ایک MQ-9 ڈرون کو سپاہ کے جدید ائیر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے اور ملک کے مربوط ائیر ڈیفنس نیٹ ورک کی نگرانی میں صوبہ ہرمزگان کی فضائی حدود میں ٹریک کر کے تباہ کر دیا گیا۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بری فوج کے قدس بریگیڈ کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے صوبہ سیستان و بلوچستان کے جنوبی حصے میں ایک دہشت گرد ٹیم کے باقی ماندہ ارکان کے خلاف کارروائی اور انہیں ختم کیے جانے کی اطلاع دی ہے۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے بحریہ کمانڈر نے آبنائے ہرمز پر ایران کے مکمل کنٹرول پر تاکید کرتے ہوئے لکھا: آبنائے ہرمز بند ہے۔ ہماری نگرانی اور ہر نقل و حرکت پر ہماری بالادستی مکمل اور فیصلہ کُن ہے۔ اس آبنائے میں ہونے والی کوئی بھی نقل و حرکت سپاہ پاسداران کی بحریہ کے مجاہدین کی نظروں سے اوجھل نہیں رہتی۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف کے اعلیٰ مشیر نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ امریکی حکام جنگی فیصلے اپنے ذاتی مفادات کی بنیاد پر کرتے ہیں، کہا: حقیقی ڈیٹرنس ایمان، انصاف اور عوامی حمایت پر قائم ہوتی ہے۔
سپریم کمانڈر انچیف کے عقیدتی اور سیاسی دفتر کے سیاسی معاون نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران ہر قسم کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ضروری تیاری رکھنے کے ساتھ ساتھ جنگ کے بدترین ممکنہ منظرناموں کے لیے بھی خود کو تیار کر چکا ہے اور دشمن کی جانب سے حملہ دوبارہ دہرائے جانے کی صورت میں پہلے سے زیادہ طاقت اور جارحانہ انداز کے ساتھ جواب دے گا۔
بسیج (رضاکار) مستضعفین آرگنائزیشن کے سربراہ نے کہا: امریکی چاہتے تھے کہ آبنائے ہرمز میں نئی جنگ کے ذریعے خطے میں انقلاب کی مقبولیت کے اصول کو درہم برہم کر دیں لیکن ایک بار پھر اُسی ایران سے شکست کھا گئے جس کے بارے میں وہ کہتے تھے کہ نہ اس کے پاس فضائیہ ہے اور نہ بحریہ۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج ملک کے شمال مغربی علاقے میں ایک اور مرصاد آپریشن کی تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی بری فوج کے کمانڈر نے کہا ہے کہ مسلح افواج کی تیاری اور مختلف محاذوں پر موجود جنگجوؤں کے لیے ایرانی عوام کی حمایت نے قومی یکجہتی کو مزید مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے دشمنوں کے تمام حساب کتاب کو ناکام بنا دیا ہے۔
تہران کے محمد رسول اللہ (ص) آئی آر جی سی کمانڈر نے کہا ہے کہ بسیج (رضاکار فورس) ٹریننگ، لچک اور ہمہ گیر تیاری جیسی خصوصیات کے باعث مختصر ترین وقت میں کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو سکتی ہے اور اس کے مطابق ضروری ڈھانچے تشکیل دے سکتی ہے۔
آئی آر جی سی کے ترجمان نے کہا ہے: ہم نے دشمن کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے مدنظر تمام اہداف سے تیزی کے ساتھ پسپائی اختیار کرے اور آج وہ اپنی تمام تر توجہ آبنائے ہرمز کو کھولنے پر مرکوز کر رہا ہے۔ ہماری موجودہ حکمتِ عملی یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام کو اس وقت تک برقرار رکھا جائے جب تک دشمن ہماری تمام شرائط تسلیم نہیں کر لیتا اور اپنی شکست کا اعتراف نہیں کر لیتا۔