امریکہ کو مفاہمتی معاہدے کی شقوں کی پابندی کرنا ہوگی / فوج کا ٹارگٹ بینک اپ ڈیٹ کر دیا گیا ہے، فوج کے ترجمان
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے ترجمان جنرل محمد اکرمینیا نے نیوز چینل کے ایک پروگرام "سلام خبرنگار" میں گزشتہ شب امریکی دہشت گرد فوج کی جانب سے ایران کے مختلف علاقوں پر کیے گئے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ، خصوصاً اس کا موجودہ صدر، وعدہ خلافی کی طویل تاریخ رکھتا ہے۔ ہم نہیں بھولے کہ یہی امریکی صدر تھا جس نے جوہری معاہدہ (JCPOA) کو سبوتاژ کیا اور بین الاقوامی معاہدوں سے دستبردار ہو گیا۔ اس کی وعدہ خلافی کی ایک طویل تاریخ ہے اور ایران اور امریکہ کے حالیہ مفاہمتی معاہدے میں بھی ہم نے امریکیوں کی بدعہدی دیکھی ہے۔

جنرل اکرمینیا نے مزید کہا کہ امریکی، ایران اور امریکہ کے درمیان موجود مفاہمتی معاہدے کے برخلاف، آبنائے ہرمز میں ایک نیا راستہ مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ معاہدے کے مطابق آبنائے ہرمز میں ہر قسم کی آمد و رفت کی ذمہ داری ایران کے سپرد ہے۔ ایران بھی ایک جمہوری اقدام کے طور پر اس حوالے سے عمان کے ساتھ ایک مفاہمت طے کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن امریکی مداخلتوں نے آبنائے ہرمز میں عدمِ تحفظ پیدا کر دیا ہے۔
فوج کے ترجمان نے کہا کہ پیش آنے والی جھڑپیں امریکی مداخلتوں کا نتیجہ ہیں اور واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی ذمہ داری ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کے لیے ضروری سیکیورٹی فراہم کریں اور معاہدے کے مطابق ایران کی طے کردہ ترتیبات نافذ کریں۔ ہم پوری طاقت کے ساتھ اس ذمہ داری پر قائم ہیں اور معاہدے میں درج ایرانی عوام کے حقوق کا مضبوطی سے دفاع کریں گے۔
انہوں نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں کہا کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ معاہدے کی پابندی کرنے کے ساتھ ساتھ خطے میں اپنے اتحادیوں کی صورتِ حال پر بھی توجہ دے اور انہیں مزید عدمِ تحفظ سے دوچار نہ کرے۔ انہوں نے جب بھی ایران کے خلاف کوئی کارروائی کی، اس کا جواب موصول کیا۔ گزشتہ رات بھی ایسا ہی ہوا اور انہیں اسلامی ایران کا مضبوط اور فیصلہ کُن جواب ملا۔
جنرل اکرمینیا نے کہا کہ فوج اپنی جنگی تیاریوں میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے کبھی بھی امریکہ اور دیگر دشمنوں پر اعتماد نہیں کیا اور جنگ بندی کے وقفے کو اپنی جنگی صلاحیت اور تیاری بڑھانے کے لیے استعمال کیا ہے۔ فوج کا ٹارگٹ بینک اپ ڈیٹ کر دیا گیا ہے اور تمام ممکنہ منظرناموں کے لیے مکمل تیاری کی گئی ہے لہٰذا امریکہ کو چاہیے کہ خطے میں اپنی مداخلت بند کرے۔
انہوں نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں ایران اور عراق میں انقلاب کے شہید رہبر کی تشییع اور الوداعی تقریبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے درحقیقت اپنے غم کو ایک عظیم معرکے میں تبدیل کر دیا اور ایک الرٹ کو فرصت کی شکل دے دی۔ اس عظیم عوامی شرکت کا پہلا پیغام اسلامی ایران کے اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ تھا۔ عوام نے دنیا کے سامنے اسلامی نظام کی مقبولیت اور مشروعیت کو بھی نمایاں کیا اور انقلاب کے شہید رہبر کے راستے پر ثابت قدم رہنے کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے انتقام کو بھی اپنے اہم مطالبات میں شامل کیا۔
فوج کے ترجمان نے آخر میں کہا کہ عوام کی یہ بھرپور شرکت بین الاقوامی سطح پر اسلامی جمہوریہ ایران کی طاقت میں اضافے کا باعث بنی ہے۔ یہ تاریخی عوامی موجودگی دراصل اسلامی جمہوریہ ایران کی Soft Powerکی عکاس ہے اور دنیا کے تمام ممالک پر لازم ہے کہ وہ اس عوامی شرکت اور ایرانی عوام کی خواہشات کا احترام کریں۔
