرے میں کامیاب نفوذ، فوجی لحاظ سے خاص اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔ اس حملے کی اصل اہمیت صرف حملے میں نہیں بلکہ اس کے طریقۂ کار میں سمجھی جا رہی ہے؛ ایک ایسی کارروائی جو غالباً انتہائی کم بلندی پر پرواز، اچانک حملے اور کلاسیکی مگر مؤثر حربوں پر مبنی تھی۔
شائع شدہ معلومات کے مطابق، امکان ہے کہ ایران کی فضائیہ نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں F-5، F-4 اور Su-24 طیاروں کے مشترکہ آپریشنز سے کارروائیاں کی ہوں۔ اسی طرح یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ استعمال ہونے والے بعض ہتھیار روسی ساختہ آزادانہ گرنے والے بم تھے جو کم بلندی پر استعمال کیے جانے کی صورت میں شدید تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مختلف جنگی طیاروں کی بیک وقت موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ فضائی حملوں میں ایک مشترکہ آپریشنل ماڈل اپنایا گیا تھا۔ F-5 اپنی پھرتی اور کم بلندی پر پرواز کی صلاحیت کی وجہ سے، F-4 مختلف اقسام کے ہتھیار اٹھانے کی طاقت کے باعث اور Su-24 دشمن کے اندرونی علاقوں تک نفوذ کرنے والے بمبار طیارے کے طور پر، ایرانی فضائیہ کے آپریشنل منصوبے کے مختلف حصے بن سکتے تھے۔
اس کارروائی کی صداقت کو مضبوط بنانے والی اہم علامات میں سے ایک کویت کے العدیری اڈے پر ایک ناکارہ FAB بم کی دریافت بھی قرار دی جا رہی ہے۔ فوجی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ ایسے بم کی موجودگی کم بلندی پر کارروائی کی علامت ہو سکتی ہے کیونکہ ایسی صورتحال میں بم گرانے کا وقت اور زاویہ انتہائی اہم ہو جاتا ہے اور بعض اوقات گولہ بارود کے نہ پھٹنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایرانی پائلٹ اس کارروائی میں 100 فٹ سے بھی کم بلندی پر پرواز کر رہے تھے؛ ایسی بلندی جس میں جنگی طیارہ عملی طور پر زمین کے بہت قریب آ جاتا ہے اور بیشتر ریڈاروں کے لیے اس کی شناخت مشکل ہو جاتی ہے۔ اس قسم کی پرواز فضائی جنگی حربوں میں سب سے مشکل سمجھی جاتی ہے کیونکہ معمولی سی غلطی بھی طیارے کے زمینی رکاوٹوں سے ٹکرانے یا کنٹرول کھو دینے کا سبب بن سکتی ہے۔
فوجی ماہرین کے مطابق، کم بلندی پر پرواز، خاص طور پر جنگی حالات میں جبکہ طیارہ بھاری ہتھیار لیے ہوئے ہو، غیر معمولی توجہ، طیارے پر مکمل مہارت اور ماحول کے ساتھ انتہائی دقیق ہم آہنگی کا تقاضا کرتی ہے۔ پائلٹ کو بیک وقت زمین کی کیفیت، رفتار، بلندی، ائیر ڈیفنس خطرات اور حملے کے وقت کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے؛ اور یہ سب صرف برسوں کی تربیت اور عملی تجربے سے ممکن ہوتا ہے۔
اسی تناظر میں، بہت سے تجزیہ نگار اس مہارت کی جڑیں آٹھ سالہ دفاع مقدس کے تجربات میں دیکھتے ہیں۔ بعثی عراق کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران ایرانی پائلٹس نے بارہا دشمن کے اندرونی علاقوں میں نفوذ اور بمباری کی سخت کارروائیاں انجام دیں اور کم بلندی پر پرواز ایرانی فضائیہ کی اہم ترین آپریشنل حکمتِ عملیوں میں شامل ہو گئی۔
ان تجربات کو نئی نسل کے پائلٹس تک منتقل کرنا آج ایرانی فضائیہ کے اسٹریٹجک سرمایوں میں شمار ہوتا ہے۔ جنگ کے بعد بہت سے سینئر کمانڈرز اور تجربہ کار پائلٹ، ٹریننگ سینٹرز میں سرگرم ہوئے اور انہوں نے حقیقی جنگی تجربات سے حاصل شدہ علم نوجوان نسل تک منتقل کرنے کی کوشش کی۔ اسی لیے بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ حالیہ کارروائی کی کامیابی صرف آلات یا وقتی حربوں کا نتیجہ نہیں، بلکہ دہائیوں پر محیط آپریشنل تجربات کا ثمر ہے۔
شائع شدہ روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کے پہلے دن ایران کی فضائی کارروائیوں کا بڑا حصہ کامیابی سے انجام پایا اور جنگی طیارے اپنے مشن مکمل کر کے محفوظ طریقے سے واپس آنے میں کامیاب رہے۔ کسی بھی فضائیہ کے لیے یہ معاملہ نہایت اہم ہوتا ہے کیونکہ تجربہ کار پائلٹس اور جنگی طیاروں کی حفاظت آئندہ جنگی کارروائیوں کے تسلسل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق، اس کارروائی کو نمایاں بنانے والی چیز صرف کسی فوجی ہدف کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ پیچیدہ ائیر ڈیفنس نیٹ ورکس کو عبور کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ ہے۔ جدید جنگوں میں اکثر ڈیفنس سسٹم درمیانے اور بلندی پر پرواز کرنے والے اہداف کی شناخت پر مرکوز ہوتے ہیں اور انتہائی کم بلندی پر پرواز اب بھی ایک مؤثر اور حیران کُن حربہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اسی دوران بعض فوجی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایسی کارروائیوں کی کامیابی سب سے بڑھ کر انسانی عنصر سے وابستہ ہوتی ہے۔ جدید ترین ٹیکنالوجی بھی تربیت یافتہ اور فوری فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے پائلٹس کے بغیر مکمل کارکردگی نہیں دکھا سکتی۔ اسی لیے بعض مبصرین نے اس کارروائی میں ایرانی پائلٹس کی کارکردگی کو تجربے، جرات اور مہارت کے امتزاج کی علامت قرار دیا ہے۔
اس رپورٹ کی اشاعت نے ایک بار پھر پرانے مگر جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کیے گئے ایرانی جنگی طیاروں کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ F-5، جس کی اصل ڈیزائننگ کو کئی دہائیاں گزر چکی ہیں، اب بھی ایرانی فضائیہ کے ڈھانچے کا حصہ ہے
اور مرمت، اپ گریڈیشن اور موزوں حکمتِ عملیوں کے ذریعے بعض مشنز میں اپنی افادیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔

مجموعی طور پر، کیمپ بوہرینگ کے خلاف کارروائی کی یہ روایت ظاہر کرتی ہے کہ میدانِ جنگ میں صرف جدید ٹیکنالوجی ہی فیصلہ کُن عنصر نہیں ہوتی۔ عملی تجربہ، جنگی ماحول کی سمجھ، حکمتِ عملی کی درست منصوبہ بندی اور انسانی مہارت اب بھی طاقت کا توازن بدل سکتے ہیں۔ اس کارروائی سے جو چیز تجزیہ نگاروں کے ذہنوں میں باقی رہی، وہ صرف ایک جنگی طیارے کا ڈیفنس سسٹمز سے گزر جانا نہیں بلکہ پیچیدہ فضائی کارروائیوں کو انجام دینے کی ایک مقامی صلاحیت کا مظاہرہ ہے؛ ایسی صلاحیت جو برسوں کے تجربے، ٹریننگ اور آٹھ سالہ دفاع مقدس کے ورثے کو نئی نسل کے ایرانی پائلٹس تک منتقل کرنے کا نتیجہ ہے۔
