ایران کے حقوق تسلیم نہ کرنا ٹرمپ کے لیے مزید شکستوں کا سبب بنے گا، جنرل طلایینیک۔
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی رپورٹر کے ساتھ گفتگو میں منسٹری آف ڈیفنس اینڈ آرمڈ فورسز نے ایران کے خلاف جنگ میں ٹرمپ کے پھنس جانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ٹرمپ کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ ایرانی قوم کے مطالبات اور اسلامی جمہوریہ ایران کے قانونی حقوق کو تسلیم کرے۔

جنرل طلایینیک: ٹرمپ کی امریکی قومی مفادات کی نسبت لاپرواہی/ ٹرمپ کا متکبرانہ رویہ امریکہ کو خلیج فارس کے دلدل میں مزید دھنسائے گا
انہوں نے مزید کہا: میدانِ جنگ اور سفارتی محاذ دونوں میں ایرانی قوم کے جائز مطالبات کو پورا کرنا ہی امریکی۔صیہونی دشمن کے لیے “تیسری مسلط کردہ جنگ” سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔
منسٹری آف ڈیفنس کے ترجمان نے تاکید کی: دشمن اگر ایرانی قوم کے برحق مطالبات کو قبول نہیں کرتا تو اس کے نتیجے میں ٹرمپ اور صیہونی دشمن کو مزید بھاری نقصانات، اخراجات اور مسلسل شکستوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا: ٹرمپ کو چاہیے کہ ایران کی تجاویز قبول کرتے ہوئے امریکہ کی عوام اور عالمی برادری پر جنگ کے مزید نقصانات اور اخراجات مسلط ہونے سے بچنے کے بارے سوچے۔
جنرل طلایینیک نے آخر میں کہا: ٹرمپ کی جانب سے امریکی قومی مفادات کو نظرانداز کرنا، صیہونی حکومت کی پیروی کرنا اور اس کا غرور و تکبر پر مبنی رویہ، امریکہ کو جنگ کے دلدل میں مزید دھکیل دے گا۔
