دافوس کے اساتذہ نے عسکری آپریشنز کی منصوبہ بندی میں مؤثر کردار ادا کیا، جنرل اسماعیلی

آرمی کمانڈ اینڈ اسٹاف یونیورسٹی (دافوس) کے کمانڈر نے کہا کہ خرمشہر کی آزادی، ایرانی مسلح افواج اور بعثی حکومت کے درمیان جنگ کا سب سے اسٹریٹجک محاذ تھا اور دافوس کے نامور اساتذہ نے آٹھ سالہ دفاعِ مقدس کے بڑے فوجی آپریشنز کی منصوبہ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
خبر کا کوڈ: 5917
تاریخ اشاعت: 28 May 2026 - 02:48 - 19August 2647

دفاع پریس کے دفاعی و سیکیورٹی گروپ  کی رپورٹ کے مطابق، یومِ آزادیٔ خرمشہر کی یاد میں منعقدہ تقریب منگل کی صبح آرمی کمانڈ اینڈ اسٹاف یونیورسٹی (دافوس آجا) کے شہید فلاحی ہال میں منعقد ہوئی، جس میں جنرل «فرزاد اسماعیلی»، اساتذہ، کمانڈرز اور دافوس کے ۸۶ویں کورس کے طلبہ نے شرکت کی۔

جنرل اسماعیلی

جنرل اسماعیلی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آپریشن بیت‌المقدس کی سالگرہ کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا:“بعثی عراق کی جارحیت اور مسلط کردہ جنگ کے آغاز کے بعد آپریشنل محاذوں پر دافوس کے افسران اور اساتذہ کی ضرورت شدت سے محسوس کی گئی۔ اسی لیے دافوس کو مختصر مدت کے لیے بند کیا گیا تا کہ افسران اور اساتذہ محاذِ جنگ پر جا کر افواج کی تربیت، آپریشنل ڈیزائننگ، اسلامی مجاہدین کی معاونت اور جنوبی اور مغربی محاذوں پر زمینی فوج کے فارورڈ ہیڈکوارٹرز کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کریں”۔

انہوں نے مزید کہا کہ فوج اور آئی آر جی سی کے باہمی تعاون سے تین بڑے عسکری آپریشنز — طریق‌القدس، فتح‌المبین اور بیت‌المقدس — مرحلہ وار اور باہم مربوط انداز میں انجام دیے گئے جو کامیاب آپریشن ثامن‌الائمه کے تسلسل کا حصہ تھے۔

دافوس کے کمانڈر نے کہا:“بعد ازاں جب آپریشنل سطح پر فیصلہ ساز اور تربیت یافتہ عسکری قیادت تیار کرنے کے لیے تعلیمی کورسز دوبارہ شروع ہوئے تو بعض کمانڈرز اور افسران محاذ سے واپس یونیورسٹی آئے لیکن انہیں ضرورت کے مطابق شمال مغربی، مغربی اور جنوبی ہیڈکوارٹرز میں آپریشنل منصوبہ بندی کے لیے دوبارہ بھیجا جاتا رہا”۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ دافوس کے ممتاز اساتذہ نے ثامن‌الائمه، طریق‌القدس، فتح‌المبین، کربلائے ۶، والفجر ۴ اور دیگر اہم آپریشنز کی منصوبہ بندی میں نمایاں کردار ادا کیا۔

جنرل اسماعیلی نے آپریشن بیت‌المقدس کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا:“یہ آپریشن اسلامی مجاہدین کی سب سے اہم اسٹریٹجک کارروائیوں میں سے ایک تھا جو فتح‌المبین کی کامیابی کے بعد شروع کیا گیا۔ اس کامیابی کے بعد فوج اور آئی آر جی سی کی بڑی تعداد جنوبی محاذوں پر تعیناتی کے لیے تیار ہو گئی تھی”۔

انہوں نے بتایا کہ یہ آپریشن اہواز کے جنوبی اور خرمشہر کے شمالی محاذ پر تقریباً ۵۴۰۰ مربع کلومیٹر کے علاقے میں کئی مراحل میں انجام دیا گیا اور 04 جون 1982 تک جاری رہا۔

ان کے مطابق، اس سے قبل ثامن‌الائمه آپریشن میں آبادان شہر کا کیا جانے والا محاصرہ توڑا جا چکا تھا، طریق‌القدس میں بستان شہر آزاد ہو چکا تھا اور فتح‌المبین میں ایران کی مٹی کا بڑا حصہ دشمن سے واپس لیا جا چکا تھا جس سے مجاہدین کے حوصلے بلند ہو گئے تھے۔

جنرل اسماعیلی نے آپریشن میں شریک فوجی یونٹس کی تفصیل دیتے ہوئے کہا کہ اس میں قزوین کا آرمرڈ لشکر ۱۶، اہواز کا آرمرڈ لشکر ۹۲، آذربائیجان کا پیدل لشکر ۲۱، شیراز کی آرمرڈ ۳۷ بریگیڈ، ائیر بارن بریگیڈ ۵۵، نوہد کی ۲۳ بریگیڈ، خراسان کا پیدل لشکر ۷۷، فضائیہ، آرٹلری گروپس، انجینئرنگ یونٹس اور ٹیلی کمیونیکیشن دستے شریک تھے۔

انہوں نے آخر میں کہا:”خرمشہر کی اہمیت اس وجہ سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ بعثی حکومت اور ایرانی مسلح افواج کے درمیان جنگ کا سب سے اسٹریٹجک مقام تھا اور جو فریق اس علاقے پر غلبہ حاصل کرتا، وہی جنگ کا فاتح سمجھا جاتا تھا”۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں
الأکثر تعلیقاً