آبنائے ہرمز کی صورتحال معمول پر واپس نہیں آئے گی، جنرل محبی
دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کے سپاہ پاسداران کے نائب سربراہ برائے تعلقاتِ عامہ اور ترجمان، جنرل حسین محبی نے آج 09 اگست، کرمان کے گلزارِ شہداء میں مدافعانِ حرم کے شہداء کے دن کی مناسبت سے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اور یومِ صحافت کی مبارکباد دیتے ہوئے مزاحمت کے سیدالشہداء، لیفٹیننٹ جنرل شہید حاج قاسم سلیمانی کے مزار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: خوش قسمتی سے صحافیوں نے جنگِ رمضان اور اسی طرح ۱۲ روزہ مسلط کردہ جنگ کے دوران انتہائی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

جنرل محبی نے کہا کہ صحافیوں کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک فتح کا ادراک پیدا کرنا اور عوام کے نزدیک مزاحمت کے ادراک کو فروغ دینا ہے، اور مزید کہا: صحافیوں نے مزاحمت اور ثابت قدمی کی ثقافت، دشمن کا مقابلہ کرنے اور دشمن ستیزی کے فروغ اور توسیع کے میدان میں انتہائی عمدہ کردار ادا کیا ہے۔ اگر ہمیں عوام کو میدان میں برقرار رکھنے اور عوام کے مختلف طبقات کے درمیان اتحاد، ہم آہنگی اور باہمی تعاون پیدا کرنے میں کوئی کامیابی حاصل ہوئی ہے تو یہ صحافیوں اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کی محنتوں کی مرہونِ منت ہے۔
انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ آج جنگ کا ایک انتہائی مؤثر محاذ میڈیا کا میدان ہے، کہا: صحافی درحقیقت اس محاذ کے جنگی افسر ہیں؛ ایسا محاذ جو صرف واقعات کا راوی یا محض خبروں کی کوریج کا ذریعہ نہیں بلکہ ادراک پیدا کرنے، حقیقت دکھانے اور عوام کے لیے پوشیدہ حقائق کو آشکار کرنے کا میدان ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے سپاہ پاسداران کے ترجمان نے مزید کہا: صحافی، ایرانی عوام کے عزم، ایرانی قوم کی ناقابلِ شکست حیثیت اور اس قدیم قوم کی ثقافت کو جسے اسلامی ثقافت نے مزید تقویت دی ہے، دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اور اس ثقافت کے عملی مظہر کو میدان میں، سڑکوں پر عوام کی موجودگی، محاذ پر مجاہدین کی موجودگی اور ان دونوں کے باہمی ربط کے ذریعے پوری دنیا کے سامنے اجاگر کرتے ہیں۔
جنرل محبی نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی شکست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ واحد ایسی جنگ ہے جس میں امریکہ بغیر کسی کامیابی یا حصول کے اپنی شکست تسلیم کر رہا ہے اور بلاشبہ اس کامیابی اور فتح کا ایک حصہ صحافیوں اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کی محنتوں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے یومِ صحافت کو شہید صارمی کے نام سے منسوب کیے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا: آج تک ہمارے پاس ’’یومِ صحافت‘‘ کے نام سے ایک دن تھا لیکن آج ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہر دن یومِ صحافت ہو سکتا ہے اور ہمیں ہر روز صحافیوں کو مبارکباد دینی چاہیے کیونکہ وہ ہر روز ایرانی عوام کے عزم، مزاحمت اور شجاعت کی ایک نئی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اور دشمن کو اس نتیجے تک پہنچا چکے ہیں کہ اسے ایرانی قوم کے عزم کے سامنے گھٹنے ٹیکنے ہی ہوں گے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے سپاہ پاسداران کے تعلقاتِ عامہ کے نائب سربراہ نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں موجودہ حکمتِ عملی کے تسلسل پر زور دیتے ہوئے کہا: ہماری موجودہ حکمتِ عملی، گزشتہ حکمتِ عملیوں کا تسلسل ہے اور مزاحمت کو ہمیشہ اور تا ابد جاری رکھنا اور دشمن کو شکست دینا ہماری ناقابلِ تبدیل حکمتِ عملی ہے۔
جنرل محبی نے کہا: ہم نے اس وقت دشمن کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے مدنظر تمام اہداف سے تیزی کے ساتھ پسپائی اختیار کرے اور وہ آج اپنی تمام تر توجہ آبنائے ہرمز کو کھولنے پر مرکوز کر رہا ہے جبکہ یہ آبنائے ہمارے لیے صرف ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ ایک جنگی جغرافیہ ہے۔
انہوں نے آخر میں زور دیتے ہوئے کہا: ہماری موجودہ حکمتِ عملی اس آبنائے کو اس وقت تک اپنے کنٹرول میں رکھنا ہے جب تک دشمن ہماری تمام شرائط تسلیم نہیں کر لیتا، جب تک وہ اپنی شکست کا اعتراف نہیں کر لیتا اور جب تک وہ آبنائے ہرمز پر ہماری طاقت اور ہماری ملکیت کو تسلیم نہیں کر لیتا۔
