امریکی-صیہونی جنگ بندی پر اعتماد کیوں نہیں کرنا چاہیے؟
تحریر: مہدی شہرودی (دفاعی و سکیورٹی گروپ، دفاع پریس )
28 فروری 2026 سے امریکی دہشت گرد فوج اور صیہونی حکومت نے ایران کے اسلامی نظام اور عظیم ایرانی قوم کے خلاف ایک وسیع جنگ شروع کر رکھی ہے۔ یہ تباہ کُن جنگ اب تک نہ صرف امریکہ کے لیے کسی کامیابی کا باعث نہیں بن سکی بلکہ خطے میں امریکہ کے متعدد فوجی اڈوں کی تباہی اور خود کو “سپر پاور” کہلانے والے اس ملک کی ہیبت ٹوٹنے کا سبب بھی بنی ہے۔

امریکہ جو میدانِ جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا، جنگ بندی کے بعد اب مذاکرات کے ذریعے اپنے ناجائز مطالبات منوانا چاہتا ہے؛ حالانکہ جب ایران نے عسکری جنگ میں امریکہ کے سامنے پسپائی اختیار نہیں کی تو یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ مذاکرات کی میز پر اپنے دشمنوں کو کوئی رعایت دے۔
اس حوالے سے وزیرِ خارجہ «عباس عراقچی» کہتے ہیں:“جب بھی کوئی سفارتی حل میز پر آتا ہے، امریکہ ایک احمقانہ فوجی مہم جوئی کی طرف چلا جاتا ہے۔ کیا یہ صرف دباؤ ڈالنے کی اندھی حکمتِ عملی ہے؟ یا کسی تخریب کار کا فریب، جو ایک بار پھر امریکی صدر کو ایک نئے دلدل میں دھکیلنا چاہتا ہے؟ وجہ جو بھی ہو، نتیجہ ہمیشہ ایک ہی نکلتا ہے: ایرانی عوام کبھی بھی دباؤ کے نتیجے میں سر نہیں جھکاتی لیکن ہمیشہ سفارتی امور ہی قربان ہوتے ہے۔”

وہ مزید کہتے ہیں: سی آئی اے غلط اندازے لگا رہی ہے۔ ہمارے میزائل ذخائر اور لانچرز کی صلاحیت 28 فروری کے مقابلے میں ۷۵ فیصد نہیں بلکہ درست اعداد و شمار کے مطابق ۱۲۰ فیصد ہے؛ تاہم اپنی عوام کے دفاع کے لیے ہماری تیاری: ۱۰۰۰ فیصد ہے!
ڈونلڈ ٹرمپ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایران شدت کے ساتھ معاہدے کا خواہاں ہے، درحقیقت مذاکرات میں فریب کی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ایران کو ایک گمراہ کُن راستے پر ڈالنا اور دوبارہ نئی جنگ مسلط کرنا چاہتے ہیں؛ لہٰذا یہی مسئلہ دشمن کی جنگ بندی کی پاسداری کے حوالے سے ایران کے عدم اعتماد کی اہم ترین وجوہات میں شمار ہوتا ہے۔
ایرانی تجزیہ نگاروں اور حکام کے نقطۂ نظر سے امریکہ پر جنگ بندی کے معاملے میں عدم اعتماد کی متعدد وجوہات ہیں جن کی بنیاد زیادہ تر تاریخی تجربات، بارہا عہد شکنی اور امریکی رویّوں میں تضاد پر قائم ہے۔ امریکہ پر ایران کے گہرے عدم اعتماد کی جڑیں متعدد تاریخی واقعات میں معلوم ہوتی ہیں؛ جن میں 19 اگست 1953 کی بغاوت میں امریکی مداخلت، آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے دوران بعثی عراقی حکومت کی حمایت اور ۲۰۱۸ میں جوہری معاہدے «برجام» (ایران، امریکہ، یورپی ٹرائیکا، عوامی جمہوریہ چین اور روسی فیڈریشن کے مابین جامع مشترکہ لائحۂ عمل) سے امریکہ کا یکطرفہ انخلا شامل ہیں۔
بالواسطہ مذاکرات کی بنیاد اور امریکہ پر عدم اعتماد
اسلامی جمہوریہ ایران تیسرے مسلط کردہ جنگی مرحلے میں جنگ بندی کے بعد، اس پیش فرض کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات میں داخل ہوا ہے کہ امریکی فریق قابلِ اعتماد نہیں کیونکہ ماضی میں بھی امریکہ کی بدعہدی کا تجربہ ہو چکا ہے اور یہی رویہ ۱۲ روزہ مسلط کردہ جنگ کے بعد بھی دکھائی دیا۔ «تیسری مسلط کردہ جنگ» میں ایران اور امریکہ کے درمیان نازک جنگ بندی مختصر مدت کے لیے بھی مکمل طور پر برقرار نہ رہ سکی اور جنگ بندی کے اعلان کے ایک دن سے بھی کم وقت کے بعد جنوبی ایران کی آئل ریفائنریز پر امریکہ اور صیہونی حکومت کے حملوں کی خبریں سامنے آئیں؛ اسی طرح امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی، جنگ بندی کی شقوں کی کھلی خلاف ورزی اور مذاکرات کی پیش رفت میں ایک سنگین رکاوٹ تصور کی جاتی ہے۔

جیسا کہ معلوم ہے امریکہ کے سفارتی اقدامات، خصوصاً مذاکرات کی پیشکش، دراصل ایک میڈیا وار اور ذمہ داری سے فرار کی کوشش ہے تا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔ امریکی حکام مسلسل اپنے غیر حقیقی اور انتہا پسندانہ مطالبات اور مؤقف تبدیل کرتے رہتے ہیں جس کے نتیجے میں ایران کو مذاکراتی فریق پر مکمل بے اعتمادی ہو چکی ہے۔
ایران دشمن قوتوں کے ماضی سے حال تک کے مؤقف اور طرزِ عمل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکہ اور صیہونی حکومت کا اصل مقصد صرف ایران کا جوہری پروگرام یا میزائل صلاحیت کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران میں اسلامی نظام کی تبدیلی اور ملک کی تقسیم ہے۔ روزنامہ «نیویارک ٹائمز» نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا کہ صیہونی حکومت کے وزیر اعظم «بنیامین نیتن یاہو» نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک کثیر نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے جس میں ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ اس تناظر میں جنگ بندی کو پائیدار امن کے حل کے طور پر نہیں بلکہ دشمن کی جانب سے ازسرِ نو طاقت جمع کرنے اور آئندہ وسیع تر حملوں کی تیاری کے لیے ایک وقتی وقفے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

موجودہ جنگ بندی کو کسی پائیدار امن معاہدے کے طور پر نہیں بلکہ پرانی امریکی پالیسی یعنی “زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنا” کے بیچ ایک عارضی مہلت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور جنگ بندی کے بعد ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے دوران بھی یہی حقیقت سامنے آئی۔ دشمن کی اس پالیسی کا مقصد ایران سے یکطرفہ رعایتیں حاصل کرنا ہے بغیر اس کے کہ وہ پابندیوں کے خاتمے یا دھمکیوں کے سدباب کے لیے کوئی حقیقی ضمانت دے۔ مزید یہ کہ جب تک اس جارحانہ پالیسی کا ڈھانچہ برقرار رہے گا، ہر قسم کی جنگ بندی کمزور اور عارضی ہی رہے گی۔ یہی عوامل اس امر کا باعث بنے ہیں کہ امریکی۔صیہونی دشمن کی جانب سے جنگ بندی کی تجاویز پر اعتماد کرنا ٹیکٹیکل اعتبار سے ایک سادہ لوحی تصور کی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غاصب صیہونی حکومت ایک ناجائز اور قابض وجود ہے جبکہ امریکہ عالمی طاغوت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ان دونوں “جراثیمِ فساد” کے خلاف جدوجہد ایک نظریاتی اور شناختی اصول ہے نہ کہ محض سیاسی حکمتِ عملی؛ لہٰذا کسی بھی معرکے میں ان کی پسپائی دراصل مجبوری، وقتی کمزوری اور ازسرِ نو طاقت جمع کرنے کا نتیجہ ہوتی ہے نہ کہ ان کی جارحانہ فطرت میں کسی تبدیلی کا نتیجہ۔
امریکہ اور صیہونی حکومت کے نزدیک جنگ بندی کا مقصد جنگ کا خاتمہ نہیں بلکہ ہارڈ وار کو سافٹ وار، اکنامیکل وار اور انٹیلیجنس وار میں تبدیل کرنا ہے، وہ بھی زیادہ شدت کے ساتھ۔ دشمن اپنے جاسوس ذرائع کے ذریعے نفسیاتی طور پر عوام کو غیر مسلح کرنے، اندرونی اختلافات پیدا کرنے اور معاشی دباؤ کے ذریعے اندر سے نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح دشمن جنگ بندی کو اپنے دفاعی نظام کی بحالی، ٹیکٹیکل ذخائر کی تکمیل، سابقہ ناکامیوں کے تجزیے اور ایران کے خلاف نئی نسل کے خطرات کی منصوبہ بندی کے ایک آلے کے طور پر استعمال کرتا ہے؛ اس دعوے کا ثبوت امریکہ اور صیہونی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی بارہا خلاف ورزیاں ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں جنگ بندی کے بعد یہ مشاہدہ کیا گیا کہ امریکہ اور صیہونی حکومت کے جاسوس ڈرونز ایران کے مختلف علاقوں کے اوپر مسلسل پرواز کرتے رہے تا کہ معلومات اکٹھی کی جا سکیں؛ تاہم ایران کے ائیر ڈیفنس سسٹم نے ان اقدامات کا جواب دیتے ہوئے متعدد جاسوس ڈرونز کو مار گرایا۔ جنگ بندی کی یہ کھلی خلاف ورزی اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ دشمن کی کسی بھی قسم کی ضمانت ایک دن بھی پائیدار نہیں اور اس کے تحریری معاہدے بھی صرف کاغذ پر لکھی سیاہی کی حد تک اہمیت رکھتے ہیں؛ لہٰذا اِن ہیبیٹڈ طاقت کا تسلسل، اعلیٰ سطح کی جنگی تیاری اور ہمہ جہت بیداری ہی قومی سلامتی کی ضمانت کا واحد راستہ ہے۔
جیسا کہ عسکری کمانڈرز نے خبردار کیا ہے، مجاہدین کی نظریں دشمن کی نقل و حرکت پر مرکوز ہیں اور ان کی انگلیاں ہر وقت ٹریگر پر موجود ہیں۔ یہ طاقت اور بیداری دشمن کی مسلسل عہد شکنیوں کے تجربات کا نتیجہ ہے اور یہی تجربہ ایران کی بقا کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے حتمی پیغام بالکل واضح ہے: “ہم گزشتہ کل بھی اسی مورچے میں موجود تھے، آنے والے کل بھی زیادہ طاقت کے ساتھ وہیں موجود ہوں گے اور دشمن کے بارے میں کسی بھی قسم کی خوش فہمی کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کرتے رہیں گے۔”
امریکہ سے مذاکرات نہ کرنے کی وجوہات؛ رہبرِ شہید کے کلام کی روشنی میں
رہبرِ شہید نے مختلف مواقع پر امریکیوں پر عدم اعتماد کے حوالے سے حکام کو بارہا خبردار کیا تھا۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ “برجام” کے تجربے نے ہمیں یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہم کسی بھی مسئلے میں امریکہ کے ساتھ ایک قابلِ اعتماد فریق کی طرح بیٹھ کر بات نہیں کر سکتے۔ انسان بعض اوقات دشمن سے بھی گفتگو کرتا ہے لیکن ایسا دشمن جو اپنے وعدے کا پابند ہو اور جس پر یہ اعتماد کیا جا سکے کہ وہ کسی بھی وجہ سے اپنے قول اور وعدے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ایسے دشمن سے بات ہو سکتی ہے لیکن جب یہ ثابت ہو جائے کہ دشمن بدعہد، مکار اور ناقابلِ اعتبار ہے، جو عملی طور پر عہد شکنی سے کوئی گریز نہیں کرتا اور پھر عہد توڑنے کے بعد بھی مسکرا کر نرم لہجے میں اس کی توجیہ پیش کرتا ہے تو ایسے دشمن سے مذاکرات نہیں کیے جا سکتے۔ میں برسوں سے مسلسل یہ دہرا رہا ہوں کہ ہم امریکہ سے مذاکرات نہیں کریں گے اور اس کی یہی وجہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے مسائل، چاہے وہ خطے سے متعلق ہوں یا دیگر معاملات، امریکہ اور اس جیسے ممالک کے ساتھ مذاکرات سے حل نہیں ہوں گے۔ ہمیں اپنا راستے کا انتخاب خود کرنا ہوگا اور اسی پر آگے بڑھتے رہنا ہوگا؛ دشمن کو مجبور کریں کہ وہ آپ کے پیچھے آئے نہ کہ آپ دشمن کے پیچھے دوڑیں۔
رہبرِ شہید کے بیانات اور مؤقف کا مجموعہ ایک بنیادی ٹیکٹکل اصول کو مستحکم کرتا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بارے میں کسی بھی قسم کی سادہ اندیشی کو قومی سلامتی سے غداری تصور کیا جائے گا۔ جنگ بندی کے استحکام کے حوالے سے امریکہ اور صیہونی حکومت پر اعتماد کرنا، رہبرِ شہید کی واضح ہدایات کو نظر انداز کرنے اور “برجام” جیسے تلخ تاریخی تجربات کو دہرانے کے مترادف ہے۔ اس نازک صورتحال میں ثابت قدمی کا راز دشمن کے بارے میں خوش فہمی رکھنا نہیں بلکہ اِن ہیبیٹڈ صلاحیتوں کے تسلسل، جنگی تیاری کے تحفظ اور اس حقیقت کے اثبات میں پوشیدہ ہے کہ مجاہدین کی آنکھیں کھلی ہیں اور ان کی انگلیاں ہمیشہ ٹریگر پر موجود رہیں گی تا کہ دشمن کی کسی بھی حماقت کا سخت اور منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔
