مسلح افواج کی طاقت کے سامنے دشمن عاجز/ ہم نے امریکی جنگی بحری جہازوں کو شدید نقصان پہنچایا، جنرل حیدری

مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کے ڈپٹی کمانڈر نے کہا کہ فتح کا مطلب یہ ہے کہ حملہ آور کو مقررہ وقت اور مقام پر اپنے اہداف حاصل کرنے سے روک دیا جائے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج نے دشمن کو اپنے پیشگی طے شدہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام بنا کر جنگ کے میدان میں یقینی فتح حاصل کی ہے۔
خبر کا کوڈ: 6253
تاریخ اشاعت: 17 September 2026 - 19:16 - 08December 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی رپورٹر کے مطابق، مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کے ڈپٹی کمانڈر بریگیڈیئر جنرل کیومرث حیدری نے دفاعِ مقدس اور مزاحمت کی اقدار کے تحفظ اور اشاعت کی فاؤنڈیشن کے اسٹاف کونسل کے اجلاس میں، اس فاؤنڈیشن کے سربراہ اور نائبین کی جانب سے رپورٹس پیش کیے جانے کے بعد، اس ادارے میں انجام دی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا: دفاعِ مقدس اور مزاحمت کی اقدار کے تحفظ اور اشاعت کی فاؤنڈیشن ایک بے مثال اور منفرد ادارہ ہے۔ بے مثال اس لحاظ سے کہ اس کا کوئی متبادل یا نظیر موجود نہیں۔ ہمارے پاس مسلح افواج کے درمیان مختلف بریگیڈز اور متعدد ادارے موجود ہیں لیکن دفاعِ مقدس کی اقدار اور ان کے تحفظ اور اشاعت کی فاؤنڈیشن ایک بے مثال اور منفرد ادارہ ہے۔

جنرل حیدری

جنرل حیدری نے دفاعِ مقدس اور مزاحمت کی اقدار کے تحفظ اور اشاعت کی فاؤنڈیشن میں ایکٹیو افراد کی خصوصیات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: فطری طور پر اس ادارے میں شریف، مجاہد، ولایت سے وفادار اور شہداء کے راستے اور سیرت سے محبت رکھنے والے افراد یکجا ہوئے ہیں۔ جو شخص اس راستے سے دلچسپی نہ رکھتا ہو اور جس کا پاک دل ایمان، جہاد اور ولایت کی راہ میں شہادت سے وابستہ نہ ہو، اللہ تعالیٰ اسے ایسی قابلِ ذکر توفیقات عطا نہیں کرتا۔

مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کے ڈپٹی کمانڈر نے دفاعِ مقدس اور مزاحمت کی اقدار کے تحفظ اور اشاعت کی فاؤنڈیشن کے سربراہ کی حیثیت سے جنرل کارگر کی موجودگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس ادارے کی سربراہی ایک ایسے مجاہد، ولایت سے وفادار، دانشور اور ہمدرد بھائی کے پاس ہے۔ مجھے حقیقتاً اس عزیز کی موجودگی پر فخر ہے اور ماضی میں ہم ان کے ساتھ ہم رزم بھی رہ چکے ہیں۔

مسلح افواج آج کی جنگ میں میدان کے فاتح ہیں

انہوں نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج جنگ کے میدان میں فاتح ہیں، کہا: آج ہماری مسلح افواج بلاشبہ جنگ کے میدان میں فاتح ہیں۔ فتح کی جو تعریف میں کرتا ہوں، اس کے مطابق اگر مدافع حملہ آور کو مقررہ وقت اور مقام پر اپنے پیشگی طے شدہ اہداف تک پہنچنے سے روکنے میں کامیاب ہو جائے تو مدافع فاتح ہے اور اس سائنسی تعریف کے مطابق آج ہم جنگ کے میدان میں فاتح ہیں۔

جنرل حیدری نے جنگ کے آغاز سے دشمن کے اہداف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: دشمن اپنی تمام تر کوششوں، ۴۷ سال کی دھمکیوں اور تیاری کے بعد آیا اور پوری شدت کے ساتھ حملہ کیا تا کہ، اس کے اپنے بقول، مختصر مدت میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کو تبدیل کر دے لیکن یہ ایک باطل خیال تھا۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج آج جنگ کے میدان کو اپنے کنٹرول میں رکھتی ہیں، اور واضح کیا: آج جنگ کا میدان ہمارے مسلح افواج کے زیرِ انتظام ہے۔ آج ہم جنگ کے میدان کو چلا رہے ہیں یعنی جنگ کے میدان میں جن اسٹریٹجک منصوبوں پر ہم عمل کر رہے ہیں، ان کے نتیجے میں دشمن عاجز ہو گیا ہے۔

مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کے ڈپٹی کمانڈر نے مزید کہا: جس دشمن کے دل میں نظام کا تختہ الٹنے کا خواب تھا، وہ آج جنگ کے میدان میں عاجزی کے ساتھ کام کر رہا ہے یعنی اگر وہ کوئی کارروائی کرتا بھی ہے تو وہ ہماری کارروائی کے ردِعمل میں ہوتی ہے۔

جنگ میں فتح کے پانچ ستون

جنرل حیدری نے جنگ میں اسلامی جمہوریہ ایران کی فتح پر اثرانداز ہونے والے عوامل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: جنگ کے میدان میں ہمیں جو فتح حاصل ہوئی ہے، وہ پانچ عظیم ستونوں پر قائم ہے۔ پہلا ستون اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ ہم اللہ کے لیے جنگ کرتے ہیں۔ ہم جنگ کے لیے جنگ نہیں کرتے۔ ہم اللہ کے لیے جنگ کرتے ہیں اور چونکہ ہم اللہ کے لیے جنگ کرتے ہیں، اس لیے اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

انہوں نے مزید کہا: اگر اللہ کا فضل نہ ہوتا تو امریکہ کو عاجز کر دینا انتہائی مشکل ہوتا۔ ہم ایسے امریکہ سے جنگ کر رہے ہیں جس سے بہت سے ممالک خوفزدہ ہیں اور حتیٰ کہ آسانی سے اس کا نام بھی نہیں لیتے، چہ جائیکہ اس کے ساتھ براہِ راست جنگ میں الجھیں۔ امریکہ کی پشت پناہی میں صیہونی حکومت اور خطے کے بعض ممالک موجود ہیں اور ان حالات میں ہم نے کامیابی حاصل کی ہے۔

مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کے ڈپٹی کمانڈر نے کہا کہ مسلح افواج کی فتح کو اللہ تعالیٰ کی عنایت کے بغیر بیان نہیں کیا جا سکتا اور کہا: یہ امتزاج، یہ فتح پیدا ہوئی ہے اور ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس فتح میں اللہ کے فضل کے علاوہ کوئی اور عامل مؤثر تھا۔

جنرل حیدری نے الٰہی رہنمائی اور رہبر معظم انقلاب اسلامی کی قیادت کو فتح کا دوسرا ستون قرار دیتے ہوئے کہا: ان کی قیادت عین ہمارے امامِ شہید کی سیرت کے مطابق ہے۔ ہم ان کے خطوط، احکامات اور مبارک دست خط پڑھتے ہیں اور انہیں اپنی آنکھوں پر رکھتے ہیں۔ ان سطور کے درمیان وہی ثابت قدمی، وہی پائیداری اور وہی نورانی راستہ دیکھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مسلح افواج کی طاقت کو فتح کا تیسرا ستون قرار دیتے ہوئے کہا: الحمدللہ ہماری مسلح افواج ٹیکنالوجی کے جدید ترین مقام پر ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ ملک کی اندرونی صلاحیتوں پر انحصار کرتی ہیں۔ اگر ہم اندرونی صلاحیتوں پر انحصار نہ کرتے تو ہمارے ذخیرے اور گودام ہماری ضروریات پوری نہیں کر سکتے تھے۔

مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کے ڈپٹی کمانڈر نے مزید کہا: آج دشمن کی ہر گستاخانہ حرکت کے جواب میں ہم خطے میں بڑی تعداد میں میزائل داغ رہے ہیں اور ہم نے دشمن کو حیران کر دیا ہے۔ حقیقتاً ہماری مسلح افواج کی طاقت قابلِ مثال ہے۔

جنرل حیدری نے حالیہ فتوحات میں عوام کے کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: چوتھا ستون عوام ہیں۔ میدان میں موجود عوام، وہ عوام جو تھکے نہیں ہیں بلکہ جیسا کہ کہا جاتا ہے، انہوں نے تھکن کو بھی تھکا دیا ہے۔

انہوں نے خدمت گزار حکومت کو فتح کا پانچواں ستون قرار دیتے ہوئے کہا: ہماری کامیابی اور فتح کا پانچواں عنصر خدمت گزار حکومت ہے۔ حکومت جنگ کے ساتھ اور عوام کے ساتھ رہی ہے۔ ہم جنگ کے ساتھ حکومت کی موجودگی سے انکار نہیں کر سکتے۔ حکومت نے حمایت کی ہے اور اب بھی حمایت کر رہی ہے۔ اگر ہم اسی رفتار اور طریقے سے آگے بڑھتے رہے تو ان شاء اللہ حتمی فتح ہماری دسترس میں ہوگی۔

مسلح افواج کی طاقت کے سامنے دشمن عاجز ہو چکا ہے

مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کے ڈپٹی کمانڈر نے امریکہ کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی صلاحیتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: امریکیوں کا اس خطے میں دو حتمی انجام مقدر ہیں۔ اگر وہ جنگ جاری رکھتے ہیں تو یقیناً ان کے بہت سے اہلکار، جس طرح آج تک ہلاک ہو چکے ہیں، انہی بحری جہازوں پر اپنے ملک واپس جائیں گے جبکہ ان میں سے ایک بڑی تعداد ان شاء اللہ خطے کے پانیوں کی گہرائیوں میں غرق ہو جائے گی۔

جنرل حیدری نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ، فتح ہے اور مزید کہا: ہمارے امامِ شہید نے فرمایا تھا کہ اگر بحری جہاز ایک خطرناک ہتھیار ہے تو اس سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اس بحری جہاز کو پانی کی گہرائیوں میں پہنچا دے اور ان شاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا: امریکیوں کی طاقت کا عروج ان کی بحریہ اور ان کے جنگی بحری جہاز ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے آج تک پوری تاریخ میں کوئی طاقت امریکہ کے کسی بحری جہاز یا اس کی بحری طاقت کو نشانہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوئی لیکن اللہ کے فضل اور امام زمانہ (عج) کی مدد سے چند رات قبل ہم نے دیکھا کہ ہمارے میزائلوں نے ان کے بھاری جنگی بحری جہازوں اور جنگی کشتیوں کو نشانہ بنایا، ان پر حملہ کیا اور انہیں شدید نقصانات پہنچائے۔

مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کے ڈپٹی کمانڈر نے اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی کارروائیوں پر دشمن کے ردِعمل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس معاملے پر دشمن نے دو ردِعمل ظاہر کیے۔ پہلے اس نے خلیج فارس کے خطے میں کچھ اقدامات کیے اور دوسرے، اس نے کم از کم یہ کوشش کی کہ بزدلانہ اور بے بسی کے ساتھ ہمارے ساتھ اپنا فاصلہ ۵۰۰ کلومیٹر تک بڑھا لے۔ ان شاء اللہ جن بہترین کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، ان کے ذریعے دشمن کا فاصلہ ہم سے اتنا زیادہ ہو جائے گا کہ ہم حتمی فتح اپنی عظیم قوم کو تحفے میں دے سکیں۔

سیرتِ شہداء؛ مسلح افواج کی روحانی بنیاد مضبوط بنانے کا نمونہ

جنرل حیدری نے مسلح افواج کی روحانی بنیاد اور جہادی جذبے کو مضبوط بنانے پر رہبر معظم انقلاب اسلامی کی تاکید کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: آقا نے میرے لیے جو حکم جاری فرمایا، اس کے پہلے حصے میں ملک اور مسلح افواج کی دفاعی اور سیکیورٹی بنیاد کو مضبوط بنانے اور اس میں مدد کرنے کے بارے میں تھا جبکہ اگلے حصے میں روحانی بنیاد اور جہادی جذبے کو مضبوط بنانے کی تاکید فرمائی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ شہداء کی سیرت مسلح افواج کی روحانی بنیاد کو مضبوط بنانے کے لیے بہترین نمونہ ہے اور مزید کہا: جہادی جذبے اور روحانی بنیاد کو ہمیں شہداء کی سیرت میں تلاش کرنا چاہیے

اگر ہم کہیں اور یہ کوشش کرنا چاہیں کہ جہادی جذبے کی تعریف کیا ہے اور روحانی بنیاد کو کس طرح مضبوط بنایا جائے تو ہم غلطی کریں گے لہٰذا ہمیں شہداء کی سیرت میں تحقیق اور جستجو کرنی چاہیے تا کہ روحانی بنیاد اور جہادی جذبے کے عوامل، پہلو اور پیمانے تلاش کیے جا سکیں۔

مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کے ڈپٹی کمانڈر نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے ہمیں دفاعِ مقدس اور مزاحمت کی اقدار کے تحفظ اور اشاعت کی فاؤنڈیشن کے تعاون کی ضرورت ہے اور کہا: اگر ہم جہادی جذبے اور روحانی بنیاد کو بامعنی بنانا چاہتے ہیں اور اسٹاف اور انتظامی اقدامات کے ذریعے اس میں روح اور جان پیدا کرنا چاہتے ہیں تا کہ یہ مسلح افواج کے وجود میں جاری و ساری ہو جائے تو اس سلسلے میں آپ کی آراء اور آپ کے اقدامات مؤثر ثابت ہوں گے۔

جنرل حیدری نے واضح کیا: جہادی اور روحانی جذبے کی تکمیل ہمیں شہداء کی سیرت میں تلاش کرنی چاہیے کیونکہ شہداء نے ان امور کو عملی طور پر ثابت کیا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ وہ مجاہد تھے اور جہادی جذبے اور روحانی بنیاد کے حامل تھے؛ یہاں تک کہ انہوں نے اللہ اور اسلام کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں۔

دفاعِ مقدس کی اقدار کے تحفظ اور اشاعت کی فاؤنڈیشن؛ سیرتِ شہداء کی وارث

انہوں نے دفاعِ مقدس اور مزاحمت کی اقدار کے تحفظ و اشاعت کی فاؤنڈیشن کے مشنز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہمارے مشنز میں تشریحی اور اجتہادی ذمہ داریاں شامل ہیں۔ اجتہادی ذمہ داری کے اعتبار سے ہم سب اس بات کے مکلف ہیں کہ شہداء کی سیرت کی پیروی کریں اور اپنے راستے کو اپنے عزیز شہداء کی سیرت کے مطابق جاری رکھیں۔ آپ کی ایک اور ذمہ داری یہ ہے کہ آپ شہداء کی سیرت کے وارث ہیں۔ میرا یقین ہے کہ یہ فاؤنڈیشن شہداء کی سیرت کی وارث ہے۔

مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کے ڈپٹی کمانڈر نے شہداء کے بارے میں تیار کیے گئے آثار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ملک میں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں ان کتابوں اور بنائی گئی فلموں کی طرح شہداء کی سیرت کو پیش کیا گیا اور اسے شاعری اور کتابوں میں سمویا گیا ہو۔ آپ شہداء کی اس عظیم اور نورانی سیرت کے وارث ہیں۔

جنرل حیدری نے آخر میں معاشرے میں شہداء کی سیرت کو جاری و ساری کرنا فاؤنڈیشن کی دیگر اہم ذمہ داریوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا: ہم سیرتِ شہداء کے وارث ہونے کی حیثیت سے اس بات کے پابند ہیں کہ ایک رابطے کا پل قائم کریں تا کہ شہداء کی نورانی سیرت کو معاشرے کے اندر جاری کریں۔ اس کے لیے بڑی مہارت درکار ہے اور یہ صرف ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں؛ تاہم دفاعِ مقدس اور مزاحمت کی اقدار کے تحفظ اور اشاعت کی فاؤنڈیشن، راستے کو بیان اور سمت کو متعین کر سکتی ہے تا کہ ہم بھی اپنی استطاعت کے مطابق اس میں مدد کریں۔

دفاعِ مقدس اور مزاحمت کی اقدار کے تحفظ اور اشاعت کی فاؤنڈیشن کے سربراہ جنرل کارگر نے بھی اس اجلاس میں مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کے ڈپٹی کمانڈر کی شرکت پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے شہداء، بالخصوص حالیہ جنگ کے شہداء کے بلند مرتبہ کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا: اس ادارے کے بہت سے مشنز اس کے کارکنوں کی کوشش، جدت اور جہادی جذبے کے ذریعے مکمل ہوئے ہیں اور آج یہ کہا جا سکتا ہے کہ دفاعِ مقدس اور مزاحمت کے ورثے کو ریکارڈ کرنے، محفوظ رکھنے اور اس کی تشریح کے شعبے میں اس فاؤنڈیشن کی اہم ذمہ داریوں کا ایک بڑا حصہ انہی بے مثال کوششوں کے باعث پورا ہوا ہے۔

جنرل کارگر نے دفاعِ مقدس اور مزاحمت کی اقدار کے تحفظ اور اشاعت کی فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا: جنگِ رمضان اور ۱۲ روزہ مسلط کردہ جنگ میں ہماری بنیادی تشویش دستاویزات جمع کرنا تھی اور الحمدللہ ہمیں یہ توفیق حاصل ہوئی کہ ہم ان جنگوں سے متعلق دستاویزات کا مجموعہ جمع کر سکیں۔

انہوں نے واضح کیا: ۱۲ روزہ مسلط کردہ جنگ کے دوران ایک اور قیمتی تجربہ بھی حاصل ہوا اور وہ صوبوں میں "معراجِ شہداء" کا قیام تھا۔ اپنی ذمہ داری کے پیش نظر یہ اقدام منصوبے کے مطابق انجام دیا گیا۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں