آئی آر جی سی نے اپنے ایک بیان میں امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ اگر ایران کے خلاف جارحیت دوبارہ دہرائی گئی تو وہ علاقائی جنگ، جس کا وعدہ کیا گیا تھا، اس بار خطے سے بھی آگے تک پھیل جائے گی۔
میجر جنرل عبداللہی نے امریکی اور صیہونی دشمن کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری مسلح افواج، سرزمینِ ایران اور اس کی سربلند قوم کے خلاف دشمن کی کسی بھی نئی جارحیت اور حملے کا فوری، فیصلہ کُن، طاقتور اور وسیع جواب دیں گی۔
آئی آر جی سی کے آٹھ سالہ دفاعِ مقدس کے کمانڈر نے ٹرمپ کے حالیہ بیانات پر ردِعمل ظاہر کیا ہے۔
«امونیم پرکلوریٹ» اور زمین سے فضا کی جانب فائر کیے جانے والے «آرو» میزائلوں کے ذخائر میں ہونے والے دھماکے دشمن کے لیے نہایت بری خبر بن کر سر پہ آن پڑی ہے کیونکہ اس کے بعد ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے اپنے اہداف تک پہنچنے کی شرح سو فیصد کے قریب پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مسلح افواج کے سینئر ترجمان نے تاکید کی ہے کہ ایران کے خلاف مسلط کردہ تیسری جنگ میں امریکہ کی رسوائی کی تلافی کے لیے کسی بھی نئی حماقت کا نتیجہ، اس ملک کے لیے مزید شدید اور تباہ کُن نقصانات کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
مغربی تجزیہ کار آئی آر جی سی کی تیز رفتار کشتیوں کو ’’مچھر بیڑا‘‘ (Mosquito Fleet) قرار دیتے ہیں؛ ایسا بحری بیڑا جو امریکی بحریہ کی بے مثال ٹیکنالوجی اور بھاری طاقت کے باوجود دنیا کی حساس ترین آبی گزرگاہوں میں ایک اسٹریٹجک توازن قائم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے تباہ کُن حملوں نے دنیا بھر میں امریکہ کی عسکری ساکھ اور وقار کو شدید نقصان پہنچایا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ اب بیشتر امریکی سیاست دان بھی ایران کے ساتھ جنگ کے مستقل خاتمے کے خواہاں ہیں اور «ڈونلڈ ٹرمپ» سے کہہ رہے ہیں کہ اب بہت ہو چکا۔
آٹھ سالہ دفاعِ مقدس کے دوران آئی آر جی سی کے کمانڈر رہنے والے میجر جنرل رضائی نے کہا ہے کہ نیا عالمی نظام تیزی سے ایسے قواعد مرتب کر رہا ہے جو اب امریکہ محور نہیں رہے۔
ہمارے شہید رہبر کے بیانات اور مؤقف، اس اسٹریٹیجک اصول کو مستحکم کرتے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے حوالے سے کسی بھی قسم کی سادہ لوحی کو قومی سلامتی سے غداری تصور کیا جاتا ہے۔ جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے معاملے میں امریکہ اور صیہونی حکومت پر اعتماد کرنا، شہید رہبر کی واضح ہدایات کو نظرانداز کرنے اور ایران نیوکلئیر ایگریمنٹ جیسی تاریخی عہد شکنیوں کے تلخ تجربات کو دہرانے کے مترادف ہے۔
حال ہی میں چند غیرملکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی طیارے پاکستان کے نورخان ایئربیس میں تعینات کیے گئے ہیں، تاہم پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اس دعوے کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔