ریاض کا انصار اللہ یمن کے لیے جوہری تحفہ
تحریر: محمد رزم جو (دفاع پریس، بین الاقوامی گروپ)
گزشتہ برسوں کے دوران خلیج فارس میں طاقت کے توازن میں آنے والی تبدیلیوں نے پہلے سے کہیں زیادہ واضح کر دیا ہے کہ ایکٹیو جغرافیائی اور سیاسی شگافوں والے خطے میں طاقت کے روایتی اندازے کس حد تک کمزور ثابت ہو سکتے ہیں۔ یمن کے خلاف فوجی جارحیت اور مسلسل ہمہ گیر محاصرے کے جواب میں انصار اللہ اور یمن کی مسلح افواج کی ثابت قدمی اور ڈیٹرنٹ جوابی کارروائیاں صرف مشروع حقِ دفاع کے مطابق ایک عسکری ردعمل نہیں بلکہ کلاسیکی دفاعی ماڈل سے نکل کر مقامی صلاحیتوں کی بنیاد پر نئے ٹیکنیکل توازن مسلط ہونے کی حقیقت کی نمائندگی بھی کرتی ہیں۔

اس توازن کے مرکز میں ریاض کی ایک اور دیرینہ غلط فہمی نمایاں نظر آتی ہے اور وہ "بیرونی طاقت" اور "بڑی ٹیکنالوجیز" کو حفاظتی چھتری سمجھنے کا تصور ہے۔ قومی سلامتی کے لیے امریکہ پر مسلسل انحصار ایک ناکام حکمتِ عملی ثابت ہوئی ہے کیونکہ بڑی طاقتیں ہمیشہ طاقت کے توازن اور اپنے وقتی مفادات کے مطابق فیصلے کرتی ہیں اور فیصلہ کُن مواقع پر اپنے علاقائی اتحادیوں کو تنہا چھوڑ دیتی ہیں۔ اسی حقیقت کے پیشِ نظر جوہری ٹیکنالوجی اور تنصیبات کی طرف رجحان کو تحفظ یا علاقائی برتری حاصل کرنے کے ایک ذریعے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن یہ تصور کہ جوہری طاقت بن جانا سلامتی کی غیر مشروط ضمانت فراہم کرتا ہے، محض ایک سراب ہے۔
اسی خطے کی تاریخی تجربات نے اس مفروضے کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ پاکستان اس حوالے سے ایک نمایاں مثال ہے۔ ایک ایسا ملک جو جوہری طاقت بننے اور ایٹمی طاقتوں کے کلب میں شامل ہونے کے باوجود بھارت اور افغانستان جیسے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اپنی دائمی کشیدگی، اندرونی عدم استحکام اور مسلسل سرحدی تنازعات کو کبھی ختم نہ کر سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ جوہری ہتھیار اور ٹیکنالوجی اسلام آباد کے لیے نہ صرف حفاظتی ڈھال ثابت نہ ہوئے بلکہ بین الاقوامی sensitivity، جغرافیائی اور سیاسی دباؤ اور نئے سیکیورٹی خطرات کا ایک نیا ذریعہ بھی بن گئے۔ یہ تاریخی سبق واضح کرتا ہے کہ سیاسی ہم آہنگی کے بغیر جوہری صلاحیت نہ توازن پیدا کرتی ہے اور نہ ہی استحکام لاتی ہے۔ یہی مسئلہ سعودی عرب کے معاملے میں مزید نمایاں صورت اختیار کر لیتا ہے۔
اسی بنیاد پر اس حقیقت پر توجہ دینا ضروری ہے کہ یمن ایک متعین سرزمین، تاریخی شناخت اور ایک خودمختار قوم رکھتا ہے جس کے بارے میں کسی بیرونی طاقت کو فیصلہ کرنے یا مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں۔ پابندیوں، عسکری دباؤ اور مہنگے ترقیاتی منصوبوں کے باوجود انصار اللہ اپنے بنیادی حقوق اور یمن کے محاصرے کے خاتمے کے مطالبے سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹی۔ یہی وہ عین مقام ہے جہاں جوہری تنصیبات کا اندرونی تضاد نمایاں ہو جاتا ہے۔
یمن کے میزائلوں اور ڈرونز کے اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت اور آپریشنل رینج میں نمایاں اضافہ، جس کا ثبوت پہلے آرامکو جیسی انتہائی حساس تنصیبات کے خلاف درست حملوں میں سامنے آ چکا ہے، ڈیٹرنس کی ایک نئی مثال مسلط کر چکا ہے۔ یہ تکنیکی ترقی واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ انصار اللہ اور یمن کی مسلح افواج آج اس سٹرکچرل اور آپریشنل صلاحیت کی حامل ہیں کہ اگر دشمنی جاری رہی تو وہ تیل کے بنیادی ڈھانچے کے علاوہ سعودی عرب کی جوہری تنصیبات اور جوہری بجلی گھروں کو بھی انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنا سکتی ہیں۔
یہ ناقابلِ تردید حقیقت ریاض کے سلامتی سے متعلق حساب کتاب کو خود اس کے خلاف موڑ دیتی ہے کیونکہ جتنا زیادہ کوئی ملک مہنگے، پیچیدہ اور بنیادی ڈھانچے تعمیر کرتا ہے، اگر وہ اپنے اردگرد کے تنازعات کی بنیادی وجوہات حل نہ کرے تو درحقیقت وہ صرف "زیادہ بڑے، زیادہ حساس اور زیادہ کمزور اہداف" کو اپنے مخالف کی ڈیٹرنٹ صلاحیت کی زد میں لے آتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں جوہری تنصیبات حفاظتی ڈھال نہیں بلکہ خودساختہ سلامتی کی کمزور ترین کڑی بن جاتی ہیں۔
سعودی عرب کو یہ حقیقت مدنظر رکھنی چاہیے کہ علاقائی کشیدگی کے ماحول میں اس تعطل سے نکلنے کا حقیقی راستہ نہ واشنگٹن میں ہے اور نہ ہی جوہری بجلی گھروں کی تعمیر میں۔ اگر یہ ملک استحکام، پائیدار ترقی اور حتیٰ کہ پُرامن جوہری توانائی سے محفوظ استفادے کا خواہاں ہے تو اس کے پاس علاقائی حقائق کو تسلیم کرنے اور اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مفاہمت اختیار کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
ایک ایکٹیو سفارت کاری، توازن کو مکمل طور پر بدل سکتی ہے۔ ریاض مغربی طاقتوں کی طرف دیکھنے کی بجائے، جو سیکیورٹی کو ایک کرائے کی چیزسمجھتی ہیں، خالصتاً علاقائی تعاون کی راہ اختیار کر سکتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر ایران جیسے علاقائی طاقتوں کے ساتھ پُرامن جوہری توانائی کے شعبے میں معاہدوں اور مشترکہ تعاون پر مبنی سفارتی ماڈل بھی تصور کیا جائے تو اس سے نہ صرف یکطرفہ جوہری پروگرامز سے متعلق sensitivity کم ہوگی بلکہ اجتماعی اور علاقائی سیکیورٹی کی بنیاد بھی مضبوط ہوگی۔
آخرکار، خطے کے حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ انصار اللہ کی مقامی ڈیٹرنٹ صلاحیت نے طاقت کا توازن بدل دیا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ علاقائی سلامتی نہ تو باہر سے مسلط کیا جانے والا منصوبہ ہے اور نہ ہی خطرناک ٹیکنالوجیز کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ ریاض کے لیے حقیقی استحکام کی واحد ضمانت دشمنیوں کا خاتمہ، یمن کے حقِ حاکمیت کو تسلیم کرنا اور سفارت کاری اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ پُرامن باہمی بقا کی طرف پیش قدمی ہے۔
