آبنائے ہرمز، امریکی اَن مَنڈ کشتیوں کے شکار کا نیا میدان

آبنائے ہرمز میں امریکی اَن مَنڈ کشتیوں کی تباہی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ علاقہ امریکی کشتیوں کے شکار کے نئے میدان میں تبدیل ہو گیا ہے۔
خبر کا کوڈ: 6259
تاریخ اشاعت: 19 September 2026 - 23:00 - 10December 2647

تحریر: رحیم محمدی

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، ۱۰ روز قبل یعنی 09 ستمبر کو، سپاہ پاسداران کی بحریہ نے اعلان کیا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے اندرونی راستوں پر ’’سلامہ‘‘ جزیرے کے قریب اور عمان کے ’’خصب‘‘ کے نزدیک ایک دور سے کنٹرول کی جانے والی کشتی کو نشانہ بنا کر اسے ڈی ایکٹیویٹ کر دیا ہے۔ یہ وہ کشتی تھی جو امریکی بحریہ کے زیرِ استعمال جدید ترین اور نئے ترین مصنوعات میں شمار ہوتی ہے۔

اَن مَنڈ کشتی

سپاہ پاسداران کی جانب سے نشانہ بنائے جانے والی اَن مَنڈ کشتی، امریکی کمپنی ’’سیل ڈرون‘‘Saildrone) ) کا تیار کردہ ہے اور اسی نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک چھوٹی بادبانی کشتی دکھائی دیتی ہے لیکن جب اس کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو اس کے استعمال کی کارکردگی اور اہمیت مزید واضح ہو جاتی ہے کیونکہ یہ اَن مَنڈ بادبانی کشتی، سمندری علوم اور موسمیاتی مشنز سے لے کر مشرقِ وسطیٰ کے پانیوں میں انٹیلیجنس آپریشنز اور سرحدی گشت تک مختلف ذمہ داریاں انجام دیتی ہے۔

’’سیل ڈرون‘‘ کمپنی جو ۲۰۱۲ء میں قائم ہوئی، اب خلیج فارس اور بحیرہ احمر میں امریکی بحریہ کے ساتھ تعاون کر رہی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایک نیا پوزیشننگ نظام تیار کیا ہے جو GPS کی ضرورت کے بغیر کام کرتا ہے  دوسرے لفظوں میں کیلیفورنیا کے شہر ’’آلامیدا‘‘ میں واقع یہ کمپنی اَن مَنڈ کشتی (USV ) کا ایک بیڑا ڈیزائن تیار کر رہی اور چلا رہی ہے۔

مذکورہ کمپنی کے صارفین اور تحقیقی شریکوں میں درج ذیل ادارے شامل ہیں: قومی سمندری اور ماحولیاتی انتظامیہ NOAA)) ، امریکی بحریہ اور کوسٹ گارڈ، ناسا، نیو ہیمپشائر اور رہوڈ آئی لینڈ کی جامعات، یونائیٹڈ سٹیٹس کے ممالک کی سائنسی اور صنعتی تحقیقاتی تنظیم، یورپی مرکز برائے موسمی پیش گوئی (ECMWF) ، جرمنی کا ’’جیومار ہلم ہولٹز کیل‘‘ (GEOMAR Helmholtz Kiel ) سمندری تحقیقاتی مرکز، اور مونٹیری بے ایکویریم ریسرچ انسٹی ٹیوٹ۔

’’سیل ڈرون‘‘ کی جانب سے جن کمپنیوں اور تحقیقی مراکز کے ساتھ تعاون کا ذکر کیا گیا ہے، ان کے نام اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مذکورہ کمپنی سائنسی اور تحقیقی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ امریکی کوسٹ گارڈ اور بحریہ کے ساتھ بھی تعاون کرتی ہے۔ مثال کے طور پر اکتوبر ۲۰۲۰ء میں امریکی کوسٹ گارڈ کے ہوائی میں واقع ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر نے بحر الکاہل کے دور دراز علاقوں میں بحری صورتحال سے آگاہی بہتر بنانے کے لیے کم لاگت اور تجارتی طور پر دستیاب خودکار حل کا جائزہ لینے کی غرض سے ’’سیل ڈرون‘‘ بحری جہازوں کے استعمال کے ذریعے ۳۰ روزہ تجربہ کیا۔

اَن مَنڈ کشتی کے تین پلیٹ فارم

’’سیل ڈرون‘‘ نے اپنے صارفین کے مشنز انجام دینے کے لیے تین بنیادی پلیٹ فارم ایکسپلورر ، وویجر  (Voyager) اور سروےئرSurveyor) ) تیار کیے ہیں۔ یہ تینوں بحری جہاز اَن مَنڈ (USV) ہیں اور موسمیاتی، سمندری، صوتی سینسرز اور شمسی بیٹری کے ساتھ ہوا سے چلنے والی propulsion ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں۔

لہٰذا سپاہ پاسداران کی بحریہ کے ہاتھوں تباہ کیے گئے اَن مَنڈ کشتی کی جن خصوصیات کا ذکر کیا گیا ہے، ان کے مطابق یہ سیل ڈرون ایکسپلورر Saildrone Explorer) ) ماڈل ہے، جس کی لمبائی سات میٹر (۲۳ فٹ) ہے اور یہ ہوا کے حالات کے مطابق اوسطاً تین بحری میل فی گھنٹہ (۵.۶ کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے حرکت کرتی ہے اور ۳۶۵ دن تک سمندر میں موجود رہ سکتی ہے کیونکہ اس کشتی کو بنیادی انرجی، ہوا سے حاصل ہوتی ہے جبکہ اس کے آلات اور سینسرز شمسی توانائی سے چلتے ہیں۔

’’ایکسپلورر‘‘ اَن مَنڈ کشتی دراصل ایسے مشنز کے لیے تیار کی گئی ہے جن میں عملے والے بحری جہاز محفوظ طریقے سے آمد و رفت نہیں کر سکتے کیونکہ جیسا کہ بتایا گیا، یہ بحری جہاز ۲۴ گھنٹے اور مسلسل ۳۶۵ دن تک کسی معاون گاڑی کے بغیر سمندر میں سرگرم رہ سکتی ہے۔

اَن مَنڈ کشتی

مغربی ایشیا کے پانیوں میں موجودگی

موجودہ حالات میں ایسے نظام کی موجودگی کو امریکہ کی جانب سے نگرانی، جاسوسی اور بحری ماحولیاتی صورتحال سے آگاہی پیدا کرنے کی کارروائیوں کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ امریکی بحریہ اس سے قبل بھی اسی خطے میں بحری جہازوں کی نگرانی اور اپنے پانچویں بحری بیڑے کی آپریشنل تصویر مکمل کرنے کے لیے سیل ڈرون Saildrone)) اور دیگر اَن مَنڈ سسٹمز استعمال کر چکی ہے۔ لہٰذا مغربی ایشیا میں جنگ اور جھڑپوں میں شدت کے ساتھ اس خطے کے پانیوں میں

امریکی بحریہ کے لیے آپریشنل حالات مزید مشکل ہو گئے ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے پورے خطے میں اَن مَنڈ آلات تعینات کرنے کی کوشش کی ہے تا کہ پانچویں بحری بیڑے کی ’’آنکھ اور کان‘‘ کا کردار ادا کر سکیں۔

اس بحری جہاز میں ایک لچک دار پوزیشننگ سسٹم موجود ہے جو اسے ایسے سمندری ماحول میں آٹومیٹک طور پر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے جہاں GPS موجود نہ ہو یا اس میں خلل ہو اور سیٹلائٹ سسٹمز پر انحصار کیے بغیر مطلوبہ ماحول میں آپریشن جاری رکھنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔

امریکی بحریہ اور ٹاسک فورس ۵۹ کے ساتھ تعاون

امریکی بحریہ نے ستمبر ۲۰۲۱ء میں ٹاسک فورس ۵۹ Task Force 59) ) کو بحری افواج کی مرکزی کمان NAVCENT) ) اور اپنے پانچویں بحری بیڑے کے ایک حصے کے طور پر قائم کیا۔ اس ٹاسک فورس کے قیام کا مقصد بحری بیڑے کی کارروائیوں میں اَن مَنڈ سسٹمز اور اے آئی کے عملی طور پر استعمال کو آگے بڑھانا تھا۔ دوسرے لفظوں میں، اسے اردن کی ’’عقبہ‘‘ بندرگاہ میں واقع اپنے بحری اڈے پر امریکی پانچویں بحری بیڑے کی کارروائیوں میں اَن مَنڈ سسٹمز اور اے آئی کو مربوط کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا تا کہ بحیرہ احمر میں اَن مَنڈ کشتیوں کی مشترکہ کارروائیوں کے مرکز کے طور پر کام کرے۔ ان کی کارکردگی جانچنے کے لیے دسمبر ۲۰۲۱ء میں خلیج عقبہ میں ’’ڈیجیٹل ہورائزن‘‘ Digital Horizon) ) فوجی مشق کے دوران ایکسپلورر (Saildrone Explorer USV ) ماڈل کے بغیر اَن مَنڈ سسٹمز کا عملی تجربہ بھی کیا گیا جس کے بعد اس ٹاسک فورس نے بحرین میں ایک اور آپریشنل مرکز بھی قائم کیا؛ تاہم یہ خبریں بھی شائع ہوئی ہیں کہ یہ یونٹ اب عمان کے خصب کے قریب ایک اڈے پر منتقل ہو چکا ہے۔ اسی طرح اس سے قبل خصب عمان میں مختلف ائیر ڈیفنس سسٹمز کی تعیناتی کی بھی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔

بحرین میں تعیناتی کے بعد ٹاسک فورس ۵۹ جو امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کا حصہ ہے، کو سینٹکام کے علاقے میں بحری کارروائیوں کے اندر اَن مَنڈ سسٹمز اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو تیار اور مربوط کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تا کہ مذکورہ بحری جہازوں کے ذریعے خلیج فارس، آبنائے ہرمز، بحیرہ عمان اور خطے کی دیگر آبی گزرگاہوں میں نگرانی اور جاسوسی کی کوریج فراہم کی جا سکے۔ دوسرے لفظوں میں، امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے نے اَن مَنڈ سسٹمز اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے آلات کا ایک نیٹ ورک قائم کیا ہے تا کہ سمندری سرگرمیوں میں غیر معمولی رویوں کی نشاندہی کر کے عملے والے بحری جہازوں کو ردعمل ظاہر کرنے کے لیے رہنمائی فراہم کی جا سکے۔

تکنیکی صلاحیتیں اور سینسرز کا پے لوڈ

یہ اَن مَنڈ کشتی معیاری پے لوڈز لے جاتی ہے جن میں ریڈار، الیکٹرو آپٹیکل/انفراریڈ (EO/IR ) کیمرے، خودکار شناختی نظام ( (AIS اور اندرونی آٹومیشن کا پیکج شامل ہے۔ یہ سینسرز بحری جہازوں کی سرگرمیوں کا پتہ لگانے اور متعلقہ راستے فراہم کرنے کے لیے مسلسل کام کرتے ہیں۔

اس نظام کی اہم صلاحیتوں میں شامل ہیں:

کیمرہ: ہائی ریزولوشن الیکٹرو آپٹیکل/انفراریڈ کیمرے، اندرونی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے الگورتھمز اور بحری جہازوں، چھوٹی کشتیوں اور غیر معمولی سرگرمیوں کی شناخت کی صلاحیت کے ساتھ۔

ریڈار کے ذریعے تشخیص: بحری جہاز کا ریڈار کوآرڈینیشن غیر موجود اور خودکار شناختی نظام ( (AIS سے محروم اہداف کی قابلِ اعتماد شناخت ممکن بناتا ہے اور کم حدِ نگاہ، رات کے وقت اور زیادہ ٹریفک والے پانیوں میں بھی کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

نیویگیشن: اس کا نیویگیشن سسٹم عالمی سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم GNSS)) ، انرشیل سینسرز اور اندرونی کمپیوٹنگ سسٹمز کا استعمال کرتا ہے۔ یہ آٹومیٹڈ طور پر راستے کی شناخت، تصادم سے بچاؤ اور انسانی رہنمائی یا GPS پر انحصار کے بغیر مشن کے طے شدہ نمونوں کی پابندی میں مدد کرتا ہے۔

سمارٹ کیمروں سے لیس ہونے کی صلاحیت: یہ اَن مَنڈ بحری جہاز ایک سمارٹ کیمروں کی صف سے لیس کیا جا سکتا ہے جس میں ۳۶۰ ڈگری ہائی ریزولوشن آپٹیکل کیمرے اور اہداف کی شناخت کی صلاحیت شامل ہے۔

انٹیلیجنس اور آپریشنل صلاحیتیں

اس اَن مَنڈ بحری جہاز کی بعض صلاحیتوں میں کثیر الجہت انٹیلیجنس ڈیٹا ( (Multi-INT کی براہِ راست منظرکشی شامل ہے جس میں ریڈار ٹریکس، آٹومیٹک ڈیٹا پروسیسنگ، آپٹیکل/انفراریڈ (EO/IR) شناخت، صوتی اشاریے اور ماحولیاتی ڈیٹا شامل ہیں۔

اَن مَنڈ کشتی

یہ سسٹم، آٹومیٹک انتباہات اور ڈی ایکٹیویٹڈ مانیٹرنگ کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے آپریٹر پر کم سے کم بوجھ کے ساتھ مسلسل نگرانی ممکن ہوتی ہے۔ اسی طرح انٹیلیجنس تجزیے اور مشن کے بعد جائزے میں مدد کے لیے واقعات کا ریکارڈ اور مشن کو دوبارہ چلانے کی سہولت بھی موجود ہے اور معلومات فوری طور پر براہِ راست آپریشنل یونٹ کو منتقل کی جاتی ہیں۔

مذکورہ بحری جہاز جو دور سے گائیڈ کیا جا سکتا ہے اور مکمل طور پر آٹومیٹک انداز میں کام کرتا ہے، مسلسل معلومات فراہم کرتا ہے اور دوبارہ ایندھن بھرے بغیر کئی ماہ تک کام کر سکتا ہے۔ یہ سسٹم وسیع سمندری علاقوں میں بحری جہازوں کی شناخت، گریڈ دینے اور ٹریکنگ کا کام کرتا ہے اور فیصلہ کرنے کے لیے ڈیٹا فوری طور پر اعلیٰ معیار کے ساتھ آپریٹرز یا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو فراہم کرتا ہے  لہٰذا اس کا بنیادی کردار براہِ راست لڑائی کے بجائے جنگی کارروائیوں کے لیے جاسوسی، نگرانی اور انٹیلیجنس کی مدد فراہم کرنا ہے۔

ایرانی بحریہ کی جانب سے قبضے کا پس منظر

09 ستمبر 2026ء کو سپاہ پاسداران کی بحریہ کی جانب سے ایک اَن مَنڈ بحری جہاز کو تباہ کیے جانے کا واقعہ ایران کا ’’سیل ڈرون ایکسپلورر‘‘ (Saildrone Explorer ) ماڈل کے بحری جہازوں کے ساتھ پہلا سامنا نہیں ہے کیونکہ 01 ستمبر 2022ء کو فوج کی بحریہ کے ڈسٹرائر جماران نے بھی امریکی پانچویں بحری بیڑے سے تعلق رکھنے والے ایسے ہی دو اَن مَنڈ بحری جہاز بحیرہ احمر کے جنوبی حصے سے پانی سے باہر نکال لیے تھے۔

اَن مَنڈ کشتی

اس وقت اعلان کیا گیا تھا کہ یہ بحری جہاز رانی کے راستے میں چھوڑے گئے تھے لہٰذا بحری سفر کے خطروں سے بچنے کے لیے انہیں قبضے میں لیا گیا اور امریکی فریق کو تنبیہ کیے جانے کے بعد ایک محفوظ علاقے میں چھوڑ دیا گیا۔ تاہم امریکی بحریہ نے اگرچہ نداجا کی جانب سے ’’سیل ڈرون ایکسپلورر‘‘ (Saildrone Explorer ) کے دو بحری جہازوں کو قبضے میں لینے اور اگلی صبح انہیں واپس کرنے کے اصل واقعے کی باضابطہ تصدیق کی لیکن اس کا دعویٰ تھا کہ یہ بحری جہاز بین الاقوامی پانیوں میں اور بحری جہازوں کی آمد و رفت کے مرکزی راستے سے باہر غیر قانونی تصاویر جمع کرنے میں مصروف تھے۔ سپاہ پاسداران کی بحریہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے علاقے میں نشانہ بنایا جانے والا بحری جہاز بھی اسی خاندان کے بحری جہازوں میں سے ہے جن میں سے دو کو اس سے قبل ڈسٹرائر جماران نے قبضے میں لیا تھا۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں