انصاراللہ کی صلاحیتوں میں اضافہ/ نئی جنگ کی صورت میں زیادہ تباہ کُن ہتھیار استعمال کریں گے، جنرل محبی
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان جنرل حسین محبی نے دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے ملک کی عسکری صلاحیتوں اور دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگ کے بعد ایرانی میزائلوں کے وارہیڈز کو مضبوط بنانے کے بارے میں کہا: ہم روز بروز تمام جنگی ہتھیاروں کے شعبے میں ترقی کر رہے ہیں اور اپنے ہتھیاروں کو زیادہ پریسائزڈ، زیادہ تباہ کُن اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی تیار کر رہے ہیں۔

جنرل محبی نے مزید کہا: اگر دوبارہ جنگ شروع ہوتی ہے تو یقینی طور پر ہمارے ہتھیار ماضی سے مختلف ہوں گے؛ یہ فرق وارہیڈ کی نسل، نشانہ لگانے کی درستگی، میزائلوں کی رینج یا کسی بھی دوسرے شعبے میں ظاہر ہو سکتا ہے۔
سپاہ کے ترجمان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہتھیاروں کی تیاری اور ترقی میں کبھی وقفہ نہیں کیا اور مزید واضح کیا: ہم ہر روز ترقی کر رہے ہیں اور اس حوالے سے ہر امکان قابلِ تصور ہے
انہوں نے سعودی جارحیت کے مدمقابل یمن کی انصاراللہ کی صلاحیتوں کے بارے میں بھی کہا: دو سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے کہ صیہونی حکومت غزہ پر حملے میں مصروف ہے اور اب تک حماس کو کوئی بھاری نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو سکی لہٰذا سعودی عرب، جس کی فوجی صلاحیت صیہونی حکومت سے بھی کم ہے، انصاراللہ اور یمنی جنگجوؤں کا مقابلہ کیسے کر سکتا ہے؟ یہ ممکن نہیں ہے۔
جنرل محبی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہر قوم اپنی بقا اور اپنے اثاثوں کے دفاع کے لیے کوشش کرتی ہے اور خود کو باصلاحیت سمجھتی ہے، مزید کہا: اس میدان میں یقینی طور پر سعودی عرب یمن اور انصاراللہ کو قابو میں نہیں رکھ سکے گا اور ان کے حملوں سے محفوظ نہیں رہ سکے گا؛ جیسا کہ گزشتہ دنوں ہم نے دیکھا کہ سعودی عرب کا پیمانے پر حملہ کرتا ہے، اس کے مقابلے میں اسے کئی گنا زیادہ ضربیں لگتی ہیں۔
سپاہ کے ترجمان نے آخر میں کہا: یمن کی انصاراللہ نے جو صلاحیت برسوں کے دوران حاصل کی ہے، وہ روز بروز بڑھ رہی ہے اور یمن کی مزاحمت پوری قوت کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
