پائیدار سیکیورٹی کے قیام میں بسیج کی جنگی تنظیم کا کردار / رضاکاروں کو ’’جان فدا‘‘ سسٹم کے تحت منظم کرنے کا منصوبہ ہے، جنرل فرجی

بسیج مستضعفین آرگنائزیشن (رضاکار فورس) کے عوامی آپریشنز کے نائب سربراہ نے کہا: ہماری دفاعی ڈاکٹرائن ’’ناقابلِ اختتام اور عوامی بنیادوں پر استوار دفاع‘‘ ہے اور ہمارے پاس ’’جان فدا‘‘ سسٹم کے رضاکاروں کو جنگی تنظیم، شہری اور دیہی مزاحمتی مراکز اور دیگر ڈھانچوں میں منظم کرنے کے لیے وسیع منصوبے موجود ہیں۔
خبر کا کوڈ: 6163
تاریخ اشاعت: 16 August 2026 - 21:42 - 07November 2647

دفاعی اور سیکیورٹی گروپ، دفاع‌ پریس ـ رحیم محمدی: دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگوں کے دوران بعض افراد بسیج کی منظم بٹالینز کی شکل میں محلوں میں گشت کرتے رہے جبکہ بعض دیگر نے گزرگاہوں پر ناکہ بندی اور چیک پوسٹس قائم کیں تا کہ منافقین اور صیہونی حکومت اور امریکہ کے ایجنٹ، شہریوں کی سیکیورٹی میں خلل نہ ڈال سکیں۔ اس دوران انہوں نے اس راستے میں شہادتیں بھی پیش کیں۔ اسی حوالے سے سیکیورٹی کو یقینی بنانے میں بسیج کے کردار کے موضوع پر بسیج مستضعفین آرگنائزیشن کے آپریشنل اینڈ پبلک ریزیزسٹنس کوآرڈینیٹر جنرل اسماعیل فرجی کے ساتھ دفاع‌ پریس کے رپورٹر نے گفتگو کی، جس کی تفصیل درج ذیل ہے

جنرل فرجی

دفاع‌ پریس: گزشتہ ایک سال کے دوران ہم دو مسلط کردہ جنگوں سے گزرے ہیں، لہٰذا بتائیے کہ ان دونوں مسلط کردہ جنگوں کے دوران شہروں کی سیکیورٹی اور امن و سکون برقرار رکھنے میں بسیج نے کیا کردار ادا کیا؟

جنرل فرجی:دفاعی اور سیکیورٹی کے شعبے میں ہماری ایک ذمہ داری ’’محلوں اور شہری علاقوں کا دفاع‘‘ کے عنوان سے ہے جسے ہم بسیج کی جنگی تنظیم یعنی بیت‌المقدس اور کوثر بٹالینز، شہری بسیج کے مزاحمتی مراکز اور مزاحمتی مراکز کے آزاد جنگی دستوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انجام دیتے ہیں۔ اسی سلسلے میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کے حکم پر شہری اور دیہی مزاحمتی مراکز میدانوں اور سڑکوں پر تشکیل دیے گئے تا کہ عوامی بنیادوں پر قائم پائیدار سیکیورٹی کے نقطۂ نظر کے ساتھ امن و سلامتی برقرار رکھی جا سکے کیونکہ جب ہمارا دفاع عوامی بنیادوں پر استوار ہوگا تو سیکیورٹی بھی عوامی اور ناقابلِ اختتام ہوگی۔

اسی بنیاد پر ہم نے اکثر بسیجیوں کے ساتھ ساتھ عوام کے تمام رضاکار افراد کو بسیج کی جنگی بٹالینز کی شکل میں منظم کیا اور انہیں جنگی تنظیموں کی شکل میں بروئے کار لائے۔ اس سلسلے میں بسیجیوں کی تیاری کے لیے ٹریننگ پروگرام بھی منعقد کیے گئے، جن میں شہری جنگ کی ٹریننگ بھی شامل ہے۔

گزشتہ برسوں اور بالخصوص جنگ کے دوران ہم نے اکثر گلیوں، محلوں اور سڑکوں پر دیکھا کہ بسیجیوں نے عزیز فراجا اہلکاروں کے ساتھ مل کر ناکہ بندی اور چیک پوسٹس قائم کر کے شہریوں کی سیکیورٹی برقرار رکھی۔ البتہ ’’رضویون‘‘ کے عملی گشت جو بسیجیوں اور رضاکاروں کی جانب سے عوامی بنیادوں پر انجام دیے جاتے ہیں، اب بھی میدان میں موجود ہیں۔

اس کے علاوہ بسیجیوں نے دیگر ذمہ دار اداروں کے ساتھ مل کر سرکاری اداروں اور کارخانوں کی سیکیورٹی اور حفاظت میں بھی مؤثر کردار ادا کیا کیونکہ سرکاری اداروں اور کارخانوں سے وابستہ بسیجیوں کی ذمہ داری ان مراکز کے بسیج مراکز کی حفاظت بھی ہے، جنہیں اصطلاح میں ’’مقر‘‘ کہا جاتا ہے۔

اسی طرح ہمارے عزیز وطن ایران کے جغرافیائی اور سرزمینی دائرے میں موجود حسّاس اور اہم مراکز کا دفاع بھی بسیج کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ یہ تعاون ایرو اسپیس، میزائل فورس اور بحریہ جیسے خصوصی شعبوں کے ساتھ ساتھ بری فوج کی خصوصی امام حسینؑ بٹالینز میں بھی جاری ہے۔ دوسری جانب غیرمسلح دفاع، عوامی ٹریننگ اور عوامی بنیادوں پر قائم بٹالینز بھی بسیج کی ترجیحات میں شامل ہیں۔

ان تمام امور کے ساتھ ہماری خواتین بھی کوثر بٹالینز میں امدادی اور کوآرڈینیشن امور کے علاوہ شہری اور دیہی مزاحمتی مراکز تشکیل دے کر وطن کے دفاع کے لیے اپنی آمادگی ثابت کر چکی ہیں۔ یہاں تک کہ ہمارے معزز سابق فوجیوں اور پیشہ ور افراد نے بھی ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچنے کے بعد سابق فوجیوں کی جنگی تنظیم میں خود کو منظم کیا ہے اور اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ البتہ جن امور کی جانب میں نے اشارہ کیا، وہ دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں بسیج کے فرائض کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔

دفاع‌ پریس: آپ نے چیک پوسٹس اور رضویون گشت جیسی سرگرمیوں کا ذکر کیا۔ اگر ان عزیزوں کی میدان میں موجودگی نہ ہوتی تو ہمیں کن نتائج کا سامنا کرنا پڑتا اور ان کی موجودگی نے کن واقعات کو روکنے میں کردار ادا کیا؟

جیسا کہ شہید رہبر نے فرمایا، دشمن، عظیم ایرانی قوم اور اسلامی جمہوریہ ایران کے بارے میں غلط تصورات کا شکار تھے۔ اس سے پہلے صدام بھی یہی غلط تصور رکھتا تھا اور اسی بنیاد پر اس نے ہمارے ملک پر حملہ کیا تھا۔ امریکیوں اور صیہونی حکومت کا بھی یہی غلط تصور تھا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ فضائی حملوں اور ملک کے اندر اور باہر

موجود غدار اور مخالف عناصر کو اکسا کر وہ زمینی حملہ کر سکتے ہیں، اندرون ملک سیکیورٹی کو درہم برہم کر سکتے ہیں اور ممکنہ عوامی ناراضگی کی وجہ سے لوگوں کو نظام کے خلاف بغاوت پر اکسا سکتے ہیں۔

لیکن جب دشمن کو انقلابی عوام کی وسیع تعداد میں موجودگی، تمام گزرگاہوں، گلیوں اور سڑکوں پر بسیجیوں کی شجاعانہ موجودگی، چیک پوسٹس اور ناکہ بندیوں اور گشت کا سامنا کرنا پڑا تو اسے اندازہ ہوا کہ اسے صرف ایک حکومت نہیں بلکہ ۹ کروڑ ایرانیوں کا سامنا کرنا ہے اور ان سے جنگ لڑنی ہے۔ چنانچہ جب اس نے ’’بسیجیوں کی بڑی مُٹھی‘‘ دیکھی تو وہ بدحواسی کا شکار ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ دیکھتے ہیں کہ وہ ۱۲ روزہ اور ۴۰ روزہ جنگوں میں صرف فضائی حملوں تک محدود رہا اور اسے زمینی کارروائی شروع کرنے کی جرأت نہیں ہوئی۔

لہٰذا بسیجیوں کی میدان میں موجودگی نے نہ صرف نظام اور عوام کے لیے پائیدار سیکیورٹی فراہم کی بلکہ انقلاب کے حامیوں میں جوش اور امید اور دشمنوں، بالخصوص امریکہ اور صیہونیوں میں شدید مایوسی پیدا کی۔

دفاع‌ پریس: اس عوامی موجودگی سے حاصل ہونے والی کامیابیوں اور نتائج کے بارے میں آپ کیا وضاحت دے سکتے ہیں؟

جنرل فرجی:ہماری کامیابیاں دو حصوں میں تھیں۔ پہلے حصے میں قابلِ دید دریافتیں شامل ہیں جن میں آتشیں اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور چھوٹے ڈرونز شامل ہیں جن کی بسیجیوں نے نشاندہی کی اور ان کو برآمد کیا۔ دوسرا نتیجہ ’’عوامی بنیادوں پر قائم پائیدار سیکیورٹی‘‘ کا قیام تھا۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ بہت سے ایسے افراد نے جن کے دل نظام اور انقلاب کے ساتھ تھے لیکن انہوں نے بسیج میں اپنا اندراج نہیں کرایا تھا، ان دنوں اپنی آمادگی کا اعلان کیا اور اس کے نتیجے میں بسیج کی جنگی تنظیم کئی گنا بڑھ گئی۔ اس کے باوجود ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ان عزیز ’’جان فدا‘‘ رضاکاروں کو جنہوں نے اعلان کردہ سسٹمز کے ذریعے اپنا اندراج کرایا تھا، بالخصوص ان افراد کو جو دفاعی اور سیکیورٹی کے شعبے میں خدمات انجام دینے کے خواہش مند ہیں، منظم کر کے آئندہ ذمہ داریوں میں بروئے کار لایا جائے۔

دفاع‌ پریس: حالیہ واقعات میں ہم نے دیکھا کہ بسیج کی بعض چیک پوسٹس جن میں شہید بابائی ہائی وے کی چیک پوسٹ بھی شامل ہے کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ بسیجیوں کو نشانہ بنانے کے لیے ان مقامات کا انتخاب کیوں کیا گیا؟

ہمارا دشمن، جس کی فطرت میں ہی بچوں کا قتل اور جرم انجام دینا ہے، کسی بھی انسانی اصول کا پابند نہیں۔ اس دعوے کی واضح مثال میناب کے ’’شجرۂ طیبہ‘‘ اسکول پر حملہ اور امریکی دہشت گرد فوج کی جانب سے اس اسکول کے طلبہ کو بڑی تعداد میں شہید کرنا ہے۔

لہٰذا جب دشمن نے دیکھا کہ بسیجیوں کی موجودگی اور عوام کی حمایت کے باعث ہماری اندرون ملک سیکیورٹی ناقابلِ تسخیر ہے تو اس نے اس پائیدار سیکیورٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے چیک پوسٹس اور ناکہ بندیوں کو نشانہ بنایا۔ بدقسمتی سے ان حملوں میں ہمارے بسیجی نوجوانوں میں سے بھی متعدد افراد شہید ہوئے۔

ان حملوں کے بعد فوری طور پر حفاظتی اور سیکیورٹی ہدایات جاری کی گئیں تا کہ جانی نقصان کو کم کیا جا سکے۔ لہٰذا ان اندھا دھند حملوں کا مقصد خوف، اضطراب پیدا کرنا اور بسیجیوں کے حوصلے کو کم کرنا تھا لیکن ہماری قوم اور بسیجی اپنے فرائض سے مکمل آگاہی رکھتے ہوئے اب بھی میدان میں موجود ہیں۔

دفاع‌ پریس: بعض مخالف میڈیا نے دعویٰ کیا کہ نظام نے چیک پوسٹس پر کم عمر نوجوانوں کو تعینات کیا ہے۔ اس معاملے کی حقیقت کیا ہے؟

جنرل فرجی:مجھے اس بات پر تاکید کرنی چاہیے کہ دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں تعینات کیے جانے والے اکثر عزیز بسیجی اور عوامی رضاکار نوجوانوں کی عمر کے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ تمام ضروری فوجی ٹریننگ بھی حاصل کر چکے ہیں۔ ان افراد نے اسلحے کے استعمال کے قوانین، انتظامی امور اور متعلقہ معاملات سے آگاہی کے ٹریننگ کورسز مکمل کیے ہیں۔

البتہ جیسا کہ میں نے کہا، دشمن کے لیے یہ اہم نہیں کہ اس کے حملے کا نشانہ کون بنتا ہے کیونکہ وہ صرف اپنے مقصد کے بارے میں سوچتا ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے جو کچھ بھی کر سکتا ہے، کرتا ہے یہاں تک کہ اسکول اور دودھ پیتے بچوں کے نرسری کو بھی نشانہ بناتا ہے۔ لہٰذا یہ جرائم، میناب کے اسکول پر حملے کی طرح، اسلامی جمہوریہ اور عظیم ایرانی قوم کی مظلومیت کے ساتھ ساتھ ان امریکیوں کے وحشی پنے کا ثبوت ہیں جو جمہوریت اور انسانی حقوق کے دعوے کرتے ہیں۔

دفاع‌ پریس: آخر میں، کیا آپ نے بسیج کی اکائی طاقت کو مضبوط بنانے اور مستقبل میں سیکیورٹی کی سطح بہتر کرنے کے لیے کوئی خصوصی منصوبہ تیار کیا ہے؟

جنرل فرجی:ہماری دفاعی ڈاکٹرائن ’’ناقابلِ اختتام اور عوامی بنیادوں پر استوار دفاع‘‘ ہے۔ اسی بنیاد پر ہمارے پاس ’’جان فدا‘‘ سسٹم کے رضاکاروں کو جنگی تنظیم، شہری اور دیہی مزاحمتی مراکز اور دیگر ڈھانچوں میں منظم کرنے کے لیے وسیع منصوبے موجود ہیں۔

ہمارا مقصد یہ ہے کہ ان عزیزوں کو ٹرین کریں، تیار کریں اور عزیز سرزمینِ ایران کے دفاع کے لیے بروئے کار لائیں تا کہ ملک میں پائیدار اور مستقل سیکیورٹی قائم ہو سکے۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں