العدید میں دشمن کا مضبوط دفاع بھی ایرانی فضائی آپریشنز کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکا، جنرل جعفری

ایرانی فضائیہ کے سابق کوآرڈینیشن ڈپٹی کمانڈر بریگیڈیئر جنرل پائلٹ مسعود جعفری نے کہا ہے کہ قطر کے العدید ایئر بیس پر امریکی دفاعی حصار انتہائی مضبوط ہونے کے باوجود ایرانی فضائیہ کے سوخو-24 طیاروں کے آپریشن کو نہیں روکا جا سکا۔ ان کے مطابق العدید کے گرد موجود فضائی اور بری ڈیفنس سسٹمز کے باوجود ایرانی پائلٹس نے انتہائی خطرناک اور پیچیدہ مشن کامیابی سے انجام دیا۔
خبر کا کوڈ: 6141
تاریخ اشاعت: 07 August 2026 - 07:38 - 29October 2647

دفاع پریس کے مطابق امیر مسعود جعفری نے فضائیہ کے سابق آپریشنز ڈپٹی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل پائلٹ شہید عباس بابائی کی برسی کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے تیسری مسلط کردہ جنگ کے دوران ایرانی فضائیہ کی کارروائیوں اور جنگی مشنز کی تفصیلات بیان کیں۔

جنرل جعفری

سوخو-24 طیاروں کا العدید مشن

جنرل جعفری نے بتایا کہ ایرانی فضائیہ کی جانب سے کئی اہم آپریشنز انجام دیے گئے، تاہم ابتدا میں فوج نے ان کارروائیوں کو میڈیا کے سامنے لانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھا تھا کیونکہ ان کے بقول یہ ایرانی مسلح افواج کی بنیادی ذمہ داری تھی اور ان اہلکاروں کو انہی حالات کے لیے ٹرین کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے ان کارروائیوں کو نمایاں کیا بالخصوص ایک ایسے آپریشن کو جس میں 1970ء کی دہائی کے تھرڈ جنریشن طیارے نے کویت میں امریکی اڈوں کے دفاعی حصار کو توڑا۔

ان کے مطابق ایک انتہائی اہم مشن شہید دوران ایئر بیس سے دو سوخو-24 جنگی طیاروں کو دیا گیا تھا جن کو شیراز سے پرواز کر کے خطے میں امریکی فضائی مرکز یعنی سینٹکام کے مرکز کو نشانہ بنانا تھا۔

جنرل جعفری کے مطابق یہ انتہائی حسّاس اور خطرناک مشن تھا کیونکہ انٹیلیجنس اور آپریشنل جائزوں میں العدید کے گرد انتہائی مضبوط دفاعی حصار موجود ہونے کی نشاندہی کی گئی تھی۔ العدید خطے میں امریکی فضائیہ کا ایک بڑا اڈہ تھا اور اسے امریکی THAAD اور Patriot ائیر ڈیفنس سسٹمز سمیت متعدد دفاعی وسائل سے تحفظ حاصل تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ سینٹکام اور قطری فضائیہ کے طیارے جنگ کے آغاز سے ہی مختلف بلندیوں پر 24 گھنٹے فضائی گشت کر رہے تھے جس کے باعث ایرانی پائلٹس کو اندازہ تھا کہ انہیں انتہائی مشکل اور خطرناک مشن درپیش ہے۔

خلیج فارس کے اوپر انتہائی نچلی پرواز

جنرل جعفری کے مطابق ایرانی طیاروں کو خلیج فارس عبور کرتے ہوئے انتہائی نچلی سطح پر پرواز کرنا تھی تا کہ دشمن کے ریڈار سے بچا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ساحلی علاقوں اور پہاڑی خطوں سے فائدہ اٹھانے کے بعد جب طیارے سمندر کے اوپر پہنچتے تو محاسبات کے مطابق انہیں قطر تک تقریباً 100 فٹ کی بلندی پر پرواز جاری رکھنا تھی اور پائلٹس نے یہی حکمت عملی اختیار کی۔

ان کے بقول ایرانی طیارے تھرڈ جنریشن کے تھے جبکہ مخالف فریق کے پاس فورتھ جنریشن پلس اور ففتھ جنریشن طیارے موجود تھے۔ اس کے باوجود زمینی اور ائیر ڈیفنس سسٹمز کی کثرت اور ٹیکنالوجی کے واضح فرق نے ایرانی پائلٹس کے عزم کو متزلزل نہیں کیا۔

جنرل جعفری نے کہا کہ تمام پائلٹس نے انتہائی حوصلے اور شجاعت کے ساتھ مشن کو قبول کیا اور اسے انجام دیا۔

تین پائلٹس کی صورتحال تاحال واضح نہیں

ایرانی فضائیہ کے عہدیدار نے بتایا کہ اس مشن کے بعد شہید کاظمی کی لاش کچھ عرصے بعد ایران واپس لائی گئی، تاہم دیگر تین پائلٹس کی صورتحال تاحال مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج، مسلح افواج کے جنرل اسٹاف اور وزارتِ خارجہ اس حوالے سے رابطے اور معلومات کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ امید ہے کہ یہ تینوں پائلٹ بحفاظت اپنے وطن واپس لوٹ آئیں گے۔

جنرل جعفری نے شہید عباس بابائی اور شہید دوران کی جنگی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی اعلیٰ عہدے اور ذمہ داریاں ان شخصیات کو خطرناک جنگی مشنز انجام دینے سے نہیں روک سکیں۔

ان کے مطابق شہید بابائی نے آپریشنل ذمہ داری پر فائز ہونے کے باوجود خود جنگی مشن میں شرکت کی جبکہ شہید دوران نے بغداد میں غیر وابستہ ممالک کی کانفرنس کے مقام کے خلاف انتہائی خطرناک مشن انجام دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بغداد کا اُس وقت کا دفاعی حصار موجودہ العدید کے دفاعی حصار کے مقابلے میں کہیں کمزور تھا۔

العدید کو کیوں نشانہ بنایا گیا؟

جنرل جعفری نے کہا کہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور بالخصوص فضائی تنصیبات کی توسیع کئی برسوں سے جاری تھی۔ متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کی توسیع پر ایرانی انٹیلیجنس ادارے مسلسل نظر رکھے ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی فضائیہ، مسلح افواج کے جنرل اسٹاف اور انٹیلیجنس شعبے نے ان تنصیبات کی نگرانی کی اور ممکنہ جنگی صورتحال کے لیے پہلے ہی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔

ان کے مطابق ایران کو معلوم تھا کہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی یہ توسیع بنیادی طور پر ایران کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جارہی ہے، اسی لیے ان تنصیبات کے خلاف ممکنہ آپریشنز کے لیے پیشگی تیاری کی جا چکی تھی۔

مشن کی شہید دوران کے تاریخی آپریشن سے تشبیہ

جنرل جعفری نے کہا کہ شیراز کے شہید دوران ایئر بیس سے روانہ ہونے والے چار ایرانی پائلٹس نے اس خطرناک مشن کو اسی جذبے کے ساتھ قبول کیا جس طرح شہید عباس دوران نے 1982ء میں ایک انتہائی خطرناک آپریشن انجام دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی ایرانی مسلح افواج کے لیے باعثِ فخر ہے اور ان لوگوں کی خدمات ملک کی اس عوام کے نام ہے جو کئی ماہ سے میدان میں موجود ہیں۔

پائلٹس کے زندہ ہونے کے امکانات

سوخو-24 میں دو پائلٹس کی موجودگی کے حوالے سے جنرل جعفری نے کہا کہ طیارے سے نکلنے یا طیارے کے نشانہ بننے کے حالات انتہائی پیچیدہ ہوتے ہیں اور ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں دونوں پائلٹس کے ساتھ مختلف واقعات پیش آسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں کہ ایک پائلٹ کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ دوسرے پائلٹ کے ساتھ بھی پیش آیا ہو۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دیگر تین لاپتہ پائلٹ زندہ ہوں اور بحفاظت اپنے اہل خانہ کے پاس واپس پہنچیں۔

جنرل جعفری نے لاپتہ پائلٹس کے اہل خانہ کے صبر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان خاندانوں کے لیے صورتحال انتہائی مشکل ہے اور وہ اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں۔

امریکی ریڈار ایرانی طیاروں کا سراغ کیوں نہ لگا سکے؟

جنرل جعفری نے کہا کہ ممکن ہے امریکی ریڈارز نے ایرانی طیاروں کی موجودگی کا بر وقت سراغ نہ لگایا ہو یا بعض مشنز کے دوران ریڈارز بند ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پابندیوں کے ماحول میں کام کرنے کی وجہ سے ایرانی فضائیہ کے پائلٹ بغیر GPS اور جدید نیویگیشن سسٹمز کے بھی جنگی مشنز انجام دینے کی ٹریننگ رکھتے ہیں اور نقشہ خوانی اور بنیادی رہنمائی کے طریقوں سے طیارے اڑانے کی مسلسل مشق کرتے رہے ہیں۔

ان کے مطابق ممکنہ طور پر ایرانی طیاروں کی جانب سے ریڈیو سگنلز یا دیگر نشانیوں کا نہ ہونا بھی اس آپریشن میں ایک اہم عنصر تھا۔

جنرل جعفری نے کہا کہ ممکن ہے دشمن نے ابتدائی دنوں میں یہ تصور ہی نہ کیا ہو کہ ایرانی فضائیہ اس نوعیت کے خطرناک مشن کو انجام دینے کی صلاحیت اور جرات رکھتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کویت کو نشانہ بنائے جانے کے بعد دشمن کا ڈیفنس سسٹم الرٹ ہوا جبکہ واپسی کے دوران کویت کے ڈیفنس سسٹمز کی فائرنگ سے تین امریکی F-15 طیارے بھی بیک وقت زد میں آ گئے۔

ان کے بقول شاید دشمن یہ تصور نہیں کر رہا تھا کہ کوئی ایرانی جنگی طیارہ اس کے دفاعی حصار کے اتنے قریب پہنچنے کی جرأت کر سکتا ہے، تاہم ایرانی فضائیہ کے پائلٹس نے یہ مشن کامیابی سے انجام دیا۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں