یمن کی وزارتِ دفاع کے اعلیٰ عہدیدار کا بیان: پاکستانی فوجیوں کے ساتھ سعودی مجرموں جیسا سلوک کریں گے

بریگیڈیئر جنرل عبدالسلام سفیان نے کہا ہے کہ یمن کی فوج، پاکستان کی مجاہد اور مسلمان قوم اور اس کے سیاست دانوں کے درمیان فرق کرتی ہے، تاہم پاکستانی فوج کو یمن میں فوجی مداخلت سے متعلق سخت انتباہ دیتی ہے۔
خبر کا کوڈ: 6369
تاریخ اشاعت: 26 October 2026 - 23:25 - 16January 2648

یمن کی وزارتِ دفاع کے فنی دفتر کے نائب سربراہ بریگیڈیئر جنرل عبدالسلام سفیان نے دفاع پریس کے بین الاقوامی امور کے رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے یمن کی میدانی صورتِ حال اور غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی کے بارے میں کہا: "ہم یمن کی سرزمین کے اندر دشمن کی چھاؤنیوں اور مراکز میں پاکستانی فوجیوں کی کسی بھی موجودگی کو براہِ راست جارحیت تصور کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کسی تأخیر کے بغیر سعودی مجرموں جیسا سلوک کریں گے۔ تھاڈ اور پیٹریاٹ جیسے دنیا کے جدید ترین ائیر ڈیفنس سسٹم بھی سعودی عرب کو تحفظ فراہم نہیں کر سکے۔ ایسے میں چند پاکستانی مشیروں یا پاکستانی ڈیفنس سسٹمز کی موجودگی اس توازن میں کیا تبدیلی لا سکے گی؟ ہم پاکستان کی مجاہد اور مسلمان قوم اور بعض سیاست دانوں کے درمیان فرق کرتے ہیں لیکن کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کے حوالے سے سخت انتباہ دیتے ہیں۔"

یمن

یمن کی وزارتِ دفاع کے فنی دفتر کے نائب سربراہ نے ملک کی اسلحہ سازی کی صلاحیتوں میں اضافے کے بارے میں بھی کہا: "شدید محاصرے کے باوجود، اگر ہم ان برسوں کے دوران فوجی صنعتوں کے شعبے میں ترقی نہ کرتے اور اپنے ہتھیاروں کو جدید نہ بناتے تو جارحیت اور محاصرے کے پہیوں تلے کچلے جا چکے ہوتے۔ ہم نے غیر معمولی ترقی حاصل کی ہے۔ جی ہاں، ہم نے ایران کے تجربات سے استفادہ کیا ہے، ٹیکنالوجی کا تبادلہ کیا ہے اور علم و مہارت منتقل کی ہے جو بالکل فطری بات ہے۔ سعودی حکومت کو یہ حق کیوں حاصل ہے کہ وہ امریکہ، فرانس اور برطانیہ سے سینکڑوں ارب ڈالر کے ہتھیار خریدے اور مغرب اور مغربی ماہرین کے لیے اپنے دروازے کھول دے لیکن ایک مسلمان اور بھائی ملک کے ساتھ ہمارا تعاون ممنوع ہو؟"

انہوں نے صنعاء اور تہران کے تعلقات کے بارے میں مزید کہا: "اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہمارے تعاون کا وجود ایسی بات نہیں جسے ہم چھپانا چاہیں یا اس کا ذکر کرتے ہوئے شرمندگی محسوس کریں۔ اس کے برعکس، ایران ایک مسلمان ملک ہے اور ہمیں اس برادرانہ تعلق پر فخر ہے جو قرآنی تعلیم ’نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو‘ سے ماخوذ ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہمارا تعلق، باہمی تکمیل اور ہم آہنگی پر مبنی ہے تا کہ ان بڑے خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے جو پوری امتِ مسلمہ کو گھیرے ہوئے ہیں۔ آج صیہونی-امریکی مشترکہ منصوبہ جاری ہے جو خطے کو صیہونیت کے غلبے کے دور میں نگلنا اور اسرائیل کے مفاد میں اس کی ازسرِ نو تشکیل کرنا چاہتا ہے۔"

اس گفتگو کے ایک اور حصے میں سفیان نے ایران پر انحصار کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا: "یمن پر ایران کی اجارہ داری یا اس کا تابع ہونے کا الزام لگانا تمام آمر حکمرانوں کا ہمیشہ سے آزمایا ہوا حربہ ہے اور جارح اتحاد بھی مسلسل اسی کی تشہیر کرتا ہے۔ ہم یمن کی ایک اصیل بیداری اور تحریک ہیں جو یمنی قوم کی تاریخی اور گہری جڑوں والی شناخت اور خالص محمدی اسلام کی نمائندگی کرتی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا: "سعودی حکومت ہمیشہ اپنے اعتراف کے مطابق یمن کو اپنا پچھواڑا سمجھتی رہی ہے اور یمن کو کمزور کرنے، اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور اندرونی تصادم پیدا کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے تا کہ ہماری آزادی سلب کر سکے لیکن 21 ستمبر کے انقلاب کے ذریعے یمنی قوم نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی تقدیر اپنے ہاتھوں میں لے گی۔ سعودیوں نے اپنی مرضی مسلط کرنے کے لیے 17 ممالک پر مشتمل اتحاد کو تشکیل دیا لیکن یمنی عوام نے فیصلہ کر لیا کہ وہ کبھی بھی سرپرستی اور قیمومیت کا بوجھ قبول نہیں کرے گی۔ سعودی اتحاد نے یمن میں قحط، محاصرے اور لاکھوں انسانوں کے قتل کے ذریعے جن جرائم کا ارتکاب کیا، وہ بالکل انہی ہولناک مظالم جیسے ہیں جو آج صیہونی غزہ اور رفح میں کر رہے ہیں۔"

سعودی عرب کے جنگی جرائم کے مختلف پہلوؤں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے اسلامی مقدسات کو خطرے میں ڈالنے سے متعلق عائد کیے گئے الزامات کو میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈا قرار دیا اور مقدس مقامات اور ریاض کے سیاسی فیصلوں کے درمیان فرق کرنے کی ضرورت پر تاکید کی۔ انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ دفاعی تعاون کا اعتراف کرتے ہوئے یمن اور سعودی عرب میں غیر ملکی افواج کی موجودگی کو صنعاء کے لیے سرخ لکیر قرار دیا۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں