میڈیا نے ہائبرڈ جنگ میں شاندار کردار ادا کیا، ٹرمپ کا آبنائے ہرمز سے متعلق دعویٰ مذاق کے سوا کچھ نہیں، جنرل محبی
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان جنرل حسین محبی نے دشمن کی نفسیاتی جنگ کا مقابلہ کرنے میں میڈیا کے کردار کا جائزہ لیتے ہوئے کہا: الحمدللہ میڈیا نے اس شعبے میں بہت اچھا کردار ادا کیا کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ایک ہائبرڈ جنگ تھی جس کے مختلف محاذ تھے اور ان میں سے ایک اہم ترین محاذ میڈیا تھا۔

جنرل محبی نے کہا کہ آج بعض پہلوؤں میں میڈیا کے میدان میں جنگ، فوجی جنگ سے بھی آگے نکل چکی ہے اور وضاحت کی: میڈیا فوجی کارروائیوں کے میدان پر پہلے بھی اثر انداز ہو سکتا ہے اور بعد میں بھی۔ الحمدللہ ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد نے دونوں میدانوں میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے فوجی اقدامات سے قبل دشمن کے ذہنوں پر اثر انداز ہو کر اور اس کے عزم کو کمزور کر کے حالات کو سازگار بنایا جبکہ کارروائیوں کے بعد اپنے محاذ کی کامیابی اور دشمن کی شکست کی تصویر بھی مؤثر انداز میں پیش کی۔
سپاہ کے ترجمان نے آج کے میڈیا اور ماضی کے میڈیا کے بنیادی فرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آج میڈیا کا میدان ایک طرح سے جنگ کا میدان بن چکا ہے اور صحافی اس معرکے میں سرخرو اور کامیاب رہے ہیں، ہم ہر لمحہ اس کامیابی کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔
جنرل محبی نے امریکی صدر کی جانب سے آبنائے ہرمز اور جنگ کی صف اول پر ایرانی مسلح افواج کی صورتحال سے متعلق بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا: ٹرمپ کا لفظوں کے ساتھ کھیل کو پوری دنیا جانتی ہے۔ وہ جھوٹ بولنے اور بلف مارنے کے علاوہ بعض اوقات ایسے جملے بھی بولتا ہے کہ انسان کو گمان ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے حالات سے بے خبری یا کسی نشے کی کیفیت میں ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اس کی مثال یہی بے بنیاد باتیں ہیں جن میں انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز امریکہ کی ملکیت ہے۔ یہ بات زیادہ تر ایک مزاحیہ اور مضحکہ خیز جملے کے مشابہ ہے۔ وہ امریکہ جو آج آبنائے ہرمز سے ۴۰۰ کلومیٹر دور ہو چکا ہے، جس کا خلیج فارس میں ایک بھی جنگی جہاز موجود نہیں اور جو اپنی پوری کوشش کے باوجود ایک بحری جہاز کو بھی گزارنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا، وہ کس طرح ایسا دعویٰ کر سکتا ہے؟
جنرل محبی نے آخر میں تاکید کرتے ہوئے کہا: یہ بیانات دنیا کے لیے باعثِ تمسخر بن چکے ہیں اور عالمی رائے عامہ اب ٹرمپ کی باتوں پر کوئی توجہ نہیں دیتی اور مختلف شعبوں میں اس کے دعوؤں کو کوئی اہمیت نہیں دیتی کیونکہ ٹرمپ کے بیانات انتہائی خیالی اور زمینی حقائق سے دور ہیں۔
