امریکی جارح فوجیوں کو ہلاک یا گرفتار کرنے پر 30 ہزار ڈالر انعام / دفاعی ساز و سامان کی پیداوار میں وقفہ نہیں آئے گا، میجر جنرل حاتمی

ایرانی فوج کے کمانڈر انچیف نے کہا: اگر کوئی بھی ایرانی فوجی کسی جارح امریکی اہلکار کو گرفتار یا ہلاک کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو اسے ایرانی عوام کی جانب سے 30 ہزار ڈالر انعام دیا جائے گا۔
خبر کا کوڈ: 6166
تاریخ اشاعت: 16 August 2026 - 23:34 - 07November 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق،اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے کمانڈر انچیف میجر جنرل حاتمی نے آج (اتوار) فوج کی نظریاتی اور سیاسی تنظیم میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی موجودگی میں منعقدہ یومِ صحافت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معرکہ آرائیوں اور اقتدار کے راویوں یعنی صحافیوں کو قومی دفاع میں تمام صلاحیتوں کو استعمال میں لانے کے لیے مربوطہ بنیادی کڑیوں اور فیصلہ کُن عوامل میں شمار کیا۔

جنرل حاتمی

انہوں نے کہا: ہم نے ایرانی قوم کی بیداری کو جبکہ عوام 168 راتوں سے سڑکوں پر موجود ہے، اس کی تاثیر کو دیکھا۔ عوام جان چکی ہے کہ دشمن کیا چاہتا ہے اور یہ اہم امر میڈیا کی جانب سے پیغام کی مؤثر ترسیل کے ذریعے ممکن ہوا۔

دشمن کے قدم توڑ دیں گے

میجر جنرل حاتمی نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں امریکی صدر کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے تاکید کی: امریکی مجرم صدر کہتا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو ’’سرزمینِ جرم‘‘ کا حصہ قرار دینا چاہتا ہے؛ تمہاری یہ جرأت بہت بڑی غلطی ہے! جب اس نے ردعمل دیکھا تو کہا کہ وہ مذاق کر رہا تھا۔ اس بات کو مذاق کہنا بھی بڑی غلطی ہے۔ یہ ایران ہے اور یہاں اس کے محافظ موجود ہیں جو تمہارے قدم توڑ دیں گے۔

فوج کے کمانڈر انچیف نے دشمنوں کے مقابلے میں ایران کی بعض فوجی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ہم نے مختلف فوجی محاذوں پر جن میں آٹھ سالہ دفاعِ مقدس بھی شامل ہے، بہت سی کامیابیاں حاصل کیں۔ اس وقت بھی دشمن مشرق و مغرب کی حمایت کے ساتھ ملک کو تقسیم کرنے کے درپے تھا لیکن ناکام رہا۔ 12 روزہ جنگ میں بھی انہوں نے اسی مقصد کے تحت جارحیت کی لیکن ایک بار پھر ناکام رہے۔ 40 روزہ جنگ میں بھی یہی صورتحال دہرائی گئی۔ داعش کے خلاف جنگ میں بھی، جو شہید سلیمانی کی قیادت میں لڑی گئی، دشمن شکست کھا گیا اور اسلامی ایران کو فتح حاصل ہوئی۔

انہوں نے ایران کی ایک اور کامیابی کو میڈیا کی جنگ میں فتح قرار دیتے ہوئے کہا: آج ہم دشمنوں کے اعترافات کی سرگوشیاں سن رہے ہیں۔ اس جنگ اور میڈیا کے میدان میں بھی دشمن، اسلامی جمہوریہ ایران کی فتح کا اعتراف کر رہا ہے۔ یہ ایرانی قوم کی ثابت قدمی، مجاہدین کی قربانی، شہداء کے خون کی برکت اور اسلامی جمہوریہ ایران کے میڈیا اور صحافیوں کی جانب سے واقعات کی شگفتہ، درست، سنجیدہ، منطقی اور قابلِ یقین عکاسی کا نتیجہ ہے۔

امریکی صدر کی تصویر ایک بڑے شکست خوردہ کی تصویر ہے

دفاعی کونسل کے رکن نے امریکی صدر کو ایک شکست خوردہ شخص قرار دیتے ہوئے کہا: امریکہ کا یہ وہمی صدر خود کو فاتح کی حیثیت سے پیش کرنے کی بہت کوشش کر رہا ہے لیکن آج دنیا میں بہت کم لوگ اسے سنجیدہ لیتے ہیں۔ آج خود مغربی میڈیا امریکہ کی جو تصویر پیش کر رہا ہے، وہ ایک شکست خوردہ ملک کی تصویر ہے۔ یہ ایسے شخص کی تصویر ہے جو خوف کے مارے خود کو خوراک لے جانے والے ٹرک میں چھپا لیتا ہے اور حکومت کے دیگر ارکان اور صحافیوں کو ایسے طیارے میں چھوڑ دیتا ہے جس کے بارے میں امریکی خفیہ سروس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ خطرے کی زد میں تھا۔ یہ ایک بڑے شکست خوردہ شخص کی تصویر ہے۔

میجر جنرل حاتمی نے امریکی فوجیوں کی بے مثال بدحالی اور ان دنوں طیارہ بردار بحری جہاز ابراہام لنکن کی صورتحال کے بارے میں سامنے آنے والی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: اسلامی ایران کے داغے گئے ہتھیار کم از کم ایک مرتبہ یو ایس ایس ابراہام لنکن سے ٹکرائے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: ہمیں یقین ہے کہ اس طیارہ بردار بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے یہاں تک کہ کچھ عرصے تک اس پر موجود کوئی بھی جنگی طیارہ پرواز کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ امریکی یقیناً اسے تسلیم نہیں کرتے لیکن یہ بحری جہاز اب واپس جا رہا ہے۔

مسلح افواج کی تنظیمِ نو ایران کو مزید طاقتور بنائے گی

فوج کے کمانڈر انچیف نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں مسلح افواج کی تنظیمِ نو کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا: سپریم کمانڈر انچیف نے اپنے احکامات کے ذریعے اسلامی ایران میں فوجی اور سیکیورٹی کی تنظیمِ نو کا آغاز کیا۔ اس تنظیمِ نو کا پیغام یہ تھا کہ خطے میں کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی میں اضافہ اسلامی ایران کو اپنے دفاع میں مزید سنجیدہ اور مضبوط بنا دے گا۔

انہوں نے کہا: امریکی مجرم صدر نے حماقت کے ساتھ یہ تصور کیا تھا کہ وہ دو تین دن میں ایران میں بڑی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ اس کا خیال تھا کہ ان اقدامات کے ذریعے،اس کے اپنے بقول، وہ ایران کے مسئلے کو حل کر سکتا ہے۔

ایران کو کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔ جوہری بہانے، خاص طور پر شہید رہبر انقلاب کے جوہری فتوے کی موجودگی میں، جو سب سے بڑا ثبوت ہے، بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے اپنے ذہن میں ’’ایران کے مسئلے‘‘ کے نام سے کچھ تشکیل دے رکھا ہے لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

دفاعی کونسل کے رکن نے امریکی فوجی طاقت کے بارے میں کیے جانے والے دعوؤں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: امریکیوں نے اپنی فوجی طاقت کے بارے میں بہت سے دعوے کیے اور اسی ذریعے سے بہت سی رقوم اور بھاری مراعات حاصل کیں لیکن ایران کے ساتھ جنگ نے اس طاقت کے زعم کو توڑ دیا۔ امریکہ اب ماضی جیسی طاقت نہیں رکھتا اور اس کی نشانی یہ ہے کہ بہت سے ممالک اپنی سیکیورٹی کے لیے دیگر راستوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔صیہونی حکومت کے دعوے اور اس کے خوابوں کا اظہار بھی یقیناً اس عمل میں مؤثر ہے کیونکہ ممالک یہ سمجھ چکے ہیں کہ انہیں اپنی سلامتی کے بارے میں خود سوچنا ہوگا اور وہ امریکہ پر اعتماد نہیں کر سکتے۔

امریکہ کو اب خلیج فارس اور بحیرۂ عمان میں داخلے کی اجازت نہیں

میجر جنرل حاتمی نے کہا کہ امریکیوں نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد خلیج فارس میں اپنے لیے بہت سے لوازمات اور مراکز قائم کیے تھے لیکن حالیہ جنگوں میں انہیں کاری اور تباہ کُن ضربیں پہنچی ہیں۔ انہوں نے کہا: سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ امریکی اڈے کسی بھی صورت اپنی سابقہ حالت میں واپس نہیں آ سکتے اور ایران کبھی یہ اجازت نہیں دے گا کہ اس کے پڑوس میں ایسے مراکز قائم کیے جائیں جن کا مقصد اسلامی ایران کو دھمکانا ہو۔ واحد راستہ امریکیوں کا خطے سے انخلا ہے۔ ان کا انخلاء عملی شکل اختیار کر چکا ہے اور اب انہیں خلیج فارس، بحیرۂ عمان اور آبنائے ہرمز میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ ہم اس راستے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور اپنی فتح کو مستحکم کر رہے ہیں۔

جارحین تک پہنچنے کے لیے ہمارے ہاتھ کھلے ہیں

حالیہ ایرانی حملوں، خاص طور پر اردن میں دشمن کے اڈوں پر کیے گئے حملوں کے پیغام کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مزید واضح کیا: ایران کے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں نے واضح پیغامات دیے ہیں؛ پہلا یہ کہ جارحین تک پہنچنے کے لیے ہمارے ہاتھ کھلے ہیں اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے اس راستے کو مزید وسیع بھی کریں گے۔ دوسرا یہ کہ اسلامی ایران اپنی فنی اور حربی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کسی بھی ڈیفنس سسٹم کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ صیہونی حکومت بھی ایران کی جانب سے اپنے مختلف ڈیفنس سسٹمز کی لیئرز کو عبور کیے جانے کا مشاہدہ کر چکی ہے۔ دشمن جان لیں کہ اگر انہوں نے دوبارہ حماقت کی تو ایران کے مضبوط ضرب ان کے سر اور چہروں پر پڑیں گے۔

فوج کے کمانڈر انچیف نے کہا کہ صیہونی حکومت اور امریکہ بدترین صورتحال سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا: صیہونی حکومت اور امریکہ کے جنگ پسند عناصر اپنی تاریخ کے سب سے ناپسندیدہ مقام پر ہیں یہاں تک کہ امریکہ میں اب وہ شخص کامیاب نہیں ہوتا جو صیہونی حکومت کے زیادہ قریب ہو بلکہ اسے اس سے زیادہ سے زیادہ فاصلے پر ہونا چاہیے۔ یہ خود ان کی انتہائی نفرت انگیز حیثیت کی علامت ہے۔

فوج میں نئی دفاعی صلاحیتیں شامل کی گئی ہیں

میجر جنرل حاتمی نے فوج کی جارحانہ اور دفاعی صلاحیتوں کی ازسر نو بحالی کی بھی خبر دیتے ہوئے کہا: یہ صلاحیتیں تیزی سے بحال کی جا رہی ہیں اور ہم نے ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا اور نہ کر رہے ہیں بلکہ اپنے مواقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے۔ دشمن، فوج کی صلاحیتوں کے بارے میں واضح طور پر غلط فہمی کا شکار تھے اور انہوں نے خود بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔ ہمارا زور اس بات پر ہے کہ ایران کی دفاعی صلاحیتوں کی تباہی سے متعلق دشمن کے دعوے انہیں کسی اگلی غلطی کا شکار نہ بنائیں۔ ہم نے اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھی ہے اور اس کے ساتھ نئی دفاعی صلاحیتیں بھی ہمارے سسٹم میں شامل ہوئی ہیں جن کا ایک حصہ اسی جنگِ ہرمز میں دیکھا گیا۔ دشمنوں کو یہ بات اپنے پلو سے باندھ لینی چاہیے کہ انہیں ماضی کی بڑی غلطیاں دوبارہ نہیں دہرانی چاہئیں کیونکہ اپنے دفاع کے لیے ہماری کوئی حد مقرر نہیں ہے۔

مقدس آبنائے ہرمز ایرانی قوم کے لیے قدرت کی عطا کردہ جغرافیائی اور سیاسی صلاحیت ہے

انہوں نے کہا کہ مقدس آبنائے ہرمز ایرانی قوم کے لیے قدرت کی عطا کردہ جغرافیائی اور سیاسی صلاحیت ہے اور ہمارا یہ دباؤ کا ذریعہ کبھی اپنی سابقہ حالت میں واپس نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا: امریکی صدر کی ایک یادگار یہی ہے کہ آبنائے ہرمز کی صلاحیت ایکٹیو ہو گئی ہے۔ ہم اس صلاحیت کو جانتے تھے لیکن اگر یہ جنگ نہ ہوتی تو یہ صلاحیت ایکٹیو نہ ہو پاتی۔ اس راستے میں ہم جو بھی قیمت ادا کریں، وہ قابلِ قدر ہے اور ہم سپریم کمانڈر انچیف کے حکم پر اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ اس صلاحیت کی بھی حفاظت کریں گے۔ یہ دباؤ کا ذریعہ جنگ کے خاتمے کے لیے ضروری عوامل میں سے ایک ہے تا کہ ایران کے سر سے جنگ کا سایہ ہٹایا جا سکے۔

امریکی جارحین کو شکار کرنے پر خصوصی انعام

دفاعی کونسل کے رکن نے امریکی جارحین کو سزا دینے کے لیے فوج میں ایک نئے منصوبے کی تیاری کی خبر دیتے ہوئے کہا: مالی جہاد میں شرکت کے لیے بڑی تعداد میں موصول ہونے والی درخواستوں کے پیشِ نظر ایک منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس کے تحت جو شخص کسی جارح امریکی فوجی کو ہلاک کرے گا یا گرفتار کر کے حوالے کرے گا، اسے مالی جہاد میں شریک عزیزوں کی حمایت اور ہماری ضمانت پر 30 ہزار ڈالر یا 5 ارب تومان کے مساوی انعام دیا جائے گا۔ وہ بہادر ایرانی خواتین بھی جو ایسا کرنے میں کامیاب ہوں گی، انہیں دوگنا انعام دیا جائے گا۔

میجر جنرل حاتمی نے آخر میں کہا کہ امریکیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ایران ہے اور اگر انہوں نے کوئی غلطی کی تو وہ تاریخ میں دوسروں کے لیے عبرت کا نشان بن جائیں گے۔ انہوں نے کہا: جس شخص نے کسی جارح امریکی فوجی کو ہلاک کرنے میں کامیابی حاصل کی، اس کا ہتھیار اس کی خریداری کی قیمت سے دوگنی قیمت پر خریدا جائے گا اور اسے نیا ہتھیار دیا جائے گا۔ اس شخص کا ہتھیار بھی اس مقصد کے لیے مختص کیے گئے عجائب گھر میں محفوظ رکھا جائے گا۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں