امریکی بحری جہازوں میں ایرانی ساحلوں کے قریب آنے کی جرأت نہیں، فوج کے ترجمان
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے ملک کی فوجی طاقت کو تباہ کیے جانے سے متعلق ٹرمپ کے بے بنیاد دعوے کے بارے میں ایک گفتگو میں کہا: یہ ایک جھوٹا دعویٰ ہے۔ ہم خطے میں موجود ہیں اور خطے کو کنٹرول کرتے ہیں۔

جنرل اکرمی نیا نے مزید کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ بحیرہ عمان، بحیرہ عرب اور شمالی بحرِ ہند میں تعینات ہے اور ان علاقوں کو کنٹرول کرتی ہے۔ اس نے امریکی بحری جہازوں کو ساحلوں کے قریب آنے کی اجازت نہ ماضی میں دی ہے اور نہ اب دے رہی ہے۔ اس وقت امریکی بحری جہاز ہمارے ساحلوں سے بہت زیادہ فاصلے پر موجود ہیں جو ہماری طاقت اور قوت کا مظہر ہے۔ اگر ٹرمپ کے بقول بحریہ تباہ ہو چکی ہوتی تو دشمن ساحلوں کے قریب آ جاتا لیکن اس وقت اسے ایسا کرنے کی جرأت نہیں ہے۔
فوج کے ترجمان نے ایران کے قلب میں، اپنے پائلٹ کو بچانے کے لیے امریکی فوج کی جانب سے کیے گئے دعوؤں اور اس سلسلے میں امریکی پائلٹ کے انٹرویو کے بارے میں کہا: جیسا کہ مغربی اور امریکی ذرائع ابلاغ نے بھی اعلان کیا ہے، ان پائلٹوں سے کہا گیا تھا کہ وہ کیمروں کے سامنے آئیں اور یہ باتیں بیان کریں۔
جنرل اکرمی نیا نے مزید کہا: ظاہر ہے کہ ان کے بیانات حقیقت سے دور ہیں۔ امریکی کوشش کر رہے ہیں کہ جس طرح ہالی ووڈ کی فلموں میں دکھایا جاتا ہے، اسی طرح اپنی ناقابلِ شکست ہونے کی داستان تخلیق کر کے اسے دنیا کے سامنے پیش کریں۔ یہ انٹرویوز اور دعوے بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔
انہوں نے دشت مَہیار کے واقعات کے بارے میں، جن کے باعث امریکہ مایوسی کا شکار ہوا اور اس نے جھوٹ کا سہارا لیا، کہا: بہرحال امریکہ نے اس علاقے میں ایک بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کی تھی لیکن وہ کارروائی ناکام ہو گئی۔ انہیں اپنے کئی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں پر بمباری کر کے انہیں تباہ کرنا پڑا۔ درحقیقت، ایک ایسا بڑا رسوائی کا واقعہ دوبارہ پیش آیا جیسا کہ کارٹر کے دور میں طبس میں پیش آنے والی رسوائی تھی۔ اب اس بڑی رسوائی پر پردہ ڈالنے کے لیے وہ اس شکست کو لوگوں کے ذہنوں سے دور کرنے اور فتح کی ایک داستان تخلیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فوج کے ترجمان نے آخر میں امریکہ اور ٹرمپ کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے پیغام کے بارے میں کہا: اگر وہ دوبارہ غلط اندازہ لگاتے ہیں اور نئی جارحیت کا ارتکاب کرتے ہیں تو انہیں ماضی کے مقابلے میں زیادہ فیصلہ کُن، زیادہ وسیع اور زیادہ طاقتور انداز میں نشانہ بنایا جائے گا اور انہیں ایک بھاری شکست برداشت کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔
