نیتنیاہو نے رضا شاہ کی طرح اپنے اقدامات کے ذریعے اسلامی انقلاب اور فلسطینی کاز کو مضبوط بنانے کی راہ ہموار کی، جنرل نقدی
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف کے مشیرِ اعلیٰ جنرل محمد رضا نقدی نے کامیابیوں میں ارادۂ الٰہی کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ رضائے الٰہی کے لیے کام کرتے ہیں تو خلقت کے تمام ذرات اور اجزاء آپ کی خدمت میں آ جاتے ہیں اور بعض اوقات اللہ تعالیٰ دشمن کو بھی آپ کی خدمت پر مامور کر دیتا ہے۔

جنرل نقدی نے مزید کہا کہ اس بات کو معمولی نہ سمجھیں کہ آپ نے امریکی فوج کے بجٹ کے صرف ایک فیصد کے ساتھ اس پر غلبہ حاصل کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اللہ آپ کا پشت پناہ تھا۔ آپ نے رضائے الٰہی کے لیے کام کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کو طاقت عطا کی
سردار نقدی نے 1979ء میں سابقہ حکومت کے طرزِ عمل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت شاہ عملی طور پر انقلاب کی خدمت کر رہا تھا اور وہ جو بھی اقدام کرتا، اس کا نقصان خود اسی کو پہنچتا تھا۔ آج نیتنیاہو بھی اسی صورتِ حال کی ایک مثال ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ نیتنیاہو نے اسلامی جمہوریہ ایران اور فلسطینی کاز کے لیے جو خدمات انجام دی ہیں، وہ فلسطین کے حامی بڑے سے بڑے مصلحین اور انقلابی بھی انجام نہیں دے سکے۔ اس نے فلسطینی انقلاب اور اسلامی انقلاب کی پیش رفت میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔
صہیونی حکومت کے خلاف عالمی رائے عامہ میں تبدیلی
سپاہ کے کمانڈر انچیف کے مشیرِ اعلیٰ نے صیہونی حکومت کے بارے میں عالمی رائے عامہ کے بدلتے ہوئے رجحان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چند سال پہلے ہم سفارتی اقدامات کے ذریعے کوشش کرتے تھے کہ مختلف ممالک کے تقریباً 100 وفود اسرائیل کے وزیراعظم کی تقریر کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے باہر نکل جائیں، شور مچائیں اور اس کی مخالفت میں نعرے لگائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اس بارے میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے سوال کیا تو مجھے جواب ملا کہ اگر آپ برسوں تک سفارتی کوششیں بھی کرتے رہتے، تب بھی اس نتیجے تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ یہ صورتِ حال خود صیہونی حکومت کے اقدامات اور طرزِ عمل کا نتیجہ ہے۔
جنرل نقدی نے مزید کہا کہ اگر ہم برسوں تک سفارتی کوششیں کرتے رہتے تو اس نتیجے تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ میں نے ایک اور سوال بھی کیا کہ دنیا کے پانچ براعظموں میں لاکھوں بلکہ کروڑوں افراد کو فلسطینی پرچم بلند کرنے اور دنیا کے مختلف حصوں میں آزادی کے حامی لوگوں کو مختلف مشکلات کے باوجود، فلسطینی کاز کی حمایت پر آمادہ کرنے کے لیے ہمیں تشہیری مہم پر کتنے سال صرف کرنا پڑتے؟
جواب پھر یہی تھا کہ نیتنیاہو اور اس کی حکومت کی کارروائیوں، فلسطینی عوام کے ساتھ ان کے برتاؤ اور ان کے پیدا کردہ واقعات کا نتیجہ ہمارے حق میں نکلا۔
مقبوضہ علاقوں سے ہجرت؛ صیہونی حکومت کے لیے ایک چیلنج
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف کے مشیرِ اعلیٰ نے مقبوضہ علاقوں سے ہجرت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی حکومت نے 70 سال تک اپنی آبادی کو فلسطینی سرزمین کے اصل باشندوں یعنی فلسطینیوں کی آبادی سے زیادہ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے برسوں منصوبہ بندی کی، یہودی بستیاں تعمیر کیں، مراعات دیں اور سرمایہ کاری کی لیکن نتیجہ کیا نکلا؟
انہوں نے مزید کہا کہ نیتنیاہو، بن گویر اور اس حکومت کے دیگر عہدیداروں کی فلسطینی عوام اور غزہ کے ساتھ برتاؤ اور کارروائیوں کے نتیجے میں آج ہم ان کی ہجرت کا آغاز دیکھ رہے ہیں۔
جنرل نقدی نے اسرائیلی ذرائع سے منسوب اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روزانہ اوسط ڈیڑھ ڈاکٹر مقبوضہ علاقوں کو چھوڑ رہا ہے یعنی سالانہ تقریباً 500 ڈاکٹر وہاں سے چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح دو سال کے دوران آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے 15 ہزار ماہرین ان علاقوں کو چھوڑ چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً 8 لاکھ افراد نے بھی وہاں سے جانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگ ہجرت کر چکے ہیں جبکہ بعض دیگر ان علاقوں کو چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ بڑے واقعات ہیں اور انہیں معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
اسرائیل کے بارے میں امریکی رائے عامہ کے رجحان میں تبدیلی
جنرل نقدی نے صیہونی حکومت کے بارے میں امریکی رائے عامہ میں تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہم امریکی عوامی رائے کو اس مقام تک لے جا سکتے تھے کہ ایک امریکی فوجی اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے خود کو آگ لگا لے اور Free Palestine کا نعرہ لگائے؟ لیکن ایسا ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اب تک پانچ امریکی فوجیوں نے اٹلانٹا، بوسٹن اور واشنگٹن میں اسرائیل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے خود کو جلا ڈالا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہم امریکی رائے عامہ کو جو مکمل طور پر اسرائیل کی حامی تھی، اس مقام تک پہنچا سکتے تھے؟ ہم ایسا نہیں کر سکتے تھے۔ پھر یہ کام کس نے کیا؟ یہ نیتنیاہو کے طرزِ عمل کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے دشمن کو بھی آپ کی خدمت پر مامور کر دیتا ہے۔
صیہونی حکومت کے طرزِ عمل سے یمنی محاذ کو مضبوطی ملی ہے
سپاہ کے کمانڈر انچیف کے مشیرِ اعلیٰ نے یمن کے محاذ میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج یمنی جہاں بھی جاتے ہیں، پیش قدمی کیوں کرتے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ غزہ کے محاذ اور صیہونی حکومت کی جانب سے دنیا میں پیدا کردہ صورتِ حال کے نتیجے میں اب کوئی مسلمان ایسی جگہ لڑنے کی ترغیب محسوس نہیں کرتا جہاں اسے بتایا جائے کہ وہ اسرائیل کے محاذ پر کھڑا ہے۔ لوگ تیزی سے ایسی صورتِ حال سے دور ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے تاکید کی کہ فلسطینی عوام کے ساتھ صیہونی حکومت کے برتاؤ نے علاقائی اور بین الاقوامی ماحول کو تبدیل کر دیا ہے اور مزاحمتی محاذ کے محاسبات پر اثر ڈالا ہے۔
جنگ اور سیاحت کے بحران کے نتیجے میں صیہونی حکومت کی معاشی صورتحال کمزور
جنرل نقدی نے صیہونی حکومت کی اقتصادی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم اس حکومت کی معاشی صورتحال کو مفلوج کرنا چاہتے تو ہمیں 20 سال تک کام کرنا پڑتا لیکن نیتنیاہو نے جو کچھ کیا ہے، وہ ہم نہیں کر سکتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت اب سیاحت اور اس سے حاصل ہونے والی دولت کا 90 فیصد کھو چکی ہے اور اس کی آمدنی میں سالانہ 38 ارب ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔ اس کی معاشی صورتِ حال کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اگر ہم 10 یا 20 سال بھی کوشش کرتے رہتے، تب بھی وہ کام نہیں کر سکتے تھے جو نیتنیاہو نے کیا ہے۔
یورپ میں صیہونی حکومت کے خلاف 45 ہزار مظاہرے
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف کے مشیرِ اعلیٰ نے یورپ میں رائے عامہ کے رجحانات میں تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو سال کے دوران یورپ میں 45 ہزار مظاہرے منعقد ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر کے لوگوں کا اسرائیل کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا، اس حکومت کے لیے ماضی کی حمایت کا کمزور ہونا اور اس کی بنیادوں کو نقصان پہنچنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ یہ عمل ایسے حالات پیدا کر سکتا ہے جن میں صیہونی حکومت مزید تبدیلیوں اور دباؤ کے سامنے زیادہ کمزور ہو جائے۔
جس طرح سابقہ حکومت کا خاتمہ ہوا، اسی طرح صیہونی حکومت بھی ختم ہو جائے گی
جنرل نقدی نے آخر میں کامیابیوں میں دینی عقائد کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب آپ رضائے الٰہی کے لیے قدم اٹھاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابیاں عطا کرتا ہے۔ جس طرح سابقہ حکومت کا خاتمہ ہوا، اسی طرح اس حکومت کا بھی خاتمہ ہوگا۔
