حماس کو غیر مسلح کرنے کی سازش کو اسٹریٹجک ناکامی کا سامنا ہوگا، آئی آر جی سی

سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی نے اپنے ایک بیان میں اس بات پر تاکید کی کہ انقلاب کے شہید رہبر اور شہید اسماعیل ہنیہ کے خون کا بدلہ لینا یقینی ہے اور ان بڑے جرائم کا جواب سخت اور فیصلہ کُن ہوگا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کی سازش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔
خبر کا کوڈ: 6129
تاریخ اشاعت: 02 August 2026 - 21:51 - 24October 2647

دفاع پریس کے دفاعی اور سیکیورٹی رپورٹر کے مطابق، سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی نے حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ شہید اسماعیل ہنیہ کی دوسری برسی کے موقع پر جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس عظیم رہنما کی شہادت نے فلسطینی عوام اور حماس کے مجاہدین کے عزم و ارادے کو مزید مضبوط کیا، مزاحمت کے مؤقف کو گہرائی بخشی اور دنیا بھر میں فلسطین کی حمایت کی لہر کو مزید وسعت دی۔

شہید اسماعیل ہنیہ

بیان کے ایک حصے میں کہا گیا ہے کہ شہید اسماعیل ہنیہ کو تہران میں اس وقت نشانہ بنانا، جب وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کی تقریبِ حلف برداری میں سرکاری مہمان کی حیثیت سے شریک تھے، ایک عظیم جرم اور بین الاقوامی قانون، قومی خودمختاری اور اسلامی جمہوریہ ایران کی علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی تھی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ صیہونی حکومت کی جانب سے شیخ اسماعیل ہنیہ کے قتل کو دو سال گزرنے، غزہ میں نسل کشی اور صیہونی مظالم کے تسلسل، جنوبی لبنان تک جنگ اور جارحیت کے پھیلاؤ اور بعد ازاں امریکہ کے بدکردار اور شیطانی صفات کے حامل صدر اور اس ملک کی دہشت گرد فوج کی معاونت سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگوں کے آغاز کے بعد، آج اس حکومت کی دہشت گرد اور مجرمانہ ماہیت پہلے سے کہیں زیادہ دنیا پر آشکار ہو چکی ہےا۔ بیان کے مطابق امریکہ اور بعض دیگر مغربی ممالک کی ہمہ جہت عسکری اور سیاسی حمایت اور خطے کی بعض "رجعت پسند" حکومتوں کی ہم آہنگی اور معاونت نے انہیں ان جرائم میں شریک بنا دیا ہے جس کے باعث صیہونی حکومت کی نسل کشی اور جنگی جرائم کے حوالے سے ان کی بین الاقوامی ذمہ داری بھی اجاگر ہوتی ہے۔

بیان میں ایرانی اور فلسطینی شہداء کے پاک خون کے امتزاج کو جو بیت المقدس کی آزادی اور اسلامی اقدار کے دفاع کی راہ میں بہایا گیا، بالخصوص امت کے شہید قائد امام سید علی خامنہ‌ای (اعلیٰ اللہ مقامہ الشریف)، شہید اسماعیل ہنیہ، شہید سید حسن نصر اللہ، شہید لیفٹیننٹ جنرل حاج قاسم سلیمانی اور دیگر شہدائے مزاحمت کا ذکر کرتے ہوئے ان کے خون کو مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی ضمانت قرار دی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ آج سامراج اور صیہونیت مخالف مزاحمتی موقف بین الاقوامی سطح پر غیر معمولی قوت اور اثر و رسوخ حاصل کر چکا ہے۔ دنیا بھر میں فلسطینی عوام کی حمایت اور صیہونی حکومت کے جرائم کے خلاف ہونے والے وسیع احتجاج اس بات کا ثبوت ہیں کہ دنیا کے بیدار ضمیر، انسانی حقوق کے جھوٹے دعویداروں کے پروپیگنڈے میں نہیں آئیں گے۔

بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ انقلاب کے شہید رہبر اور شہید اسماعیل ہنیہ کے خون کا بدلہ لینا یقینی ہے اور ان عظیم جرائم کا جواب سخت اور فیصلہ کُن ہوگا۔ بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کی سازش نہ صرف کامیاب نہیں ہوگی بلکہ وہ پہلے ہی ناکام ہو چکی ہے۔ مزید کہا گیا کہ شہید ہنیہ کا راستہ عزت، وقار اور آزادی کا راستہ ہے اور یہ جدوجہد فلسطین کے مقاصد کی مکمل تکمیل اور بیت المقدس کے غاصبوں کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ بیان میں عالمی برادری کو یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی کہ صیہونیت مخالف مزاحمت کی سربلندی ناقابلِ شکست ہے اور اللہ کے فضل سے فلسطین کی حتمی فتح دشمنوں کے تصور سے کہیں زیادہ قریب ہے۔

آپ کی رائے
captcha
ناظرین
تازہ ترین خبریں