عوام مطمئن رہیں، ہم خون کے آخری قطرے تک میدان میں ڈٹے رہیں گے، میجر جنرل حاتمی
دفاعی و سکیورٹی گروپ دفاع پریسکے مطابق، میجر جنرل حاتمی نے ایک ٹیلی ویژن گفتگو میں شہید لیفٹیننٹ جنرل موسوی کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سید عبدالرحیم موسوی کے بارے میں گفتگو کرنا واقعی دشوار ہے کیونکہ وہ غیرمعمولی اور ممتاز شخصیت کے حامل تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سن 1998 سے، جب فوج کی اعلیٰ کمان کی تشکیل ہوئی تو مختلف ڈیوٹیز میں ہم ایک ساتھ خدمات انجام دیتے رہے۔ اس وقت میں فوج کے انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں خدمات انجام دے رہا تھا جبکہ شہید موسوی شمال مشرقی ہیڈکوارٹر کے کمانڈر کی حیثیت سے مشہد کے حساس عسکری خطے کی قیادت کر رہے تھے۔
میجر جنرل حاتمی نے کہا کہ شہید موسوی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ ایک جانب دشمن، بالخصوص امریکہ، صیہونی حکومت اور طاغوتی قوتوں کے مقابلے میں انتہائی صلابت اور شجاعت کا مظاہرہ کرتے تھے جبکہ دوسری جانب رفقائے کار اور عوام کے ساتھ نہایت شفقت اور مہربانی سے پیش آتے تھے۔ ان کے بقول طاقت اور نرمی کا یہ امتزاج آسان نہیں مگر شہید موسوی نے اسے عملی طور پر ثابت کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان کے ساتھیوں سے پوچھا جائے تو سب اس بات کی گواہی دیں گے کہ وہ ایک مضبوط، باوقار اور فیصلہ کُن کمانڈر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مخلص اور دردِ دل رکھنے والے انسان بھی تھے۔ رہبرِ انقلاب نے بھی انہیں “حقیقی مؤمن” قرار دیا تھا۔
فوج کے کمانڈر اِن چیف نے مزید کہا کہ شہید موسوی مسلح افواج میں نظم و ضبط اور عسکری ردہ بندی کی مکمل رعایت کرتے تھے لیکن جب معاملہ سپریم کمانڈر انچیف کے فرامین کا ہوتا تو خود براہِ راست نگرانی کرتے اور پوری سنجیدگی سے اس پر عمل درآمد کراتے تھے۔ عوام سے ان کی مخلصانہ گفتگو بھی مختلف مواقع پر نمایاں رہی۔
انہوں نے بتایا کہ سیلاب اور زلزلے جیسے بحرانوں میں بھی شہید موسوی عوامی خدمت کے معاملے میں انتہائی حساس تھے۔ مثال کے طور پر خوزستان کے سیلاب کے دوران انہوں نے حکم دیا کہ کنکور کے میرٹ بیسڈ امتحان دینے والے طلبہ کو فوجی کشتیوں کے ذریعے امتحانی مراکز تک پہنچایا جائے۔ یہ تمام اقدامات انہوں نے غیر معمولی دلسوزی اور توجہ کے ساتھ انجام دیے۔
میجر جنرل حاتمی نے کہا کہ شہید موسوی ہمیشہ فوجی اہلکاروں کی معاشی زندگی اور فلاح کے امور پر خصوصی نشستیں منعقد کرتے تھے اور اسے ایک الٰہی اقر دینی فریضہ سمجھتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہماری اصل طاقت ایمان اور عقیدہ ہے۔ یہی ایمانی قوت ایرانِ اسلامی کی بنیاد ہے اور ہر سال محرم الحرام میں اس عظیم روحانی طاقت کا مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے
ان کے مطابق یہی قوتِ ایمان ہے جو ایک ایرانی ایف-۵ جنگی طیارے کو امریکی افواج کے ٹھکانوں تک پہنچا کر، جدید دفاعی نظاموں کی موجودگی کے باوجود کامیاب کارروائی اور اس کی محفوظ واپسی کو ممکن بناتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہی ایمانی طاقت دشمن کو اس حد تک بوکھلا دیتی ہے کہ وہ بعض اوقات غلطی سے اپنے ہی طیاروں کو نشانہ بنا بیٹھتا ہے ورنہ عسکری لحاظ سے ایف-۵ کا ایف-۳۵ یا ایف-۱۵ جیسے جدید جنگی طیاروں سے تقابل ممکن نہیں۔
میجر جنرل حاتمی نے مزید کہا کہ ہمارے مجاہدین کے لیے موت کا مسئلہ حل ہو چکا ہے۔ ہم فتح کے لیے لڑتے ہیں لیکن شہادت کو بھی عظیم سعادت سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ روحالله خمینی نے فرمایا تھا کہ چاہے شہادت نصیب ہو یا فتح، دونوں صورتوں میں ہم کامیاب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریۂ ایران کی فوج اور دیگر مسلح افواج میں دینی تربیت کے باعث اس عظیم ذمہ داری کی اہمیت مکمل طور پر واضح ہے اور ہم پوری طاقت کے ساتھ اس مشن کو جاری رکھیں گے۔
اختتام پر انہوں نے کہا کہ مسلح افواج پوری طاقت کے ساتھ ایران کی سرزمین، قومی خودمختاری اور اسلامی جمہوریۂ ایران کے نظام کا دفاع جاری رکھیں گی۔
