صیہونی حکومت کے وسط میں «امونیم پرکلوریٹ» اور «آرو» اینٹی بیلسٹک میزائلوں کے ذخائر میں دھماکے

«امونیم پرکلوریٹ» اور زمین سے فضا کی جانب فائر کیے جانے والے «آرو» میزائلوں کے ذخائر میں ہونے والے دھماکے دشمن کے لیے نہایت بری خبر بن کر سر پہ آن پڑی ہے کیونکہ اس کے بعد ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے اپنے اہداف تک پہنچنے کی شرح سو فیصد کے قریب پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
خبر کا کوڈ: 5891
تاریخ اشاعت: 19 May 2026 - 14:59 - 10August 2647

تحریر: محمد زرچینی ( دفاعی و سکیورٹی گروپ، دفاع پریس)

ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ نئے عسکری تصادم کا نیا مرحلہ جلد شروع ہو سکتا ہے اور اس معرکے میں دشمن اپنی باقی ماندہ ائیر ڈیفنس صلاحیتوں پر خصوصی انحصار کرے گا

بیت شِمش

صیہونی حکومت کی فوج جن ائیر ڈیفنس سسٹمز کا استعمال کرتی ہے، ان میں «آرو» میزائل ائیر ڈیفنس بھی شامل ہے جسے ایران، امریکہ اور صیہونی حکومت کے درمیان ہونے والی جنگ میں بھی استعمال کیا گیا تھا۔ «جنگِ رمضان» کے دوران قابض صیہونی فوج نے اسی ائیر ڈیفنس سسٹم کی مدد سے ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں کا مقابلہ کیا تھا۔

حال ہی میں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ «بیت شِمش» میں واقع میزائل ڈیفنس سسٹم کے پرزہ جات کا ایک گودام تباہ ہو گیا ہے اور یہ واقعہ مستقبل میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے ساتھ ممکنہ جنگ پر اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے

میڈیا ذرائع کے مطابق «بیت شِمش» میں ہونے والے اس دھماکے میں «آرو» کے فضا نگر میزائل تباہ ہوئے جبکہ ان میزائلوں کے ایندھن نے اس فوجی علاقے میں وسیع پیمانے پر دھماکوں کو جنم دیا۔

بیت شِمش

بیت شِمش میں «سدوت میخا» ایئر بیس پر «آرو» ڈیفنس سسٹم کی تنصیب — مقبوضہ فلسطین کے دل میں۔

«جیوپولیٹک واچ» نامی اکاؤنٹ کے مطابق، «بیت شِمش» میں ہونے والا دھماکہ غالباً ایک کنٹرول شدہ دھماکہ نہیں تھا بلکہ «سوڈیم پرکلوریٹ» ذخیرہ کرنے والے مرکز میں اچانک اشتعال انگیزی کے نتیجے میں پیش آنے والا حادثہ تھا جو زمین سے فضا کی طرف مار کرنے والے میزائلوں کے راکٹ انجنوں کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔

یہ ویب سائٹ مزید لکھتی ہے کہ ہو سکتا ہے «سوڈیم پرکلوریٹ» اور دھماکہ خیز مواد کے نامناسب ذخیرے نے اس حادثے کو جنم دیا ہو کیونکہ اس تنصیب میں اسی نوعیت کے کیمیکل موجود تھے۔ مزید برآں، اس دھماکے نے ممکنہ طور پر بڑی تعداد میں میزائل شکن میزائلوں کو بھی تباہ کر دیا کیونکہ یہ ذخائر اس علاقے کے قریب واقع تھے جہاں اسرائیلی فوج کے Arrow-3 انٹرسیپٹر میزائل بیٹریوں میں سے ایک یا دو کی میزائلیں محفوظ کی جاتی تھیں۔

عبرانی ذرائع ابلاغ بھی «بیت شِمش» کے دھماکے کو غیر کنٹرول شدہ قرار دیتے ہیں۔ ان ذرائع کے تجزیہ نگاروں کے مطابق «بیت شِمش» میں دھماکہ «آرو» زمین سے فضا کی جانب مار کیے جانے والے میزائلوں کے ایک حصے کی تباہی کے نتیجے میں ہوا اور یہ دھماکہ «سدوت میخا» ایئر بیس کے قریب واقع «تومر» تنصیبات میں پیش آیا۔

بیت شِمش

«مڈل ایسٹ اسپیکٹیٹر» نامی اکاؤنٹ کے مطابق «سدوت میخا» ایئر بیس میں میزائل انجنوں کی آزمائش کا ایک مرکز موجود ہے جہاں ماضی میں بھی انجن ٹیسٹ کے دوران دھماکے ہو چکے ہیں۔ یہ بھی ایک ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے، کیونکہ دفاعی کنٹریکٹر «تومر» نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ دھماکہ ایک “پہلے سے طے شدہ تجربے” کا حصہ تھا۔

عسکری تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج اور امریکہ اور قابض صیہونی حکومت کے درمیان ممکنہ نئی جنگ میں میزائل حملوں اور فضائی بمباری کی شدت جنگ کے انجام کا تعین کرے گی؛ لہٰذا ڈیفنس میزائل سسٹم اور بیلسٹک میزائلوں کی موجودگی انتہائی اہمیت کی حامل ہو گی۔

ایران، امریکہ اور صیہونی حکومت کے درمیان ممکنہ عسکری تصادم کے تناظر میں «امونیم پرکلوریٹ» اور «آرو» زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے ذخائر میں دھماکے دشمن کے لیے نہایت بری خبر ہے؛ کیونکہ «آرو» میزائل ڈیفنس سسٹم کے ذخائر کی کمی کا مطلب یہ لیا جا رہا ہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے اپنے اہداف تک پہنچنے کی شرح سو فیصد کے قریب ہو جائے گی۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً