ایرانی کا بنایا گیا جنگی طیارہ آئندہ سال پرواز کرے گا/ محاذِ مزاحمت کو مزید مضبوط بنانے کا عزم، مہرداد اخلاقی
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیرِ دفاع اور مسلح افواج کی معاونت کے لیے نامزد وزیر مہرداد اخلاقی نے پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے اپنی مجوزہ وزارت کے منصوبوں کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی پیداوار میں نجی شعبے کو شامل کرنے کی شرح 85 فیصد سے زیادہ تک پہنچانے، محاذِ مزاحمت کی حمایت، میزائل اور ائیر ڈیفنس سسٹمز کی ترقی، بھاری جنگی طیارے کی تیاری اور ملک کی ڈرون اور خلائی صلاحیتوں میں اضافے کو ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ وزارتِ دفاع کے مختصر اور مڈ ٹرم مدت کے منصوبے چھ ماہ اور 22 ماہ کی مدت کے لیے مرتب کیے گئے ہیں۔

دفاعی پیداوار میں نجی شعبے کا کردار
اخلاقی کے مطابق، وزارتِ دفاع کی دفاعی مصنوعات کی تیاری میں نجی شعبے کو شامل کرنے کی شرح 2024ء میں تقریباً 55 فیصد تھی جبکہ 2025ء میں اسے 75 فیصد تک پہنچانے کی ہدایت دی گئی۔ 2027ء تک اس شرح کو 85 فیصد سے زیادہ کرنے کا ہدف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ عمل من مانے انداز میں نہیں ہوگا بلکہ مسلح افواج کے جنرل سٹاف کی ہدایات کے تحت انجام پائے گا۔ سپاہ پاسداران، فوج اور پولیس سمیت مختلف اداروں کی معلومات کی بنیاد پر ہزاروں دفاعی مصنوعات میں سے ان اشیاء کی نشاندہی کی گئی ہے جو 12 روزہ اور 40 روزہ مسلط کردہ جنگوں کے تجربات کے مطابق مؤثر ثابت ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ انتہائی خفیہ اور اس سے بلند گریڈڈ مصنوعات محفوظ تنصیبات میں تیار کی جائیں گی جبکہ بہت خفیہ یا اس سے کم گریڈڈ مصنوعات ملک کے وسیع پیداواری نیٹ ورک میں بنائی جا سکیں گی۔ اخلاقی نے موجودہ جنگ کو ایک جامع اور ہائبرڈ جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزارتِ دفاع میں اس نوعیت کے خطروں سے نمٹنے کے لیے ٹیمیں تشکیل دی جا چکی ہیں۔ تاہم، قومی سلامتی کے تقاضوں کے باعث پارلیمنٹ کے عمومی اجلاس میں ان منصوبوں کی مکمل تفصیلات بیان کرنا مناسب نہیں۔
مزاحمتی محاذ اور دفاعی تحقیق
اخلاقی نے محاذِ مزاحمت کی حمایت کو اپنی اہم ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی تقریباً پوری مدتِ ملازمت کے دوران مختلف ممالک میں مزاحمتی محاذوں کے ساتھ براہِ راست رابطہ رکھا ہے اور ان کے لیے خدمات انجام دی ہیں۔ ان کے مطابق، مزاحمتی محاذ کے رہنماؤں کی جانب سے دی گئی تعریفی اسناد بھی پارلیمنٹ کی بعض کمیٹیوں، خصوصاً قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کو فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے تقریباً 35 سال سے اپنی جماعت کے افراد کے دہشت گرد گروہوں کی فہرستوں میں شامل ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے مزید دستاویزات پیش کرنے کو مناسب نہیں سمجھا، تاہم محاذِ مزاحمت کو پہلے سے زیادہ مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا۔
دفاعی تحقیق کے بارے میں اخلاقی نے کہا کہ قومی خود مختاری اور دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے تحقیق، پیداوار سے بھی زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 1984ء سے 2004ء تک ان کی سرگرمیاں بنیادی طور پر تحقیق کے شعبے تک محدود رہیں جبکہ اس کے بعد انہوں نے تحقیق اور پیداوار دونوں کو ساتھ لے کر کام کیا۔ ان کے مطابق، وزارتِ دفاع میں مختلف ادوار کے دوران متعدد تحقیقی مراکز اور ڈیزائن دفاتر قائم کیے گئے جن میں دفاعی صنعت کے ادارے کے تحت گزشتہ نو برس میں قائم ہونے والے درجنوں مراکز بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب کے بعد اختیار کردہ "نہ مشرق، نہ مغرب" کے اصول کے تحت ایران کو اپنی دفاعی، بری، بحری اور اسلحہ جاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے تحقیق اور مقامی ٹیکنالوجی پر انحصار کرنا ہوگا۔
وزارتِ دفاع کی تنظیمِ نو اور اقتصادی ادارے
اخلاقی نے کہا کہ موجودہ حالات اور نئے اہداف کے مطابق وزارتِ دفاع کے ڈھانچے پر نظر ثانی کی جائے گی۔ ان کے مطابق، تنظیمِ نو کا عمل 2026ء تک مکمل کرنے اور ضروری منظوریوں کے بعد 2027ء میں اس پر عمل درآمد شروع کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔
وزارتِ دفاع سے وابستہ معاشی کمپنیز کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ذمہ داری سنبھالنے کے بعد پہلے ان اداروں کی صورتِ حال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور اس کے بعد ان کے انتظام سے متعلق فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے اس عمل کو ڈاکٹر کے پہلے مریض کا معائنہ کرنے اور پھر علاج تجویز کرنے سے تشبیہ دی۔ اخلاقی کے مطابق، ان کمپنیز کو بہتر انداز میں منظم کر کے مسلح افواج کے لیے درکار مالی وسائل کی فراہمی میں حکومت کی مدد کی جا سکتی ہے بشرطیکہ ان کی معاشی صحت برقرار رکھی جائے۔ جہاں وزارتِ دفاع کی ملکیت محدود ہو، مثلاً بعض پیٹروکیمیکل کمپنیز میں صرف 20 یا 30 فیصد حصے ہوں، وہاں متعلقہ پروفیشنل وزارت کو انتظام سونپنے اور وزارتِ دفاع کو اپنے حصے کے مطابق منافع حاصل کرنے کا امکان بھی زیرِ غور ہوگا۔
ملازمین، خاندانوں اور ریٹائرڈ اہلکاروں کی فلاح و بہبود
اخلاقی نے وزارتِ دفاع اور بسیج مستضعفین آرگنائزیشن کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے ایک مفاہمتی معاہدے کا ذکر کیا جس کا مقصد ملازمین میں جہادی جذبے کو مضبوط بنانا، نئے اہلکاروں کی بھرتی اور موجودہ عملے کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے ملازمین کی فکری اور عقیدتی تربیت کے ساتھ ان کے خاندانوں کی ضروریات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کے مطابق، بعض ملازمین صبح پانچ یا ساڑھے پانچ بجے گھر سے نکلتے، سات بجے کام شروع کرتے اور شام سات بجے دفتر سے روانہ ہو کر رات نو بجے گھر پہنچتے ہیں جس سے انہیں اپنے خاندان کے لیے بہت کم وقت ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کے شریکِ حیات اور بچوں کے لیے باقاعدہ پروگرام بنائے جائیں اور ثقافتی سرگرمیوں کو صرف پیغامات اور سوشل میڈیا تک محدود نہ رکھا جائے۔
انہوں نے دفاعی شعبے کے ماہرین کو برقرار رکھنے کے لیے مناسب رہائش، تنظیمی رہائشی سہولیات اور ادائیگیوں کے نظام میں بہتری کی ضرورت بھی بیان کی۔ ان کے مطابق، وزارتِ دفاع مسلح افواج کے ملازمین اور زیرِ کفالت گروہوں کی بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رکھنے کے لیے 300 ملین ڈالر خرچ کر رہی ہے جسے حکومت سے سال کے اختتام تک واپس ملنے کی توقع ہے۔ اس اقدام کا مقصد مہنگائی کے باوجود اگلے پانچ ماہ کے دوران متعلقہ ملازمین اور ریٹائرڈ اہلکاروں کے لیے ان اشیاء کی قیمتوں کو حتی الامکان فکس رکھنا ہے۔ انہوں نے موجودہ بیمہ سہولتوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ دفاعی صنعت کے ادارے میں آزمائے گئے بعض طریقوں کو وزارت کی سطح پر بھی نافذ کرنا چاہتے ہیں۔
میزائل، ائیر ڈیفنس، ڈرون اور جنگی طیارے
اخلاقی نے مڈ ٹرم مدت کے منصوبوں میں جدید اور سمارٹ ہتھیاروں کی مسلسل ترقی کو بنیادی حیثیت دی۔ ان کے مطابق، زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں اور کروز میزائلوں کی پریسیژن، تباہی کی طاقت اور مار کرنے کی حد بڑھائی جائے گی تا کہ ایران کی دفاعی ڈیٹرنس مضبوط ہو اور دشمن ایران کی سرحدوں سے دور علاقوں میں بھی محفوظ تعیناتی کی امید نہ رکھ سکے۔ ائیر ڈیفنس کے شعبے میں بھی سابقہ منصوبوں کے مقابلے میں زیادہ سنجیدگی سے کام کیا جائے گا۔
ڈرون پروگرام میں اسٹیلتھ، طویل فاصلے تک پرواز کرنے والے، خودکش، فلمنگ، ائیر ڈیفنس اور دشمن کے ڈرونز کا مقابلہ کرنے والے ڈرون شامل ہیں۔ اخلاقی نے کہا کہ اگلے 22 ماہ میں اس شعبے کی تحقیق اور پیداوار میں نمایاں پیش رفت کی جائے گی۔
خلائی صلاحیتوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فوجی سیٹلائٹس کو تصاویر کے معیار اور آپریشنل مدار کے اعتبار سے زرعی اور غیر فوجی سیٹلائٹس سے مختلف ضروریات پوری کرنا ہوتی ہیں۔ ایران اپنے فوجی سیٹلائٹس کی ڈیزائننگ، تیاری اور لانچنگ خود کرنے کا منصوبہ جاری رکھے گا۔ فضائی جنگ کے شعبے میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا بھاری جنگی طیارہ آئندہ سال پرواز کرے گا جبکہ رواں سال اس کی ٹیکسی ٹیسٹ اور زمینی نقل و حرکت کے مراحل انجام دیے جائیں گے۔
بحری جنگی صلاحیتوں میں واٹر لیول اور انڈر واٹر انسان بردار اور بغیر انسان کے چلنے والے بحری جہازوں اور بحری مواصلات کو ترقی دینے کا منصوبہ ہے۔ بری جنگ، سائبر، الیکٹرانک جنگ، مواصلات، انٹیلیجنس، حیاتیاتی اور ادراکی ٹیکنالوجی، مسلح افواج کی غذائی سلامتی اور کم حجم میں زیادہ توانائی فراہم کرنے والی ٹیکنالوجی بھی منصوبوں میں شامل ہیں۔
پیداواری تنصیبات، قومی تعاون اور آئندہ کے اہداف
اخلاقی نے کہا کہ دفاعی پیداواری تنصیبات کی تعمیرِ نو اس انداز میں کی جائے گی کہ پیداوار کا تسلسل برقرار رہے اور نان آپریشنل ڈیفنس کے اصولوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ مستقبل میں کارخانوں کو لازماً سابقہ مقامات پر دوبارہ قائم نہیں کیا جائے گا بلکہ محفوظ تنصیبات کے لیے موزوں پہاڑی اور زمینی مقامات، اکائیوں کی طاقت، سرحدی حالات، صوبوں کی صلاحیتوں اور پسماندگی کے خاتمے کی ضروریات کو سامنے رکھ کر جگہوں کا انتخاب ہوگا۔ اس منصوبے کی منظوری مسلح افواج کے جنرل سٹاف سے لی جائے گی۔
انہوں نے دفاعی برآمدات بڑھانے، ٹارگٹ ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کو وسعت دینے، اضافی زمینوں اور املاک کو پیداواری مقاصد کے لیے بروئے کار لانے، مستقل مالی وسائل پیدا کرنے، صنعتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور دفاعی صنعتوں سے وابستہ ریٹائرمنٹ فنڈ کی کمپنیز کو منظم کرنے کو بھی ترجیحات میں شمار کیا۔ انہوں نے سابق وزیرِ دفاع شہید نصیرزادہ کے منصوبوں کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت کے چودھویں دور کے دفاعی پروگرامز کی تکمیل کے پابند ہیں۔
اخلاقی نے جنگِ رمضان کے دوران اپنی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 28 فروری سے ان کا دفتر دفاعی صنعت کے ادارے میں ایسی عمارتوں کے قریب تھا جنہیں میزائلوں نے نشانہ بنایا تھا۔ ان کے مطابق، ان کے دفتر کی عمارت پر 25 میزائل لگنے کے باوجود وہ وہاں سے منتقل نہیں ہوئے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ دفاعی منصوبوں پر کامیابی سے عمل درآمد کے لیے وزارتِ دفاع، حکومت، پارلیمنٹ اور مسلح افواج کے درمیان مؤثر تعاون ضروری ہے۔ ان کے بقول، موجودہ حالات میں قومی اتحاد ملک کی طاقت اور اصلاحات کے نفاذ کا ایک بنیادی عامل ہے۔
