عراق کے قومی سلامتی کے ڈھانچے میں اسلحے کی مرکزیت کے مسئلے کا تجزیاتی جائزہ
بین الاقوامی گروپ، دفاع پریس ـ حجت الاسلام والمسلمین محمد ہادی ملکی، سیاسی اور بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار:
اسلحے کو حکومت کے ہاتھ میں محدود کرنے کا موضوع آج کے عراق کے سیاسی منظرنامے میں سب سے حسّاس اور پیچیدہ مسائل میں سے ایک ہے؛ نہ صرف اس لیے کہ اس کا تعلق اسلحے کے ساتھ ہے جو ایک طاقتور مادی ذریعہ ہے بلکہ اس لیے بھی کہ یہ براہِ راست ریاست کے تصور، مشروع ہونے کی ماہیت، قومی حاکمیت کی حدود، سلامتی کے ڈھانچے کے مستقبل اور علاقائی اور بین الاقوامی کشمکش میں عراق کی عزت و آبرو سے جڑا ہوا ہے۔

اسی لیے اس مسئلے کو «اسلحہ حوالے کرنے» کے نعرے تک محدود کرنا یا اسے «ریاست کے اسلحے» اور «مسلح گروہوں کے اسلحے» کے درمیان ایک سادہ منظرنامے کی صورت میں پیش کرنا، حقیقت کی مکمل تصویر پیش نہیں کر سکتا۔ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ طاقت کے استعمال کی اجازت کس کے پاس ہے؟ اس طاقت کا استعمال کس مقصد کے تحت ہے؟ عملی طور پر ریاست کا دفاع کون کرتا ہے؟ اور جنگ و امن کا فیصلہ کس کے اختیار میں ہے؟
1. ریاست کے ہاتھ میں اسلحے کی مرکزیت کا اصول محلِ اختلاف نہیں
اصولی طور پر ایسے حالات میں ایک مستحکم اور طاقتور ریاست کا قیام ممکن نہیں جب مسلح افواج قانون سے باہر اور سرکاری اداروں سے آزاد ہو کر اپنے ارادے کے تحت، سرگرم ہوں۔ جائز مسلح طاقت کی مرکزیت جدید ریاست کے اہم ترین عناصر میں سے ایک ہے کیونکہ یہ سلامتی اور عسکری فیصلے میں وحدت کو یقینی بناتی ہے اور معاشرے کو متعدد مسلح طاقتوں کے درمیان مقابلے کا میدان بننے سے روکتی ہے۔
لہٰذا اسلحے کو ریاست کے ہاتھ میں محدود کرنے کا بنیادی مطالبہ، بالخصوص بے ضابطہ اسلحے اور ایسے گروہوں کے حوالے سے جو قانونی دائرے سے باہر اور جماعتی، ذاتی یا اقتصادی مفادات کے حصول کے لیے طاقت استعمال کرتے ہیں، محلِ اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن مسئلہ وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں «ریاست کا اسلحہ» کے تصور کو محض اداروں کے ناموں اور انتظامی عناوین تک محدود کر دیا جائے؛ گویا صرف کسی سرکاری عنوان رکھنے والے ادارے سے اسلحے کا وابستہ ہونا خود بخود اسے قومی اسلحہ اور ریاست کے دفاع کے قابل بنا دیتا ہے۔ یہاں ظاہری اور حقیقی اجازت کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔
2. کیا کسی ادارے کا سرکاری عنوان اسلحے کے استعمال کی جائز ہونے کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے؟
گزشتہ دہائیوں کے دوران عراق کے تجربے نے ظاہر کیا ہے کہ صرف نام اور عنوان ریاستی طاقت پیدا نہیں کرتے۔ ممکن ہے کوئی ادارہ فوجی اور سرکاری ہو اور اس کے پاس تمام قانونی عناوین بھی موجود ہوں لیکن بدعنوانی، کمزور کمانڈ، نفوذ یا جنگی جذبے کے زوال کے باعث وہ ریاست کے تحفظ کا ذریعہ بننے کی بجائے اسے کمزور کرنے والے عامل میں تبدیل ہو جائے۔
داعش کے مقابلے میں موصل کے سقوط کے تجربے نے ظاہر کیا کہ فوج کے پاس فوجی رینک، اسلحہ، بجٹ اور بڑی تعداد میں اہلکاروں کی موجودگی لازمی طور پر سرزمین کے حقیقی دفاع کی صلاحیت رکھنے کے مترادف نہیں ہے۔ یہیں سے ایک اہم سیاسی اور سلامتی کا اصول اخذ کیا جا سکتا ہے:
اسلحے کے استعمال کا جائز ہونا صرف اس کے نام سے نہیں ناپا جاتا بلکہ اس بات کا انحصار اس کی کارکردگی، مرجعیت، نظم و ضبط، ریاست سے وفاداری اور ملک کی دفاعی صلاحیت پر ہے۔
ریاست بھی صرف وزارتِ دفاع، وزارتِ داخلہ اور سرکاری عناوین رکھنے والے اداروں کے مجموعے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل حکومتی ڈھانچہ ہے جس کی کامیابی کا سب سے اہم معیار عوام، سرزمین اور ملک کے آزادانہ فیصلہ کرنے کی طاقت کے تحفظ کی صلاحیت ہے۔
3. داعش کے تجربے نے قومی طاقت کے تصور کی ازسرِ نو تعریف کی
عراق کے اعلیٰ مرجعِ تقلید آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی (دامت برکاتہ) کی جانب سے جاری ہونے والا جہادِ کفائی کا فتویٰ، عصرِ حاضر کی عراق کی تاریخ میں ایک اہم موڑ تھا کیونکہ اس نے معاشرے کو داعش کے پھیلاؤ کے مقابلے میں صدمے اور انہدام کی کیفیت سے نکال کر ملک کے دفاع کے لیے عوامی رضاکار فورس کی حالت میں منتقل کر دیا۔
اس مرحلے پر سرکاری فوجی دستوں کے حجم اور ڈھانچے اور خطرے کا جواب دینے کی ان کی عملی صلاحیت کے درمیان واضح خلا پیدا ہو گیا۔ ہزاروں رضاکاروں کو اسلحے، ٹریننگ، ساز و سامان اور کوآرڈینیشن کی کمی کا سامنا تھا جبکہ عراقی معاشرے نے اپنی تمام عوامی، دینی اور سماجی صلاحیتوں کے ساتھ محاذوں پر موجود فورسز کی حمایت میں وسیع کردار ادا کیا۔
نتیجتاً ایک نئی مساوات تشکیل پائی: سرکاری ریاست اب سلامتی کے میدان کی واحد فریق نہیں رہی بلکہ اس کے ساتھ ایک وسیع عوامی طاقت وجود میں آئی جو بعد میں الحشد الشعبی (عوامی رضاکار فورس) کے نام سے ایک قانونی ادارے میں تبدیل ہو گئی۔
لہٰذا الحشد الشعبی سے ایک عارضی مظہر یا محض ریاست سے باہر ایک مسلح گروہ کی حیثیت سے نمٹنا، ایک مکمل تاریخی، قانونی اور سیاسی عمل کو نظر انداز کرنا ہے۔
4. الحشد الشعبی؛ قومی ضرورت اور ادارہ جاتی چیلنج کے درمیان
الحشد الشعبی یا عراق کی عوامی فورس آج عراق کے سلامتی اور دفاعی ڈھانچے کا حصہ سمجھی جاتی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عراق کے مختلف علاقوں کے تحفظ میں اس کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن اس کے کردار کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس طاقت کو ریاستی تقاضوں سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ ہر مسلح قوت، خواہ اس کی قربانیوں کی تاریخ اور سماجی مشروعیت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، اسے واضح ادارہ جاتی فریم ورک، متعین کمان کی سلسلہ بندی، قانونی طور پر جوابدہ ہونا، مالی اور انتظامی نظم و ضبط اور ملک کے اعلیٰ ترین مفادات پر مبنی عسکری فیصلے کی ضرورت ہے۔
یہی الحشد کو ایک متنازع سیاسی مسئلے سے قومی طاقت کے عناصر میں سے ایک میں تبدیل کرنے کا صحیح راستہ ہے۔
مقصد ایسی طاقت کو ختم کرنا نہیں ہونا چاہیے جس نے عراق کے دفاع میں اپنی صلاحیت اور قربانی ثابت کی ہے بلکہ اس کی زیادہ سے زیادہ ادارہ جاتی تشکیل اور ریاست کے ڈھانچے میں گہرا ضمنی عمل ہونا چاہیے، اس طرح کہ اس کا دفاعی کردار بھی برقرار رہے اور اسلحے کو ایک سیاسی اور آزاد طاقت میں تبدیل ہونے سے بھی روکا جا سکے۔
5. مسلح مزاحمت اور حاکمیت کی مساوات
عراق میں اسلحے کے مسئلے کا تجزیہ امریکہ کی موجودگی کے خلاف مسلح مزاحمت کے تجربے کا جائزہ لیے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ اسٹریٹجک حساب کتاب میں مزاحمت کی طاقت کو صرف اہلکاروں کی تعداد یا اس کے بجٹ کے حجم سے نہیں ناپا جاتا بلکہ مخالف فریق کی فوجی موجودگی کی لاگت بڑھانے اور اسے اپنے حساب کتاب پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کرنے کی صلاحیت بھی اہمیت رکھتی ہے۔ اپنے مختلف گروہوں اور دھڑوں کے ساتھ عراقی مزاحمت، عراق سے امریکی انخلا کے فیصلے کے گرد سلامتی اور سیاسی ماحول پر اثرانداز ہونے والے عوامل میں سے ایک رہی ہے۔
اسی لیے مزاحمت کے تمام اسلحے کو «ملیشیائی اسلحہ» قرار دینا، دفاعی کردار اور بے ضابطہ اسلحے کے درمیان فرق کیے بغیر، ایک خطرناک سیاسی بحث کو گڈ مڈ کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ مزاحمت کے تصور کو ریاستی ڈھانچے سے باہر مستقل مسلح سرگرمی کے لیے دائمی جواز میں تبدیل کرنا بھی پائیدار حل نہیں ہے۔ مزاحمت جب قومی طاقت کا حصہ بن جاتی ہے تو اسے ایک ایسے سیاسی اور قانونی فریم ورک کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی ذمہ داریوں کو متعین کرے اور اسے «ریاست کے اندر ریاست» بننے سے روکے۔
6. حقیقی خطرہ، معیاروں میں دوہرا پن ہے
اگر مقصد ایک طاقتور ریاست کی تشکیل ہے تو سب کو ایک ہی معیار کے تحت پرکھا جانا چاہیے۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جو اسلحہ بغداد کے کنٹرول سے باہر ہے، اگر وہ کسی عراقی سیاسی دھارے سے متعلق ہو تو غیر قانونی ہے جبکہ دوسرے اسلحے کا سیاسی یا علاقائی حساب کتاب کے باعث مختلف معیار کے تحت جائزہ لیا جائے۔
یہ مسئلہ ہر ایسے مسلح ڈھانچے کے بارے میں صادق آتا ہے جس کے پاس آزادانہ فیصلہ ہو یا جو قومی مفادات سے باہر سرگرمی انجام دے؛ خواہ اس کی وابستگی یا شناخت کچھ بھی ہو۔
جو ریاست طاقت کی مرکزیت اپنے اختیار میں رکھنا چاہتی ہے، وہ سیاسی توازن کی بنیاد پر یہ فیصلہ نہیں کر سکتی کہ کس سے اسلحہ لے اور کس کو رکھنے کی اجازت دے۔ اصول واضح ہونا چاہیے: ہر وہ اسلحہ جو قانون اور قومی فیصلے سے باہر سرگرمی انجام دیتا ہے، اسے قانونی دائرے میں لایا جائے اور ہر وہ اسلحہ جو ریاستی ڈھانچے میں شامل ہوتا ہے، اسے کمانڈ، قانون اور جوابدہ ہونے کا پابند بنایا جائے۔
7. حاکمیت قابلِ تقسیم نہیں
عراق کے بارے میں بحث کی اہم ترین خامیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اندرون ملک اسلحے کے مسئلے کا بیرونی فوجی موجودگی سے الگ جائزہ لیا جاتا ہے۔ اگر حاکمیت کا مطلب یہ ہے کہ حکومت سلامتی اور عسکری فیصلے کا واحد مرجع ہو تو اس اصول کا اطلاق اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک دونوں مقامات پر ہونا چاہیے۔ عراقی گروہوں سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اپنا عسکری فیصلہ حکومت کے حوالے کر دیں لیکن ساتھ ہی «مزاحمت کا حکومت کو اسلحہ حوالے کرنے» کے بارے میں عراق کے اسٹریٹجک فیصلے پر بیرونی دباؤ ڈالا جائے۔ اسی طرح ایک خودمختار سلامتی کا ڈھانچہ اس وقت تک تشکیل نہیں دیا جا سکتا جب تک عراق اسلحے، ٹریننگ اور فوجی معاونت کے معاملے میں حد سے زیادہ کسی ایک بیرونی ملک پر منحصر ہو۔ لہٰذا غیر ملکی افواج کا انخلا قومی حاکمیت کی ازسرِ نو تعمیر کے ایک جامع منصوبے کا حصہ ہونا چاہیے، نہ کہ اسلحے کے معاملے سے الگ کوئی دیگر مسئلہ۔
8. عراق کے سلامتی کے ڈھانچے کی ازسرِ نو تشکیل میں امریکہ کا کردار
عراق میں اسلحے کے بارے میں امریکہ کے مؤقف کو محض فنی اور مکمل طور پر غیر جانبدارانہ مؤقف نہیں سمجھا جا سکتا۔ امریکہ علاقائی مساوات کا ایک اہم فریق ہے اور عراق اور خطے میں اس کے مخصوص سیاسی، سلامتی اور اقتصادی مفادات ہیں۔ اسی لیے عراق کے مسلح ڈھانچے کی ازسرِ نو ترتیب کے لیے امریکہ کی جانب سے کسی بھی قسم کے دباؤ کو اس ملک کے اندر اور معاشرے اور سیاسی قوتوں کے ایک قابلِ ذکر حصے کی جانب سے اندرونی طاقت کے توازن پر اثرانداز ہونے کی کوشش کے طور پر سمجھا جائے گا۔ ایسے حالات میں عراقی حکومت کو ایک واضح اصول پر قائم رہنا چاہیے: عراق کے سلامتی کے ڈھانچے کی اصلاح ایک خودمختار اور عراقی فیصلہ ہونا چاہیے، نہ کہ بیرونی دباؤ یا غیر ملکی احکامات کا نتیجہ۔
اگر عراقی حکومت اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ الحشد الشعبی یا مسلح گروہوں کو اصلاح، ازسرِ نو تشکیل یا دوبارہ منظم کرنے کی ضرورت ہے تو یہ اقدام آئین اور عراقی اداروں کے راستے سے ہونا چاہیے، نہ کہ غیر ملکی دارالحکومتوں کی جانب سے مقرر کردہ ڈیڈ لائنز کی بنیاد پر۔
9. الحشد الشعبی، مزاحمت اور فوج لازماً ایک دوسرے کے مقابل نہیں
وہ بیانیہ جو فوج کو الحشد الشعبی یا مزاحمت کے مقابل کھڑا کرتا ہے، پہلے ہی یہ فرض کر لیتا ہے کہ ان طاقتوں کے درمیان کوئی بنیادی تضاد موجود ہے جبکہ اصل مسئلہ عناصر کی کثرت نہیں بلکہ فیصلوں کی کثرت ہے۔ ممکن ہے کہ ایک قومی ڈیفنس سسٹم میں متعدد فوجی ادارے اور قوتیں موجود ہوں بشرطیکہ حتمی فیصلہ متحد ہو، کمانڈ واضح ہو، قانون حاکم ہو اور ریاست سے وفاداری ہر دوسری وفاداری پر مقدم ہو لہٰذا صحیح مساوات یہ نہیں ہے: فوج بمقابلہ الحشد الشعبی، یا حکومت بمقابلہ مزاحمت۔ فوج، الحشد اور تمام قومی دفاعی صلاحیتوں کو ایک متحد ریاست اور ایک متحد حکومتی فیصلے کے دائرے میں ہونا چاہیے۔
10. اسلحے کی مرکزیت کی پالیسی کی کامیابی کے لیے فوج میں اصلاح بنیادی شرط ہے
حکومت اس وقت تک طاقت کے استعمال کی مرکزیت کا مطالبہ نہیں کر سکتی جب تک وہ اس طاقت کی مرکزیت کو مؤثر طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت نہ رکھتی ہو۔
جو ریاست ملک کا واحد سلامتی کا مرجع بننا چاہتی ہے، اسے اپنی مسلح افواج کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر ازسرِ نو تشکیل دینا ہوگا اور انہیں مفاد پرستی، بدنامی اور ذاتی اور سیاسی وابستگیوں سے دور رکھنا ہوگا۔ اس اصلاح میں فضائیہ، ائیر ڈیفنس، انٹیلیجنس، مانیٹرنگ اینڈ آیڈینٹیفیکشن، الیکٹرانک وارفیئر، بری افواج، لاجسٹکس، ٹریننگ، ساز و سامان کی دیکھ بھال اور فوجی صنعت جیسے شعبے شامل ہونے چاہئیں۔ اسی طرح عراق کو اپنے اسلحے کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا چاہیے کیونکہ کسی ایک ملک پر حد سے زیادہ انحصار بالآخر ایک قسم کے اسٹریٹجک انحصار میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ایک طاقتور اور آزاد فوج کی تشکیل کا لازمی مطلب امریکہ یا دیگر ممالک کے ساتھ فوجی تعلقات منقطع کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بغداد خود اپنی دفاعی ضروریات اور اپنے فوجی شراکت داروں کا تعین کرے۔
11. صرف «اسلحہ حوالے کرنا» مسئلے کو حل نہیں کرتا
«اسلحہ حوالے کرنا» کی اصطلاح خود ایک سیاسی خامی رکھتی ہے کیونکہ اس سے یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف ایک فریق سے اسلحہ لے کر دوسرے فریق کے حوالے کرنے کا ہے جبکہ جدید ریاست کو «اسلحہ حوالے کرنے» کی منطق سے آگے بڑھ کر مسلح طاقت کو قانون کی حاکمیت کے تحت منظم کرنے اور اس کے ڈھانچے کی ازسرِ نو تشکیل کی جانب بڑھنا چاہیے۔ ان دونوں میں فرق بہت اہم ہے۔
اگر کسی مسلح قوت کا اسلحہ ان عوامل کو حل کیے بغیر لے لیا جائے جن کی وجہ سے وہ قوت وجود میں آئی اور فوج کو مضبوط کیے بغیر اور بیرونی خطرات کو دور کیے بغیر ایسا کیا جائے تو ممکن ہے حکومت محض ایک نیا سلامتی کا خلاء پیدا کر دے لیکن اگر مسلح صلاحیتوں کو حقیقی ازسرِ نو تشکیل، نظم و ضبط کے نفاذ اور شفاف قانون کے ساتھ ایک قومی ڈیفنس سسٹم کے اندر منظم کیا جائے تو حکومت ایک حقیقی اسٹریٹجک کامیابی حاصل کرے گی۔
12. عراق کو ایک نئے قومی سلامتی معاہدے کی ضرورت ہے
بنیادی مسئلہ صرف کوئی ایک قانونی شق نہیں ہے بلکہ حکومت، معاشرے اور مسلح طاقتوں کے درمیان اعتماد کا بحران ہے۔ عراق کو ایک نئے «قومی سلامتی معاہدے» کی ضرورت ہے جو واضح طور پر متعین کرے:
۱۔ حکومت عسکری فیصلے کا اعلیٰ ترین مرجع ہے۔
۲۔ کوئی بھی مسلح طاقت قانون سے بالاتر نہیں ہے۔
۳۔ کسی بھی اسلحے کو جماعتی یا ذاتی مفادات کے حصول کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
۴۔ الحشد الشعبی ریاستی نظام کا حصہ ہے لیکن اس کے ادارہ جاتی نظم و ضبط کو مزید مضبوط کیا جانا چاہیے۔
۵۔ ایسی مزاحمت جس کا کردار عراق کے دفاع سے جڑا ہوا ہے، اسے محض ریاست سے باہر ایک مسلح گروہ کے طور پر متعین نہیں کیا جانا چاہیے۔
۶۔ فوج اور سلامتی کے اداروں کو کارکردگی، دیانت داری اور آمادگی کی ضمانت کے لیے گہری اصلاحات کی ضرورت ہے۔
۷۔ غیر ملکی فوجی موجودگی کی تمام شکلیں عراق کی حاکمیت اور فیصلے کے تابع ہونی چاہئیں۔
۸۔ جائز ہونے کا معیار یکساں ہونا چاہیے اور اسے انتخابی انداز میں نافذ نہیں کیا جانا چاہیے۔
۹۔ جنگ و امن کا فیصلہ ایک قومی اور ادارہ جاتی فیصلہ ہونا چاہیے۔
۱۰۔ عراق اور اس کی آزادی کا تحفظ ملک کے تمام مسلح ڈھانچوں کا حتمی مقصد ہونا چاہیے۔
خلاصہ
عراق میں «اسلحے کی مرکزیت» کے لیے جدوجہد ناموں اور عناوین کے تنازع میں تبدیل نہیں ہونی چاہیے بلکہ یہ ایسی ریاست کی تشکیل کے لیے جدوجہد ہونی چاہیے جو اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
جو اسلحہ ریاست کا تحفظ کرتا ہے، وہ اس کے قانون کے تابع اور قومی فیصلے کے دائرے میں کام کرتا ہے اور اپنی ذات میں مسئلہ نہیں ہے؛ مسئلہ وہ اسلحہ ہے جو ریاست سے بالاتر طاقت یا ریاست کے خلاف ایک آلہ بن جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ جو ریاست اسلحے کی مرکزیت چاہتی ہے، اسے خود ایک طاقتور، عادل، باصلاحیت اور فیصلہ کرنے میں خودمختار ریاست ہونی چاہیے اور اسے بدنامی، نفوذ اور بیرونی انحصار سے تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔
لہٰذا عراقی حکومت کا حقیقی چیلنج صرف اسلحہ جمع کرنا نہیں ہے بلکہ معاشرے اور ریاست کے درمیان اعتماد کی ازسرِ نو تعمیر، فوج کی ازسرِ نو تشکیل، سلامتی کے فیصلے کو یکجا کرنا، فوج، الحشد الشعبی اور مزاحمت کے درمیان تعلق کو منظم کرنا اور اسلحے کے جائز استعمال میں دوہرے معیار کا خاتمہ، اس کے ساتھ ساتھ عراق کو بیرونی مداخلتوں سے محفوظ رکھنا ہے۔
ریاست کے ہاتھ میں اسلحے کی مرکزیت اس وقت ایک قومی منصوبے میں تبدیل ہوتی ہے جب اس کا مطلب «طاقت اور اس کے استعمال سے متعلق فیصلے» کو حکومت کے اختیار میں محدود کرنا ہو نہ کہ صرف اسلحے کو ان اداروں تک محدود کرنا ہو جن کے پاس سرکاری عناوین موجود ہیں۔ لیکن اگر یہ نعرہ کسی مخصوص عراقی دھارے کو نشانہ بنانے کے آلے، بیرونِ ملک سے مسلط کیے گئے منصوبے یا اندرون ملک سیاسی توازن کی ازسرِںنو تشکیل کے وسیلے میں تبدیل ہو جائے تو بالکل اسی طرح جیسے لبنان میں جاری منصوبے کی صورت میں ہے، یہ اپنے قومی مفہوم سے محروم ہو جائے گا اور ریاست کو مضبوط کرنے کی بجائے ریاست کو کمزور کرنے والے ایک اور عامل میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
آخرکار، طاقتور ریاست وہ ریاست نہیں ہے جو صرف دوسروں کے اسلحے کو جمع کرے بلکہ طاقتور ریاست وہ ہے جو تمام قومی قوتوں کو اس بات پر قائل کرے کہ عراق کی طاقت اسلحوں کی کثرت میں نہیں بلکہ فیصلے کی وحدت، ارادے کی آزادی اور ریاست کی جانب سے سرزمین، عوام اور ملک کی حاکمیت کے تحفظ کی صلاحیت میں مضمر ہے۔
