شہید رہبر کے پاکیزہ خون کا انتقام قومی سلامتی کا دفاع ہے، جنرل میراحمدی
دفاعی اور سیکیورٹی گروپ کے مطابق، چیئرمین جنرل اسٹاف آف آرمڈ فورسز کے مشیر جنرل سید مجید میراحمدی نے دفاع پریس کے رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے شہید رہبرِ انقلاب اسلامی کے پاکیزہ خون کے انتقام کے موضوع پر مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا اور اسے محض ایک ذاتی مسئلہ قرار دینے کو مسترد کرتے ہوئے کہا: اس عظیم جرم کے جذباتی پہلو کے پیش نظر ایرانی عوام، عالمِ اسلام بالخصوص شیعہ مسلمانوں اور دنیا بھر کے تمام حریت پسندوں کا یہ مؤقف ہے کہ اس عظیم جرم کے مقابلے میں انتقام لیا جانا چاہیے اور مجرموں کو سزا دی جانی چاہیے۔

جنرل میراحمدی نے شہید رہبرِ انقلاب اسلامی کے خون کے انتقام کے قرآنی پہلو کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اگر کوئی شخص ظلم، جرم یا قتل کا ارتکاب کرے تو اسے اسی جرم کے مطابق سزا دی جائے۔ لہٰذا اس عظیم جرم کے منصوبہ سازوں اور مرتکب افراد کو قرآن کے حکم کے مطابق اسی انداز میں سزا ملنی چاہیے جس انداز میں انہوں نے یہ جرم انجام دیا۔ رہبرِ معظم انقلاب اسلامی (مدظلہ العالی) کے پیغام میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ دنیا کے حریت پسند ان مجرموں کو سکون سے نہیں رہنے دیں گے اور انہیں آرام دہ موت یا بستر پر مرنا نصیب نہیں ہوگا۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور یقیناً پورا ہو کر رہے گا۔
چیئرمین جنرل اسٹاف آف آرمڈ فورسز کے مشیر نے اس قسم کے جرائم کے منفی اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا: اگر ہم ایسے مجرمانہ اقدامات پر مناسب ردعمل کا اظہار نہ کریں تو ہمارے ملک پر دہشت گردی اور خطرات کا سایہ ہمیشہ برقرار رہے گا، جب تک دشمن یہ نہ سمجھ لے کہ اس کے اقدامات کا عملی اور مناسب جواب دیا جائے گا۔ لہٰذا خطرہ اسی وقت ملک سے دور ہوگا جب وہ حقیقی معنوں میں، نہ کہ محض نعروں کی حد تک، سنجیدہ خطرہ محسوس کرے اور اس عزم کو عملی صورت میں دیکھے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انتقام کا مسئلہ دراصل قومی سلامتی اور ملکی سالمیت کے دفاع کا مسئلہ ہے اور کہا: افسوس کہ بعض لوگ، دانستہ یا نادانستہ، دشمن کی باتوں کو دہراتے ہوئے اس معاملے کو ذاتی رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ شہید رہبرِ انقلاب اپنے مقام کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے نہایت عزیز، پاکیزہ اور صالح بندوں میں سے تھے لیکن انتقام اور خون خواہی صرف ایک ذاتی معاملہ نہیں بلکہ ایک قومی مسئلہ اور پوری امتِ اسلام سے متعلق معاملہ ہے۔
جنرل میراحمدی نے شہید رہبرِ انقلاب کے بڑے صاحبزادے آیت اللہ سید مصطفیٰ خامنہای کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: انہوں نے اس معاملے میں صبر کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ صبر کا مطلب اس حق پر ثابت قدم رہنا اور اس راستے میں ثابت قدمی کو اختیار کرنا ہے۔ تاہم، ان شاء اللہ یہ معاملہ اپنے مقررہ وقت پر ضرور پایۂ تکمیل تک پہنچے گا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا یقینی وعدہ ہے۔
