صیہونی حکومت کے خاتمے کے بغیر، خطہ پُرامن نہیں ہو سکتا، آئی آر جی سی
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، آئئ آر جی سی نے اپنے بیان میں حماس کے دو مجاہد کمانڈرز، «مجاہد محمد عوده» المعروف «ابوعمرو» اور «عزالدین الحداد» المعروف «ابوصهیب» کی شہادت پر تبریک و تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا:
صیہونی حکومت کے خاتمے کے بغیر مغربی ایشیا کا خطہ سکون کا دن نہیں دیکھ سکتا اور وہ امن جس کا دعویٰ امریکہ کا خبیث اور جواری صدر کرتا ہے، دراصل قتلِ عام، خونریزی اور دہشت گردی کے علاوہ کچھ نہیں۔

آئی آر جی سی کے بیان کے ایک حصے میں کہا گیا:«مجاہد محمد عوده (ابوعمرو)» کی اپنی اہلیہ «ام عمرو» اور تین بچوں «یاسر، یحییٰ اور جمیلہ» سمیت غزہ شہر پر صیہونی حکومت کے فضائی حملے میں شہادت، نیز «عزالدین الحداد (ابوصهیب)» جو «کتائبِ شہید عزالدین القسام» کے کمانڈرز میں سے تھے اور تقریباً چار دہائیوں تک صیہونیوں کے خلاف برسرِ پیکار رہے، ایک بار پھر اس غاصب، جلاد، دہشت گرد اور شیطانی صیہونی حکومت کی درندگی اور سفاکی کو بے نقاب کرتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا:تقریباً آٹھ دہائیوں پر مشتمل جعلی اور غاصب صیہونی حکومت کے جرائم کا سیاہ ریکارڈ ایک بار پھر عالمی برادری، خصوصاً انسانی حقوق اور اقوام کی آزادی کے دعویداروں پر یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ اس طفل کُش اور شیطانی حکومت کے مکمل خاتمے کے بغیر مغربی ایشیا کا خطہ ہرگز امن کا دن نہیں دیکھ سکتا اور وہ منصوبے جنہیں نام نہاد “امن” کہا جاتا ہے اور جن کی بات امریکہ کا خبیث اور جواری صدر کرتا ہے، حقیقت میں قتل، خونریزی اور دہشت گردی کے سوا کچھ نہیں۔
بیان میں غزہ کی مظلوم عوام اور حماس کے مجاہدین کی ثابت قدمی کا حوالہ دیتے ہوئے تاکید کی گئی:ان سرفروش کمانڈرز کی شہادت نہ صرف مزاحمت کو کمزور نہیں کرے گی بلکہ فلسطین اور بیت المقدس کی آزادی تک جہاد اور مزاحمت کے تسلسل کا سبب بنے گی۔
بیان کے اختتام میں فلسطینی اسلامی مزاحمت کے بہادر کمانڈرز کی شہادت پر تبریک و تعزیت پیش کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران اور عوامی اور طاقتور آئی آر جی سی کی جانب سے مزاحمتی محور کی ہمہ جہت حمایت اور آئی آر جی سی کے ایمانی، عقیدتی اور ناقابلِ اختتام عزم پر زور دیا گیا تا کہ بیت المقدس کے غاصبوں اور ان کے حامیوں کو سزا دی جا سکے۔
