محاصرے کی پالیسی ناکامی سے دوچار ہے/ ممکنہ جنگ میں نئے ہتھیار استعمال کریں گے، جنرل محبی

امریکی عوام کے نام آئی آر جی سی کے خط کی وجوہات بیان کرتے ہوئے جنرل محبی نے کہا: اس خط میں ہم نے امریکی عوام کے ساتھ بہت سی باتیں کیں۔ ہمارا مقصد ان کے ساتھ ایمانداری پر مبنی مکالمہ کرنا اور دونوں قوموں کے درمیان باہمی شناسائی اور تعلقات کو فروغ دینا تھا۔
خبر کا کوڈ: 6293
تاریخ اشاعت: 29 September 2026 - 20:13 - 20December 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ امریکہ کو خط لکھنے کا مقصد پروپیگنڈا یا میڈیا مہم نہیں بلکہ امریکی عوام سے براہِ راست، عاقلانہ اور مخلصانہ گفتگو اور ایرانی اور امریکی عوام کے درمیان رابطے کا راستہ ہموار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 25 صفحات پر مشتمل اس خط میں امریکہ کی فوجی پالیسی، جنگوں، علاقائی موجودگی اور ایران کے خلاف اقدامات سمیت مختلف معاملات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

جنرل محبی

محبی کے مطابق ایران کے پاس امریکی عوام سے براہِ راست رابطے کے لیے انگریزی زبان کے تقریباً 200 ٹی وی نیٹ ورکس موجود نہیں جبکہ امریکہ کے پاس فارسی زبان میں ایرانی عوام سے مخاطب ہونے والے تقریباً 200 نیٹ ورکس موجود ہیں۔ انہوں نے میڈیا سے مطالبہ کیا کہ خط کا متن امریکی عوام تک پہنچایا جائے تا کہ وہ اس کے مندرجات سے آگاہ ہو سکیں اور اپنے سوالات یا اعتراضات خط و کتابت کے ذریعے پیش کر سکیں۔

سپاہ کے ترجمان نے خط میں امریکی فوجی اخراجات اور بیرونِ ملک فوجی اڈوں پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کے مطابق امریکہ کے پاس تقریباً 800 فوجی اڈے اور تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کا فوجی بجٹ ہے جبکہ ایران کا فوجی بجٹ امریکی فوج کے بجٹ کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ محبی نے دعویٰ کیا کہ اس کے باوجود امریکہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ میں اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکا۔ انہوں نے یمن اور افغانستان میں امریکی کارروائیوں کو بھی امریکی ناکامیوں کی مثال قرار دیا اور کہا کہ افغانستان میں امریکہ اربوں ڈالر کے ہتھیار چھوڑ کر واپس چلا گیا۔

محبی نے امریکی معاشرے کی معاشی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 39 ملین امریکی شہری غربت کی مڈل لائن سے بھی نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی حکمران اپنے اور صیہونی حکومت کے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ خط میں غزہ کی تباہی، ہزاروں سکولوں، ہسپتالوں اور مراکز پر حملوں اور امریکی ہتھیاروں کی فراہمی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی عوام کا ’’مردہ باد امریکہ‘‘ کا نعرہ امریکی عوام کے خلاف نہیں بلکہ امریکی جارحانہ پالیسیوں کے خلاف ہے۔

سپاہ کے ترجمان نے امریکہ کی جانب سے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ سپاہ ایران اور خطے میں مختلف شعبوں میں خدمات انجام دیتی ہے اور امریکی اقدامات کے مقابلے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ انہوں نے امریکی حکومت پر عراق میں مبینہ ’’غیر روایتی ہتھیاروں‘‘، افغانستان اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق دعوؤں سمیت عوام سے جھوٹ بولنے کے جرائم کا اظہار کیا۔ محبی نے کہا کہ اگر امریکہ کا دعویٰ ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا چاہتا ہے تو پھر واشنگٹن نے جوہری معاہدے سے دستبرداری کیوں اختیار کی؟

محبی نے کہا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے مسلسل موجودہ اور نئے ہتھیاروں کی تیاری اور جدید کاری کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دنیا کی دستیاب ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے نئے ہتھیار تیار کیے جا رہے ہیں اور اگر آئندہ جنگ مسلط کی گئی تو ضرورت پڑنے پر ان ہتھیاروں کو ملکی دفاع کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران ممکنہ آئندہ سازشوں سے آگاہ اور ملک کے دفاع کے لیے تیار ہے۔

بحری محاصرے کے حوالے سے محبی نے کہا کہ ایران امریکہ کے کسی بھی محاصرے کے مقابلے میں خاموش یا بے عمل نہیں رہے گا اور اسے ناکام بنانے کے لیے مختلف اقدامات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانش کے 15 ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی روابط ہیں، اس لیے امریکہ ایرانی تجارت کو مکمل طور پر بند نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق 47 سال سے جاری امریکی محاصرے کی پالیسی بھی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکی۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ خطے میں موجود بیشتر امریکی فوجی اڈے حالیہ کارروائیوں کے نتیجے میں تباہ یا ناقابلِ استعمال ہو چکے ہیں اور ان کی تعمیرِ نو امریکہ کے لیے اقتصادی طور پر فائدہ مند نہیں۔ محبی نے ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ’’پیمانِ مکہ‘‘ کو بھی علاقائی سلامتی کے قیام اور خطے سے غیر ملکی مداخلت کم کرنے کی کوشش قرار دیا۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں