فوج کی پریڈ میں ہائبرڈ جنگ سے نمٹنے کے لیے مشترکہ آپریشن کی مشق کا انعقاد
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، آرمی کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج (دافوس) کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل فرزاد اسماعیلی نے کہا: دافوس کے 86ویں کورس کے طلبہ کے لیے ہائبرڈ جنگ سے نمٹنے کے لیے مشترکہ آپریشن کی مشق اس یونیورسٹی میں 5 روز تک منعقد کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا: ہائبرڈ جنگ سے نمٹنے کے لیے مشترکہ آپریشن کی مشق کو پہلے اور دوسرے سمسٹر کے انٹیلیجنس، آپریشنز، انفرادی قوت، کوآرڈینیشن، دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی میں متحرک حملہ آور بریگیڈ، ائیر ڈیفنس فورس کے آپریشنز، فضائی آپریشنز، بحری آپریشنز اور الیکٹرانک اینڈ سائبر وار کے مضامین میں دی جانے والی تعلیمات کی عملی مشق کے لیے مرتب کیا گیا ہے تا کہ فوجی آپریشنز کو حقیقی نوعیت فراہم کی جا سکے اور جائزوں کی تیاری اور مناسب فیصلے کرنے کی ٹریننگ کو مضبوط بنایا جا سکے۔
کمانڈر نے مزید کہا: اس سال کی مشق کی جدت یہ تھی کہ ہائبرڈ جنگ کے باہم مربوط پلیٹ فارمز پر توجہ دی گئی اور دہشت گرد گروہوں سے نمٹنے کے لیے فوج کی چاروں افواج کو استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ افراد اور سسٹمز کی تعیناتی میں جنگی ہتھیاروں کی جدید منصوبہ بندی کے اصولوں سے استفادہ کیا گیا۔
بریگیڈیئر جنرل اسماعیلی نے اس مشق کے اہداف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: طلبہ کے لیے کمانڈ اور اسٹاف کے فرائض کی مشق، ہائبرڈ جنگ کے ماحول اور اس کے حوالے سے خطرات پیدا کرنے والے مؤثر عوامل کو سمجھنا، آپریشنز کی منصوبہ بندی میں درستگی اور طلبہ کی پیشہ ورانہ صلاحیت میں اضافہ، آپریشنز کی منصوبہ بندی میں طلبہ کی صلاحیت میں اضافہ اور اچانک کیے جانے والے حملوں اور ہائبرڈ جنگوں کی فوجی کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری علمی و عملی مہارتوں اور صلاحیتوں کے حصول میں طلبہ کی تیاری کی سطح بڑھانا اس مشق کے اہداف میں شامل تھا تا کہ وہ حقیقی جنگ میں پیدا ہونے والی صورتحال کی مشق کر سکیں۔
انہوں نے کہا: چونکہ تمام طلبہ کورس مکمل کرنے کے بعد مختلف سطحوں پر کمانڈ اور اسٹاف کے عہدوں پر ذمہ داریاں سنبھالیں گے اور مختلف قسم کی ٹیکٹیکل مشقوں میں سے کسی ایک کی منصوبہ بندی کی ذمہ داری بھی ان کے سپرد ہوگی، اس لیے اس مشق کا کتابچہ مکمل طور پر ان کے اختیار میں دیا جائے گا تا کہ منصوبہ بندی کے لیے اس کو بطور حوالہ استعمال کیا جا سکے۔
بریگیڈیئر جنرل اسماعیلی نے ایسی مشقوں کے انعقاد اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے میں ان کے اثرات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا: چونکہ ہر ملک کو خطرات سے نمٹنے کے لیے مخصوص تدابیر، پالیسیوں اور انتظامات کا حامل ہونا چاہیے تا کہ وہ اپنی دفاعی اور سیکیورٹی کوششوں کو دفاعی نظریے اور عمومی پالیسیوں کے تحت ہم آہنگ کر کے عملی جامہ پہنا سکے، اس لیے اس نوعیت کی مشترکہ مشقیں کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے ہماری دفاعی حکمتِ عملیوں کو بہتر بنا سکتی ہیں۔
